BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
اجمل قصاب عدالتی حراست میں
 

 
 
اجمل امیر قصاب
اجمل امیر کا کہنا ہے کہ فرد جرم انکی مادری زبان اردو میں دی جائے
ممبئی کی ایک ذیلی عدالت نے ممبئی حملوں کے ملزم اجمل امیر قصاب کو تئیس مارچ تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

تئیس مارچ سے ممبئی حملوں کا مقدمہ خصوصی سیشن عدالت میں چلےگا۔

حکومت نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایم ایل تہیلیانی کو جج مقرر کیا ہے۔

آج اس کیس کی سماعت ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہوئی۔ اجمل نے چیف ایڈیشنل میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ کے سوالات کے جواب ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ دیے۔ اجمل نے جج کو بتایا کہ انہیں جو فرد جرم دی گئی ہے اس کی زبان ان کی سمجھ سے باہر ہے اس لیے انہیں اس کی ایک کاپی اردو میں دی جائے۔

فرد جرم کی کاپی کو اردو میں دیے جانے کا مطالبہ فہیم انصاری اور صباح الدین نے بھی کیا تھا۔ یہ دونوں ملزم مبینہ طور پر لشکر طیبہ کے اراکین ہیں اور انہیں سن دو ہزار سات میں اترپردیش پولیس نے ایک حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

دونوں کو ممبئی کرائم برانچ نے ممبئی حملوں کا بھی ملزم بنایا ہے۔ان پر ممبئی کےنقشہ اور دیگر امداد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اردو زبان میں فرد جرم کی کاپی فراہم کرنے کے سوال پر خصوصی سرکاری وکیل اجول نکم نے اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کی کسی بھی عدالت میں ایسا کوئی ضابطہ نہیں ہے جس کے تحت ملزمین کو ان کی مادری زبان میں فرد جرم کی کاپی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمین کے وکلاء عدالتی زبان سمجھتے ہیں اور وہ پھر اسے پڑھ کر اپنے موکلین کو سمجھاتے ہیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل کی جرح کو قبول کر لیا اور اجمل قصاب کے ساتھ دیگر دونوں ملزمان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

پچیس فروری کو ممبئی کرائم برانچ نےگیارہ ہزار سے زائد صفحات کی فرد جرم کی کاپیاں عدالت کے سامنے پیش کی تھی جو مراٹھی اور انگریزی میں تیار کی گئی ہے۔ مراٹھی مہاراشٹر کی علاقائی زبان ہے۔

اجول نکم نے بتایا کہ تیئس مارچ سے ممبئی سینٹرل جیل کی خصوصی عدالت میں ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت شروع ہوگی۔

نکم کے مطابق ابھی تک اجمل نے اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اور اگر مقررہ مدت تک اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے کوئی وکیل مقرر نہیں ہو سکے گا تب عدالت لیگل امداد کمیٹی کی مدد سے اجمل کے لیے کوئی وکیل مقرر کرے گی۔

حالانکہ اس سے قبل عدالت نے لیگل ایڈ کمیٹی کے ایک وکیل کو مقرر کیا تھا لیکن انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر اس کیس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ اجمل کے کیس کی سماعت کے دوران انہیں عدالت میں پیش کیا جائےگا یا اسی طرح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مقدمہ چلے گا۔

اجمل اس وقت ممبئی سینٹرل جیل کے خصوصی انڈا سیل میں ہیں جبکہ دیگر دونوں ملزمین کے وکیل اعجاز نقوی کے مطابق ان کے دونوں موکلین کو تھانے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
ممبئی حملوں کی چارج شیٹ
25 February, 2009 | انڈیا
قصاب کا ریمانڈ 26 فروری تک
13 February, 2009 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد