BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 01:47 GMT 06:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
1857: آزادی کی پہلی جنگ
 

 
 
تصاویر، بشکریہ انڈین کونسل آف ہسٹورک ریسرچ
1857 کی بغاوت یا پہلی جنگ آزادی کی ابتدا میرٹھ سے ہوئی
آج سے ٹھیک ایک سو پچاس سال پہلے نو مئی اٹھارہ سو ستاون کو میرٹھ کی چھاونی میں تیسری لائٹ کیولری کے تقریبا پینتیس سپاہیوں کی برسرعام وردیاں اتار دی گئیں ۔ ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں دس سال کی قید با مشقت کی سزا سنائي گئی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے ایسے کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جن میں مبینہ طور پر گائے اور سور کی چربی ملی ہوئي تھی۔ اس واقعہ پر مشتعل ہو کر ان کے دوسرے ساتھیوں نے اگلے روز دس مئی کو سنٹ جانس چرچ میں گھس کر متعدد انگریز افسروں اور ان کے کنبہ کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جلدہی اس بغاوت نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور رات ختم ہوتے ہوتے متعدد ’فرنگی‘ موت کی نیند سو چکے تھے۔

ان باغیوں نے یہاں سے دلی کا رخ کیا جو یہاں سے چالیس میل دور تھی اور اگلے روز دلی پہنچ گئے۔ انہوں نے دریائے جمنا پر بنے کشتیوں کے پل کو پار کیا اور کلکتہ دروازہ سے فصیل بند شہر میں داخل ہوئے۔ دو پہر ہوتے ہوتے متعدد انگریز اور دیگر یورپی ا ن کی بندوقوں اور تلواروں کا نشانہ بن چکے تھے۔

بارہ اور سولہ مئی کے درمیان ان باغیوں نے عملاً لال قلعہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ لال قلعہ مغل تہذیب اور ثقافت کی علامت تو تھا مگر اب اس کی وہ سیاسی حیثیت ختم ہو چکی تھی جو اسے حاصل تھی۔ یہاں بہادر شاہ ظفر کہنے کو تو تخت نشین تھے مگر ان کی سلطنت محض قلعہ کی فصیلوں تک محدود تھی۔ وہ بیاسی سال کےہو چکے تھے۔

بہادر شاہ ظفر
بہادر شاہ ظفر کی سلطنت محض قلعہ کی فصیلوں تک محدود تھی

نوجوانی میں وہ بہترین تیر انداز، مشاق نشانہ باز اور شہ سوار تھے۔ اور انہیں فن تعمیر سے بھی دلچسپی تھی۔ مگر اب ان کا زیادہ تر وقت شاعری، موسیقی ، اور اس طرح کے دیگر مشغلوں میں گزرتا تھا۔ انہيں کبوتر بازی اور مرغ بازی کا بھی شوق تھا۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے ایک لاکھ روپیہ ماہانہ وظیفہ پاتے تھے۔ انہیں مغل سلطنت کی تباہی اور بربادی کا شدید احساس تھا۔ان سب کے باوجود بطور بادشاہ ان کی ایک علامتی حیثیت ضرور تھی اور دلی بھی ایک طویل مدت سے سلطنت کا مرکز رہ چکی تھی۔ اس لیے باغیوں اور ان کے رہنماؤں کا ان کی طرف پر امید نظروں سے دیکھنا فطری تھا۔

باغیوں نے جب بہادر شاہ سے مدد چاہی تو انہوں نے اپنی مجبوری اور گوشہ نشینی کا ذکر کیا۔ مگر با لاخر کانٹوں کا تاج پہن لیا۔

اب لال قلعہ پوری طرح باغیوں کے قبضہ میں تھا جبکہ شہر میں چاروں طرف لاقانونیت اور نراج کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں بہادر شاہ کے پانچویں بیٹے مرزا مغل نے فوج کی کمان سنبھالی۔

جلدی ہی بغاوت کی یہ آگ دلی کے پڑوسی اضلاع سردھنہ، باغپت، روڑکی، بلند شہر اور سہارن پور تک پھیل گئی۔ بریلی، رام پور، مرادآباد، امروہہ، بجنور، بدایوں، شاہ جہان پور اور فرخ آباد بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔

شمالی ہندوستان کے وسطی علاقوں میں اس بغاوت نے ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرلی اور اودھ سمیت پورے اتر پردیش ، بہار کے متعدد اضلاع، چھوٹاناگپور، وسطی ہند، مالو اور بندیل کھنڈ میں بھی بغاوت کے شعلے بلند ہونے لگے۔ کانپور میں باغیوں نے خزانہ پر قبضہ کر لیا۔ جیل کے دروازے کھول دیے اور اسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا اور دلی کی طرف مارچ شروع کردیا۔
لکھنؤ میں سپاہیوں کی بغاوت تیس مئی کو شروع ہوئی اور جلدہی قریبی اضلاع میں پھیل گئی۔

برطانوی فوج
برطانوی فوج نے بہادر شاہ ظفر کو ھمایوں کے مقبرے سے گرفتار کیا

اس دوران انگریزوں نے دلی پر از سر نو قبضہ کرنے کی کوشش کی اور پہلا جوابی حملہ کیا۔ میجر جنرل ہنری برنارڈ کی قیادت میں انگریز فوج نے بادلی کے سرائے میں باغیوں کو شکست دی اور پہاڑیوں میں پڑاؤ ڈالا۔ دلی پر دس جون سے گولہ باری شروع ہوئی۔ اب برسات کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ اس دوارن ہیضہ پھیلنے سے متعدد فوجیوں اور میجر برنارڈ کی موت ہوگئی۔

باغیوں کی ایک بڑی فوج بخت خان کی قیادت میں دو جولائی کو دلی میں داخل ہوئی۔ بخت خان کو مرزا مغل کی جگہ پر باغیوں کی فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا گیا۔ جس نے نو جولائی کو برطانوی فوجوں پر ایک کامیاب حملہ کیا۔ مگر درباری سازشوں کے نتیجے میں بخت خان جیسے مستعد اور تجربہ کار جنرل کو برطرف کر دیا گيا اور ایک بار پھر برطانوی فوجوں کا پلڑا بھاری ہوگيا۔

انگریزی فوجوں نے چودہ ستمبر کو دلی پر ایک منصوبہ بند اور منظم حملہ کیا اور اینگلو عربک کالج اور دوسری طرف سینٹ جیمس چرچ کی جانب سے چاندی چوک کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ ان ایام میں بعض امیروں کی سازشوں کی وجہ سے بہادر شاہ نے آخری لڑائیوں میں باغی فوج کے ساتھ رہنے کی بجائے سترہ ستمبر کو قلعہ خالی کر دیا اور ہمایوں کے مقبرے میں چلے گئے۔

بیس ستمبر تک دلی باغیوں سے خالی ہوگئی اور انگریز لال قلعہ میں داخل ہوگئے۔ ہزاروں لوگ جان کے خوف سے شہر چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے اور متعدد قتل ہوگئے۔

1857 کی جنگِ آزادی
مزاحمت کار ایک منظم انگریز فوج کے خلاف بڑی بہادری سے لڑے تھے

دوسرے دن کیپٹن ولیم ہڈسن نے کسی مزاہمت کے بغیر بہادر شاہ کو ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کیا۔ ہڈسن نے ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو خونی دوروازے کے قریب گولی مار دی۔

بہادر شاہ کو پہلے قلعہ میں رکھا گیا اور بعد میں چاندی چوک کے ایک مکان میں منتقل کر دیا گیا۔ ان پر جنوری اٹھارہ سو انسٹھ میں لال قلعہ ہی کے دیوان خاص میں ایک فوجی عدالت میں دو مہینہ تک مقدمہ چلتا رہا اور انتیس مارچ کو انہیں قصور وار قرار دے دیاگیا اور جلاوطن کرکے رنگون بھیجنے کی سزا سنائی گئی۔ اکتوبر میں اپنی بیگم زینت محل اور ایک بیٹے جواں بخت کے ہمراہ رنگون روانہ ہوئے جہاں سات نومبر اٹھارہ سو باسٹھ کو ان کا انتقال ہوگیا۔

دلی پر فتح کے باوجود بغاوت کے دیگر مرکزوں مثلا لکھنؤ، کانپور، اور بریلی میں انگریزں کو اپنا اقتدار قائم کرنے میں باغیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص بریلی، کانپور اور جھانسی میں باغیوں نے بہت مزاحمت کی۔

اٹھارہ سو ستاون کی اس بغاوت کا جسے پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے ، ناکام ہونا یقینی تھا، کیوں کہ اس کے پس پردہ کوئی مثبت فکری اور سیاسی نظام کار فرما نہيں تھا۔ یہ تحریک کوئی منظم اور منصوبہ بند تحریک نہيں تھی۔ باغیوں کو صرف ایک مقصد یعنی غیر ملکی اقتدار کے خاتمے نے متحد کر رکھا تھا۔ ان کی سوچ پسماندہ تھی اور وہ ایک ایسے نظام کو ازسر نو زندہ کرنا چاہتے تھے جو اپنی اہمیت اور ضرورت کھو چکا تھا۔ البتہ انہوں نے اپنے وقت کے اقتصادی اور سماجی حالات میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا ایک خواب ضرور دیکھا تھا۔ اور اس کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔

 
 
بہادر شاہ ظفربہادر شاہ کا مقبرہ
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے۔۔۔
 
 
سبھاش چندر بوس پراسرار موت کا راز؟
سبھاش چندر بوس کی موت کیسے ہوئی تھی؟
 
 
’مغلیہ دور کا قرآن‘
پولیس کو اورنگزیب کے ہاتھ کا نسخہ ملا ہے
 
 
اکبر جودھا: پوسٹرفلم تفریح یا تاریخ؟
اکبر اور جودھا بائی کا نام کیوں جوڑا جا رہا ہے؟
 
 
اسی بارے میں
لکھنؤ کے انگریز بابا
18 July, 2006 | انڈیا
تاریخ ، ادب اور بالی وڈ
25 July, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد