جانیے کہ بی بی سی آن لائن نیوز میں اعتماد اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے کس طرح کام کر رہا ہے

جانیے کہ بی بی سی آن لائن نیوز میں اعتماد اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے کس طرح کام کر رہا ہے

انٹرنیٹ پر معتبر اور قابلِ بھروسہ صحافت کی شناخت ایک دماغ چکرا دینے والا تجربہ ہو سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس بات کی وضاحت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ آپ ہماری ویب سائٹ پر کیا دیکھ یا پڑھ رہے ہیں۔

برطانیہ سمیت پوری دنیا میں سامعین اور ناظرین بی بی سی کو ایسی ادارے کے طور پر جانتے ہیں جس کی دی گئی خبروں پر وہ اعتماد کر سکتے ہیں۔ بی بی سی ٹی وی اور ریڈیو سروس کی طرح ہماری ویب سائٹ ایسی صحافت کے لیے کوشاں رہتی ہے جو بالکل درست، غیر جانبدار، آزاد اور منصفانہ ہو۔

ہماری ادارتی اقدار کے مطابق 'ہمارے تمام مواد پر قارئین اور ناظرین کا اعتماد جو کچھ ہم کرتے ہیں اس کی تائید ہے۔ ہم خود مختار، غیر جانبدار اور دیانت دار ہیں۔ ہم معلومات کے درست ہونے اور غیر جانبداری کے بلند ترین معیار کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنے قارئین اور ناظرین کو جانتے بوجھتے یا مواد کے ذریعے گمراہ نہ کریں۔'

'اعتماد کے اس رشتے کا محور غیرجابنداری سے ہماری وابستگی ہے۔ قارئین اور ناظرین کے لیے پیش کردہ تمام مواد غیر جانبداری کے اصول کے تحت برتا جاتا ہے جس میں ہر طرح کی آرا کو تحریر یا ویڈیو کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ ہم تمام متعلقہ حقائق پر شفافیت اور کھلے دماغ سے غور و فکر کرتے ہیں۔'

ہم جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر معتبر صحافت کو پہچاننا ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قارئین اور ناظرین کی اس بات میں بھی دلچسپی ہو گی کہ بی بی سی میں صحافت کس طرح کی جاتی ہے (مواد کس طرح تیار کیا جاتا ہے)۔

انھیں وجوہات کی بنا پر بی بی سی نیوز آپ کو یہ سمجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا کہ آپ ہماری ویب سائٹ پر کس قسم کی معلومات دیکھ اور پڑھ رہے ہیں، یہ معلومات کہاں اور کس سے موصول ہو رہی ہیں اور خبر کس طرح تیار کی جاتی ہے۔ یہ کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بذات خود یہ جان پائیں کہ بی بی سی نیوز پر اعتماد کیوں کیا جا سکتا ہے۔

ہم قابل اعتماد صحافت کی جانب رہنمائی کرنے والے ان اصولوں کو ’مشین ریڈایبل‘ بھی بنا رہے ہیں یعنی کوئی بھی سرچ انجن یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم انھیں تلاش کر سکتا ہے تاکہ انھیں بھی قابلِ اعتماد ذریعۂ اطلاعات کی نشاندہی میں مدد مل سکے۔

بہترین طریقۂ کار

ایک طویل عرصے سے بی بی بی کے اپنے ادارتی رہنما اصول ہیں جو ہمارے پیش کردہ ہر طرح کے مواد پر لاگو ہوتے ہیں۔ بی بی سی نے چند معیارات کا تعین بھی کیا ہے جن پر پورا اترنے کی امید ادارے کے ہر صحافی سے کی جاتی ہے۔ ہمارے نیوز رومز میں بی بی سی کے رہنما اصولوں پر کس طرح عمل پیرا ہوا جاتا ہے اس بات کو سمجھانے میں آسانی کے لیے ہم نے تمام متعلقہ سیکشنز کو (مواد) اس صفحے پر رکھ دیا ہے۔

مشن سٹیٹمنٹ: بی بی سی کا مقصد عوامی مفاد میں کام کرنا اور ہر طرح کے قارئین اور ناظرین کو آگاہ رکھنے، تعلیم و تربیت اور تفریح کی غرض سے غیر جانبدار، سب سے بہتر معیار اور امتیازی مواد و سروس کی فراہمی ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات بی بی سی کے چارٹر میں ملاحظہ کیجیے۔

ملکیت کا ڈھانچہ، رقم (فنڈنگ) اور عطیات: ہم ہر اس نوعیت کے بیرونی انتظامات اور نفع نقصان کی دلچسپیوں سے آزاد ہیں جو ہماری ادارتی سالمیت کو مجروح کر سکیں۔ ہمارے قارئین اور ناظرین کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہمارے فیصلے بیرونی دلچسپیوں، سیاست، تجارتی دباؤ یا کسی بھی نوعیت کے ذاتی مفاد سے ماورا ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ برطانیہ اور بین الاقوامی سطح پر بی بی سی نیوز کو فنڈنگ کہاں سے ملتی ہے جاننے کے لیے بی بی سی کی غیرجانبداری پر بی بی سی کے چارٹر سے رجوع کریں ۔

بی بی سی کب وجود میں آیا: بی بی سی کی بنیاد 18 اکتوبر 1922 کو رکھی گئی۔ بی بی سی کی تاریخ کے بارے میں مزید پڑھیے۔

اخلاقیات کا ضابطہ: بی بی سی کے ادارتی رہنما اصول ہمارے ان ادارتی اقدار اور ضابطہ عمل کو واضح کرتے ہیں جن کا اظہار ہماری ہر تحریر اور ویڈیو سے متوقع ہوتا ہے۔

دیگر لنک:

حکمتِ عملی برائے تنوع: بی بی سی نیوز کی متنوع حکمتِ عملی سے وابستگی کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی چارٹر پر کلک کیجیے۔

عملے میں تنوع کی رپورٹ: بی بی سی نیوز کس طرح متنوع ہونے کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے اس بارے میں پڑھیے بی بی سی کی برابری معلومات پر رپورٹ۔

درستگی: بی بی سی درست معلومات کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ درستگی کے حوالے سے ہماری حکمت عملی درج ذیل ادارتی رہنما اصولوں سے جانی جا سکتی ہے۔

  • ہمارا مواد باوثوق ذرائع، مستند ثبوت، اچھی طرح سے جانچ پرکھ، اور واضح اور غیر مبہم زبان پر مبنی ہوتا ہے۔ جو ہمیں نہیں معلوم ہم اس کا واضح اور ایماندارنہ اظہار کرتے ہیں اور بےبنیاد قیاس آرائی سے گریز کرتے ہیں۔ دعوے، الزامات، مہیا کی جانے والی معلومات یا ایسا تمام مواد جس کی آزادنہ تصدیق نہ کی جا سکے اسے عموماً منسوب کیا جاتا ہے۔
  • جو غلطی ہم کرتے ہیں اس کو مانتے ہیں اور ایسے ماحول کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس میں غلطیوں سے سیکھا جائے۔
  • اگر کسی تحریر میں حقائق کی تصحیح اس کی اشاعت کے بعد کی جاتی ہے تو تحریر کے اختتام پر نوٹ بمعہ تاریخ لکھ دی جاتی ہے تاکہ قاری کو معلوم ہو سکے کہ یہ تصحیح شدہ ہے۔ اگر کسی خبر میں غلطی اتنی چھوٹی کے اس کے ہونے سے خبر کے ادارتی مطلب پر کوئی اثر نہ پڑے تو ایسی تصحیح بغیر کوئی نوٹ تحریر کیے کی جاتی ہے۔
  • اگر مواد محدود وقت کے لیے شائع نہ کیا گیا ہو تو قیاس یہی ہے کہ آن لائن کیے جانے والا مواد ہمیشہ کے لیے دستیاب رہے گا اور عموماً ایسا مواد ہٹایا نہیں جاتا۔ غیر معمولی حالات کی وجہ سے مواد ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کی وجوہات قانونی، ذاتی حفاظت کے پیش نظر یا ادارتی معیار کی صریحاً خلاف ورزی ہو سکتی ہیں جن کی موجودگی میں تصحیح کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ مواد ہٹانا ہے واحد آپشن ہوتا ہے۔

دیگر لنکس:

تصدیق/ حقائق کی جانچ پرکھ کا معیار: بی بی سی کی حقائق کی درستگی اور جانچ پرکھ کی حکمت عملی ادارتی رہنما اصول میں پڑھی جا سکتی ہے۔

بےنام ذرائع: بی بی سی کی ایسے ذرائع کے حوالے سے حکمت عملی ادارتی رہنما اصولوں میں پڑھی جا سکتی ہے۔

دیگر لنکس

قابل عمل ردعمل: شکایات درج کروانے کے حوالے سے بی بی سی کا طریقہ کار بی بی سی کمپلینٹس فریم ورک میں موجود ہے۔

قیادت: سینیئر ایگزیکٹیو ٹیم سے ملیے جو کہ بی بی سی نیوز کے معاملات چلاتی ہے: بی بی سی نیوز بورڈ

صحافتی مہارت

بی بی سی نیوز کی خبریں اصل رپورٹنگ پر مبنی ہوتی ہیں جن میں تحریر لکھنے والے کا نام درج ہوتا ہے اور عموماً انھیں وہ صحافی تحریر کرتے ہیں جن کا اس شعبے میں تجربہ ہوتا ہے۔

عام خبریں جن میں معلومات کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں یا جنھیں عملے کے ایک سے زائد ارکان تحریر کرتے ہیں ان پر تحریر کرنے والوں کے نام درج نہیں کیے جاتے۔

کام کی اقسام

بی بی سی نیوز آرا اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ میں فرق ملحوظ رکھتی ہے۔ ہم چھ مختلف درجہ بندیوں کے تحت خبریں شائع کرتے ہیں۔

  • خبر: حقائق پر مبنی صحافت جس کی یا تو رپورٹر نے بلاواسطہ تصدیق کی ہو یا ہوتے ہوئے دیکھی ہو، یا حقائق کا علم رکھنے والے ذرائع سے اس کی تصدیق کی ہو۔
  • تجزیہ: تجزیاتی رپورٹ بنیادی طور پر مصنف کے ماہرانہ علم کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے، چاہے وہ ایک بی بی سی کا صحافی ہو یا ادارے سے ان کا تعلق نہ ہو۔ اس کا مقصد پیچیدہ حالاتِ حاضرہ اور رجحانات کو سمجھنے میں مدد کرنا ہے۔
  • قارئین سے پوچھیے: یہ ایسا مواد ہے جو بنیادی طور پر قارئین اور ناظرین کو بلاواسطہ آرا/جواب دینے پر ابھارتا ہے۔
  • وضاحتی تحاریر: یہ وہ مواد ہے جو کسی خبر کے سیاق و سباق یا اس کے پیچھے کار فرما وجوہات کا حقائق کی روشنی میں وضاحت کرے۔
  • آراء: بی بی سی نیوز بذات خود غیر جانبدار ہے اور آراء پر مبنی مواد نہیں شائع کرتا مگر بعض اوقات ہم انفرادی سطح پر لوگوں (جو بی بی سی کا عملہ نہیں ہوتے) کی آراء شائع کرتے ہیں۔ یہ ان کے خیالات کی حمایت کرتی ہیں اور مصنف کی حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں تشریح اور نتائج اخذ کرتی ہیں۔
  • ریویو: یہ مواد کسی واقعے، فنون لطیفہ یا کچھ اور، کے تنقیدی جائزے پر مبنی ہوتا ہے اور اس میں براہ راست رائے شامل ہوتی ہے۔

حوالہ جات اور اقتباسات

ہمارا مواد باوثوق ذرائع، مستند ثبوت، اچھی طرح سے جانچ پرکھ اور واضح اور غیر مبہم زبان پر مبنی ہوتا ہے۔ جو ہمیں نہیں معلوم ہم اس کا واضح اور ایماندارنہ اظہار کرتے ہیں اور بے بنیاد قیاس آرائی سے گریز کرتے ہیں۔

جب بی بی سی نیوز خبر کے حوالے سے کسی واحد ذریعے پر انحصار کر رہا ہوتا ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس ذریعے کو جہاں ممکن ہو کریڈٹ دیں۔ عموماً ہم سرکاری رپورٹس، اعدادوشمار اور دیگر ذرائع اطلاعات کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ آپ ہماری جانب سے دی گئی معلومات پر خود فیصلہ کر سکیں۔

جہاں مناسب ہو ہم تیسرے فریق کی ویب سائٹ کے لنک بھی دیتے ہیں جو اضافی معلومات، ذرائع اور تبصرے فراہم کرتے ہیں۔

میتھاڈولوجی

پیچیدہ تحقیقات یا ڈیٹا جرنلزم جیسے عمیق تحقیق پر مشتمل کام میں ہم آپ کی یہ سمجھنے میں مدد کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کام کیسے کیا اور اس کے لیے ہم وہ میتھوڈولوجی کا ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں جس کی مدد سے یہ کام کیا گیا۔ اس کی مثالوں میں سٹڈی ڈیزائن، سیمپل سائز، غلطی کا امکان، ڈیٹا جمع کرنے کا طریقہ اور اس کی جغرافیائی مطابقت اور دورانیے کا ذکر شامل ہے۔