BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 18:01 GMT 23:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
خونی دروازہ اور آخری مغل
 

 
 
خونی دروازہ
دلی کے لال قلعہ سے تھوڑے فاصلے پر صدیوں پرانا خونی دروازہ 1857 کے انقلاب کی کچھ تلخ یا دیں اپنے پہلو میں سمیٹے ہے
دلی کے لال قلعہ سے تھوڑے فاصلے پر صدیوں پرانا خونی دروازہ 1857 کی جنگ انقلاب کی کچھ تلخ یا دیں اپنے پہلو میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو قتل کیا گيا تھا۔

مورخ پرفیسرمجیب اشرف اس وقت کا منظر کچھ اس طرح بتاتے ہیں۔’ تیرہ اور انیس ستمبر کے درمیان انگریزوں نے دلی کا محاصرہ کیا تھا، لاہوری گیٹ اور اجمیری گیٹ سے حملے ہوتے رہے، بالآخر انگریزوں نے لاہوری گيٹ سے پیش قدمی کی تو بہادر شاہ ظفر نے قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لی، بعض غداروں کی مدد سے کیپٹن ہڈسن نے انہیں قید کرلیا اور ان کے بیٹوں سے اپنے آپ کوحوالے کرنے کو کہا لیکن بیٹوں نے جان کی امان مانگی اور کیپٹن نے جب امان دینے سے منع کر دیا تو انہوں نے خود سپردگی سے انکار کیا‘۔

پروفیسر اشرف کے مطابق تاریخی دستاویزات میں ان باتوں کا ذکر نہیں ملتا ہے کہ ان کے بیٹے، مرزا مغل، مرزا خضر اور پوتےمرزا ابو بکر کے سر کاٹ کر تھالی میں پیش کیے گئے تھے یا ان کی لاش کو لٹگایا گيا تھا، لیکن روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی لاشوں کو خونی دروازے پر لٹکایاگيا تھا۔

مورخین کے مطابق انگریزوں نے اس وقت دلی کے فصیل بند شہر کے مکینوں پر بڑے ظلم ڈھائے تھے۔ پروفیسر مجیب کہتے ہیں کہ ہرگلی میں خوف و ہراس کا ماحول تھا۔’صرف کوچہ چیلان میں ایک دن کے اندر 1400 سے لوگوں کو ہلاک کیا گیا تھا، ایک انگریز نے یہ ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ بوڑھوں کو قتل ہوتے دیکھ کر اسے بڑا افسوس ہوتا تھا۔‘

کہا جاتا ہے کہ کیپٹن ہڈسن نے بہادر شاہ ظفر کو صدمہ پہنچانے کی غرض سے ان کی اولاد کو قتل کیا تھا لیکن بوڑھے باپ نے بیٹوں کی لاشیں دیکھیں تو وہ اور جوش میں آگئے۔ ثقافتی امور کے تجزیہ نگار فیروز بخت بتاتے ہیں۔’ جب ان کے سامنے ان کے عزیزوں کی لاشیں پیش کی گئیں تو بجائے افسردہ ہونے کے وہ اور جوش میں آگئے اور کہا کہ تیموری شہزادے اپنے باپ کے سامنے ایسے ہی سرخ رو ہوکر پیش ہوا کرتے ہیں۔‘

آخری مغل باد شاہ بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری اور ان کے بیٹوں کے قتل کا واقعہ ڈیرھ صدی پرانا ہے لیکن پرانی دلی کے بہت سے لوگ خونی دروازہ کو دیکھ کر آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔

پروفیسر اشرف کے مطابق خونی دروازہ کئی ادوار کے نشیب و فراز کا گواہ ہے لیکن اب یہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کے قتل کے لیے سبب زیادہ مشہور ہے۔’ اس دروازے کی تعمیر شیر شاہ سوری عہد میں ہوئی تھی اور یہ پرانے قلعہ کا داخلی گیٹ تھا، شہنشاہ جہانگیر نے عبدالر حیم خان خاناں کے دو لڑکوں کو اسی گيٹ پر پھانسی دی تھی، پھر اورنگ زیب نے اپنے بھائی دارا شکوہ کو بھی وہیں قتل کیا تھا لیکن خونی دروازہ اب اٹھارہ سو ستاون کے غدر کےلیے سبب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔‘

آخری مغل باد شاہ بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری اور ان کے بیٹوں کے قتل کا واقعہ ڈیرھ صدی پرانا ہے لیکن پرانی دلی کے بہت سے لوگ خونی دروازہ کو دیکھ کر آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔ بدر بیگم کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ بڑا ظلم کیا گيا، وہ اپنے ملک واپس آنے کے لیے تڑپتے رہے اور اسی کی یاد میں جان دے دی۔

اشوک کہتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر قومی یکجہتی کی علامت تھے۔‘ ان کے پرچم کے نیچے ہندوؤں اور مسلمانوں نے کندھے سے کندھا ملاکر انگریزوں سے جنگ لڑی۔‘ شمائل کہتے ہیں کہ ’انہوں نے ملک کے لیے میدان جنگ میں قدم رکھا لیکن افسوس کہ وہ سب کچھ لٹا کر کچھ نہ حاصل کر سکے‘۔

خونی دروازہ سے تاریخ کے کئی اہم پہلو جڑے ہوئے ہیں۔ اب یہ مصروف ترین روڈ کے درمیان ہے جس کے دونوں طرف تیز بھاگتی گاڑیوں کا شور بپا رہتا ہے اور بہت کم لوگ اس کی تاریخی حقیقت سمجھکر ا سےدیکھتے ہیں۔

 
 
برطانوی فوج میں ہندوستانی سپاہیمیرٹھ سے دِلّی تک
1857 کی ایک سو پچاسویں برسی پر ریلی
 
 
  1857 کی جنگ میں انڈین سپاہیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا 1857 کی جنگ
’جنگ آزادی‘ کی یاد میں لال قلعہ پر تقریب
 
 
1857 کی جنگآزادی کی پہلی جنگ
جب باغیوں نے انگریز کے خلاف تلوار اٹھا لی
 
 
1857 کی نقل مکانی
جب مہاراشٹر مسلمانوں سے آباد ہوا
 
 
اسی بارے میں
1857: آزادی کی پہلی جنگ
11 May, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد