http://www.bbc.com/urdu/

Monday, 12 March, 2007, 15:41 GMT 20:41 PST

خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلًی

جسٹس بھگوان داس کہاں ہیں؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئر جج رانا بھگوان داس آج کل ہندوستان کے دورے پر ہیں تاہم انکے دورے سے متعلق کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ حالانکہ انکے دورے کے بارے تمام حلقوں میں قیاس آرائیاں ضرور ہو رھی ہیں۔

ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘

اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ جسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع ضرور ہوگی لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

لندن سے بی بی سی نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی ہندوستان میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، تاہم سری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘

اس قبل کراچی میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف وکلاء کے احتجاجی مظاہرے میں مقررین نے کہا کہ کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی نے جسٹس بھگوان داس سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا دورہ مختصر کرکے پاکستان آجائیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سنبھال سکیں۔

ہندوستان میں سرکاری حلقے بھی جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان دورے کے بارے میں خاموش ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت دلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اس ہوٹل سے رابط قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ جسٹس بھگوان داس وہاں نہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ میں بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس ہندوستان دورے پرآئے تھے لیکن اب وہ واپس پاکستان جا چکے ہیں۔

مانا یہ جارہا ہے کہ وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ چھٹی مننانے ہندوستان آئے ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف کےذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے تذکرے ہندوستان کے اخبارات میں ہورہے ہیں ۔ اخبارات نے چیف جسٹس افتخار چودھری کے معطلی کو غیر جمہوری اور ’جنرل ان جسٹس‘ یعنی ’عام انصافی‘ قرار دیا ہے۔

اخبارات نے مزید لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کو ان کے عہدے سے اس لیے معطل کیا گیا کیوں کہ کیونکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی نہیں جھجکتے تھے۔