BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 February, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد
 

 
 
گجرات میں حالات مسلمانوں کے لیے اب بھی سازگار نہیں ہیں
انڈیا کی ریاست گجرات میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے گجرات فسادات کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا تھا کیونکہ تقریبًا ڈھائی ہزار مسلمانوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ یا تو قتل کیا گیا یا پھر زندہ جلا دیا گیا۔

پانچ سال مکمل ہونے پر گجرات کی ریاست احمد آباد میں چھبیس فروری سے تین مارچ تک شہر میں مرنے والوں کی یاد میں اور انصاف کو ترستے مظلوموں کی آواز دنیا تک پہچانے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سٹیزن فار پیس اینڈ جسٹس کی رضاکار تیستا سیتلواد کا کہنا ہے کہ یہ تمام سماجی تنظیموں کی جانب سے دنیا کو یہاں کے مسلمانوں کی حالت زار اور ریاستی حکومت کی مجرمانہ جانبداری اور مسلمانوں کے تئیں غفلت سے روشناس کرانے کی کوشش ہے۔

ریاست گجرات میں سن دو ہزار دو میں بڑے پیمانے پر فساد اس وقت شروع ہوئے تھے جب ستائیس فروری سن دو ہزار دو میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں گودھرا کے قریب آگ لگی جس میں 59 ہندو جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حادثے کے بعد گجرات کے مسلم اکثریتی علاقوں ہود ، ضلع آنند، شیخ محلہ، سردار پورہ، گلبرگ سوسائٹی ، نرودا گاؤں، نرودا پاٹیااور کالو پورہ میں منظم طور پر مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہوئی۔ تقریبًا پچیس ہزار کے قریب مسلمانوں کے گھر اجاڑ دیے گئے اور آج بھی پانچ سو کے قریب لوگ لاپتہ ہیں لیکن حکومت کے ریکارڈ کے مطابق ان کی تعداد دو سو ہے۔

خوف کے سائے میں جینے پر مجبور
گجراتی مسلمان اپنی ہی ریاست میں مہاجروں کی طرح جینے پر مجبور ہیں۔ گلبرگ سوسائٹی، نرودا پاٹیا کے مکین آج بھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے ہیں۔ بیہوریل سائنس سینٹر کی قانونی مشیر رضوانہ بخاری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’بیشتر مسلمان ڈرے سہمے ہیں۔ وہ اگر کہیں کام کے لیے جاتے ہیں یا کہیں گھر لینا چاہتے ہیں تو پہلے ان سے ان کا نام پوچھا جاتا ہے۔ مسلمان یہاں دوسرے درجے کے شہری بنا دیے گئے ہیں‘۔

گودھرا ٹرین
27 فروری سن دو ہزار دو کو سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں گودھرا کے قریب آگ لگی تھی

رضوانہ بخاری کے مطابق گلبرگ سوسائٹی اور نرودا پاٹیا کے مکینوں کے لیے چند تنظیموں نے فیصل پارک اور ایکتا نگر سوسائٹی بنا کر تقریبًا سو لوگوں کو مکانات دیے ہیں جہاں یہ اپنا چھوٹا موٹا کام کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں شہری سہولیات کا بھی فقدان ہے جس کے لیے سماجی تنظیموں نے حکومت پر مجرمانہ غفلت برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پورے گجرات میں اس طرح کے باز آباد کاری کیمپ ہیں جو بےگھر لوگوں کی پناہ گاہ ہیں۔

بے گھر لٹے افراد کو ریاستی حکومت نے پچاس ہزار روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا تھا لیکن یہ رقم بھی ان تک نہیں پہنچی اور مرکزی حکومت نے فی کس سات لاکھ روپے کی امداد دی تھی جسے ریاستی حکومت نے کچھ خرچ کرنے کے بعد یہ کہہ کر واپس کر دی کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس (سی جے پی) نامی تنظیم نے اس سلسلہ میں گجرات ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متاثرین کو یہ امداد حکومت نہیں بلکہ حقوق انسانی تنظیموں کی نگرانی میں دی جانی چاہیئے۔

28 فروری کی خونی تاریخ
 گلبرگ سوسائٹی میں اٹھائیس فروری سن دو ہزار دو میں 68 لوگوں کو قتل کرکے انہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ان میں موجود دس سے پندرہ لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی۔
 

فرقہ پرستی کا زہر
گجرات میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتی خلیج اب صاف دکھائی دے ہے۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ سکولوں میں انہیں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ نجی ادارے اپنے یہاں مسلمانوں کو ملازمت نہیں دے رہے ہیں۔ اکثر نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر وہ اپنے علاقوں میں واپس آکر رہنا چاہتے ہیں تو پہلے ان پر دائر کیس پولیس سے واپس لیں۔ رضوانہ بخاری کے مطابق کئی لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے اپنی آبائی جائیدادیں تک ہندوؤں کے حوالے کرنی پڑی ہیں۔

امتیازی سلوک
گودھرا ٹرین آتشزنی معاملے کے 84 ملزمین پوٹا قانون کے تحت گزشتہ پانچ برسوں سے بغیر ضمانت جیلوں میں بند ہیں جبکہ گودھرا کے بعد قتل عام کے ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں اور عدالت میں پولیس انہیں مفرور قرار دے رہی ہے۔ دہلی میں مقیم حقوق انسانی کے وکیل کولن گونزالویز نے سپریم کورٹ میں جرح کی تھی کہ جس ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، اسی فرقہ کے لوگوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ اس جرح کے بعد سپریم کورٹ نے پوٹا کے تحت قیدیوں کو ضمانت کی اپیل داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پوٹاکے تحت گرفتار ملزمان کی املاک ضبط کی جاچکی ہیں لیکن اس کے برعکس فسادات کے ملزمان کی جائیداد کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔

گلبرگ سوسائٹی کیس
گلبرگ سوسائٹی میں اٹھائیس فروری سن دو ہزار دو میں 68 لوگوں کو قتل کرکے انہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ان میں موجود دس سے پندرہ لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی۔ جس کے بعد سابق ممبر پارلیمینٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے گجرات کے وزیر اعٰلی نریندر مودی، بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو ہندو پریشد کے خلاف جرمانے کے لیے شہری مقدمہ داخل کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ان سب کے خلاف اعلٰی پیمانے پر مجرمانہ سازش کرنے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے۔

بیسٹ بیکری
انصاف کے لیے داخل مقدمات
حکومت گجرات پر الزام عائد کیا گیا کہ پولیس اور حکومت کی ملی بھگت کے باعث مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ پولیس نے کئی کیس یہ کہہ کر بند کردیے کہ ملزم فرار ہیں یا پھر ان کے خلاف کیس اس طرح بنایا کہ وہ عدالت سے بری ہو گئے۔ متاثرین کی گواہی تک نہیں لی گئی۔

قومی حقوق انسانی کمیشن نے اس کا سخت نوٹس لیا اور یکم ستمبر سن دو ہزار تین میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کمیشن نے بیسٹ بیکری کیس کو گجرات سے مہاراشٹر منتقل کرنے اور ساتھ ہی گودھرا ٹرین آتشزنی، نرودا پاٹیا، گلبرگ سوسائٹی قتل عام کیس کی بھی از سر نو تفتیش اور ان کیسوں کو گجرات سے منتقل کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔

اس میں سی جے پی نے مداخلت کی اور قتل عام سے بچ جانے والے پینسٹھ افراد کا بھی حلف نامہ منسلک کر دیا۔ مذکورہ تنظیم نے نرودا پاٹیا اور سردار پورہ کا بھی کیس اس میں شامل کیا۔

بیسٹ بیکری کیس کی مہاراشٹر میں منتقلی ہوئی تھی اور خصوصی عدالت نے ظہیرہ شیخ اور اس کی ماں اور بہنوں کے ساتھ اس کے بھائی کو بھی سزا سنائی ہے۔ سپریم کورٹ میں ظہیرہ پر حلف لے کر عدالت میں جھوٹی گواہی دینے کا مقدمہ چل رہا ہے جس کی حتمی سماعت شاید بیس مارچ کو ہوگی۔

حکومت کی شرمناک چال
حکومت نے عدالتوں میں اپنی جانب سے سرکاری وکیل کے طور پر ایسے وکلاء کو نامزد کیا ہے جو پہلے سے فساد کے ملزمان کے وکیل رہ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چلنے والے ایک مقدمے میں ریاستی حکومت نے ونود ڈی گجر کو بحیثیت وکیل نامزد کیا ہے جو گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے تئیس ملزممان کے وکیل بھی ہیں۔

پولیس پر الزام ہے کہ وہ گواہان کو پریشان کر رہی ہے اور ان کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

کیڈیاڈ میں اکسٹھ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ سی جے پی نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف کیس دائر کیا ہے۔ سی جے پی نے پنڈھرواڑہ میں پینتالیس افراد کے قتل عام کی بھی از سر نو تفتیش کرنے اور کیس کو گجرات سے باہر منتقل کرنے کے لیے عرضداشت داخل کی ہے۔

پنچ محل ضلع کے پنڈھرواڑہ علاقہ میں جب ستائیس دسمبر سن دو ہزار پانچ کو اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا تو یہ بھید کھلا کہ لوگ لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔ اس قبر میں سے اکیس لاشوں کی ہڈیوں کو زمین سے نکالا گیا۔ سی جے پی کے رابطہ کار رئیس خان کی موجودگی میں جب یہ قبر کھودی گئی تو پتہ چلا کہ کس طرح لوگوں کو اجتماعی طور پر قتل کر کے لاشوں کو ایک ساتھ زمین میں دبا دیا گیا تھا۔ اس معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کررہی ہے۔

سی جے پی رضاکار تیستا کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت نے سی جے پی ممبران کے خلاف بدلے میں فرضی کیس دائر کیے ہیں۔

مسلمانوں کی نسل کشی
 گودھرا ٹرین حادثے کے بعد گجرات کے مسلم اکثریتی علاقوں ہود ، ضلع آنند، شیخ محلہ، سردار پورہ، گلبرگ سوسائٹی ، نرودا گاؤں، نرودا پاٹیااور کالو پورہ میں منظم طور پر مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہوئی۔
 
جسٹس ناناوتی کمیشن
فسادات اور گودھرا حادثے کی تحقیقات کے لیے مختص جسٹس ناناوتی شاہ کمیشن کی تفتیش جاری ہے لیکن سماجی تنظیموں اور خود کمیشن کا الزام ہے کہ حکومت اور بعض اعلٰی پولیس عہدیدار کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

سٹیزن فار پیس اینڈ جسٹس (سی جے پی) اور اس کی صحافی تیستا سیتلواد، قومی حقوق انسانی کمیشن اور گجرات کی مختلف سماجی تنظیمیں ایک لمبی قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ وہ گجرات میں مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن ریاست میں ہندوتوا کا زور ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ دو ہزار کے نسل کشی کے شرمناک واقعات کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ختم نہیں ہوئے ہیں۔ دو ہزار پانچ میں وڈودرہ میں فساد شروع ہوا جب رفیق عبدالغنی نامی شخص کو لوگوں نے زندہ جلا ڈالا۔

یکم مئی کو ہی وڈودرہ میں وہاں کی کارپوریشن نے 385 سالہ پرانی درگاہ حضرت رشیدالدین کو منہدم کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گودھرا حادثے کے فورًا بعد مسلمانوں کی کم از کم دو سو ستر درگاہوں کو منہدم کیا گیا ہے۔

گجرات میں حالات مسلمانوں کے لیے اب بھی سازگار نہیں ہیں۔ ہندوتوا طاقتیں عروج پر ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار اور سماجی اور سیکولر تنظیموں کا خیال ہے کہ اگر یہاں کے حالات کو نہیں بدلا گیا تو مستقبل میں مسلمانوں کے لیے یہاں رہنا بہت مشکل ہوجائے گا اور سیکولر انڈیا کا امیج بد سے بدتر ہوتا جائے گا۔

 
 
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟امکانات سے بھرپور
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟
 
 
واجپائیواجپئی کا یوٹرن
اچانک نریندر مودی کی مخالفت کیوں؟
 
 
گودھرا انکوائری
ٹرین میں آتشزدگی ایک حادثہ تھی: رپورٹ
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد