یہ سب کیسے ممکن ہوا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 20:21 GMT 01:21 PST

تارکینِ وطن کے بارے میں تشویش بہت عام ہے مگر گزشتہ پندرہ سے بیس سال کے دوران قوانین اور پالیسیاں بنائی گئی ہیں جن کی مدد سے مختلف ممالک میں ’مطلوبہ‘ افراد کو ملکوں میں داخلے کا موقع مل سکے گا۔

مگر وہ کون سے تارکینِ وطن ہیں جن کی دنیا کو طلب ہے؟

یہی وہ سوال تھا جو اس تحقیق کی وجہ بنا۔

چونکہ کئی ممالک اپنے ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کا ایک ریکارڈ رکھتے ہیں اس لیے ہم نے انتہائی تربیت یافتہ پیشہ وروں کی درجہ بندی پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا، جنہیں بظاہر سرحدیں پار کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور ان کی آمدورفت پر نظر رکھنا بظاہر آسان بھی تھا۔

مگر اس میں بھی کچھ مسائل ہیں۔ پہلے کئی ممالک انتہائی تربیت یافتہ پیشہ وروں اور دوسرے تارکینِ وطن میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ کئ حکومتیں ہمارے دوسرے سوال کا جواب دینے سے قاصر تھیں جو کہ یہ تھا: کون کہاں جا رہا ہے اور کیا کام کرے گا؟

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم یا جسے مختصراً ’او ای سی ڈی‘ کہا جاتا ہے کی رپورٹوں سے ہمیں تارکینِ وطن کی آمدورفت اور مختلف ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی پر نظر رکپنے میں مدد ملی اور یہ کہ یہ ممالک کیسے اپنی غیر ملکی افرادی قوت کا انتظام کرتے ہیں۔

دو ہزار بارہ میں جاری ہونے والی دو رپورٹیں جن میں سے پہلی کا عنوان تھا ’تارکین وطن پر ایک عالمی نظر‘ اور دوسری کا عنوان تھا ’مختلف طبقوں کا ملاپ‘ کا بہت بڑا حصہ تھا یہ پتہ کرنے میں کہ تارکینِ وطن کہاں جا رہے ہیں۔

انتہائی تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے بارے میں مخصوص ڈیٹا ڈھونڈنا بہت مشکل کام تھا جو خاص طور پر کام کرنے کی خاطر ایک ملک سے دوسرے ملک گئے تھے حتیٰ کے او ای سی ڈی کے ڈیٹا بیس سے اس کا پتہ چلانا مشکل کام تھا۔

او ای سی ڈی کے عالمی تارکین وطن ہر نظر رکھنے والے شعبے کے سربراہ یاں کرسٹوف ڈوموں کے مطابق کئی ادارے اس طرح کا ڈیٹا بیس بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں تفصیل سے پیشہ ور افراد کے ترکِ وطن کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے مگر اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہر ملک کا اپنا اپنا نظام ہے جس کی مدد سے وہ تارکینِ وطن کی آمدورفت کا انتظام کرتے ہیں۔

ڈیٹا ڈھونڈنا

ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ان مختلف تکنیکوں کی مدد سے کام شروع کریں گے جو مہیا ہیں اور پتہ چلائیں گے کہ بیرونی ممالک کس قسم کے پیشہ ور افراد کی طلب رکھتے ہیں، چاہے وہ سرکاری طور پر جاری کردہ مختلف پیشوں میں کمی یا طلب کی فہرستیں ہوں یا سرکاری ڈیٹا جو مختلف وزارتوں نے تیار کیا ہوتا ہے۔

حکومتیں اس طرح کا انتظام مختلف طریقوں کا استعمال کر کے کرتی ہیں۔ کچھ حکومتیں انتہائی پیشہ ور افراد کے لیے کوٹہ سابقہ سال کی تارکینِ وطن کی آمدورفت کے حساب سے مختص کرتی ہیں جبکہ کچھ سرکاری طور پر جاری کی گئی کمی کی فہرستوں کا استعمال کرتی ہیں یا پھر دوسرے طریق۔

ہمیں او ای سی ڈی کے چونتیس ممالک میں سے پچیس سے سرکاری معلومات حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔ ایسے ممالک جن سے ہمیں معلومات نہیں ملیں وہ تھح جاپان، کوریا، میکسیکو، چلی، اسرائئل، ایسٹونیا، ترکی، نیدرلینڈز، اٹلی اور آئس لینڈ۔

او آئی سی ڈی کی اکثر ممالک مختلف پیشوں میں طلب کی فہرستیں تیار کرتے ہیں جو ان کی ویب سائٹس پر مہیا ہوتی ہے۔دوسرے ممالک جیسا کہ پولینڈ نے ہمیں مارکیٹ ریسرچ یا تحقیقی جائزوں کے نتائج مہیا کیے جو ان کے ملک میں آزاد کمپنیوں نے کی تھی مگر ان نتائج کو قابل اعتبار زریعہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ تمام ممالک ایسی معلومات نہیں تیار کرتے یا انہیں مہیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسٹونیا میں وزارتِ معاشی امور اور مواصلات نے ہمیں ایک ایسی فہرست فراہم کی جو مختلف شعبوں میں مطلوبہ افراد کی طلب کا جائمہ بتاتی ہیں دو ہزار انیس تک۔ ہمارے لیے اس میں سے یہ انتخاب کرنا بہت مشکل تھا کہ ہر شعبے میں کس قسم کے پیشہ ور افراد کی طلب ہو گی۔ اس لیے ایسٹونیا کو ہم نے اپنی حتمی فہرست میں سے نکال دیا۔

او آئی سی ڈی کے ممالک ہمیں پہلی ہی ایک دلچسپ جائزہ فراہم کیا جس میں دنیا میں ترکِ وطن کے رجحانات پر نظر ڈالی گئی تھی کیونکہ یہ ممالک ایسے پیشہ ور افراد کی بنیادی منزل ہیں جنہیں انتہائی پیشہ ور افراد کہا جاتا ہے۔

یہ بہت اہم ہو گا کہ ہم اس بات کا ذکر کریں کہ دنیا میں انتہائی پیشہ ور افراد فراہم کرنے والے دو بڑے ممالک بھارت اور چین ہیں۔

ہم نے اس کے بعد دنیا کی ابھرتی ہوئی پانچ معیشتوں کے بارے میں معلومات کے حصول کی کوششوں کا آغاز کیا کہ ان ممالک کو کیسے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے اور یہ کس قسم کی پالیسیاں بنا رہے ہیں ایسے افراد کو متوجہ کرنے کے لیے۔ ان ممالک میں چین، بھارت، برازیل، روس اور جوبی افریقہ شامل ہیں جنہیں بی آر آئی سی ایس یا ’برِکس‘ کہا جاتا ہے۔

برِکس ممالک کے لیے اگرچہ حالات مختلف تھے۔ صرف جنوبی افریقہ، روس اور چین کے خصوصی انتظامی علاقے ایسے تھے جنہوں نے انتہائی پیشہ ور افراد کے لیے مخصوص پالیسیاں بنائی تھیں۔ جنوبی افریقہ ان میں سے واحد ملک ہے جس نے مختلف پیشوں میں طلب کی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ روس کی انتہائی پیشہ ور افراد کے لیے کام کرنے کے ویزے کی شرائط سے ہم نے کم از کم یہ اندازہ لگایا کہ روس کو آئی ٹی کے شعبے میں پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے۔

بھارت، چین اور برازیل کی اس معاملے میں اپنی نوعیت کی مشکلات تھیں۔ ان ممالک میں سے کسی کی بھی ایسی کوئی مخصوص پالیسی نہیں ہے جو پیشہ ور تارکینِ وطن کو راغب کر سکے۔ ان پیشہ ور افراد کے لیے ویزا کے ساتھ عموماً یہ شرط نتی کی جاتی ہے کہ ویزا کی درخواست دینے والے کے پاس میزبان ملک کی جانب سے ملازمت کی پیشکش ہو۔

اب یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مختلف النوع طبقات ہوتے ہیں، جیسا کہ بھارت اور چین کا معاملہ ہے وہ اپنے ہی پیشہ ور افراد کو واپس اپنے ممالک میں لانے کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

برازیل سے متعلقہ معلومات ہم نے گزشتہ سال ملک میں آنے والے پیشہ ور افراد کی آمد کے اعدادوشمار سے اکٹھی کیں اور ملک کے قومی امیگریشن کونسل کے سربراہ پاؤلو سرگیو ڈی المیڈہ کے ساتھ ایک انٹرویو کے بعد جمع کیں۔

بھارت کے حوالے سے معلومات ہم نے کئی سرکاری رپورٹوں سے حاصل کیں مگر بنیادی طور زیادہ معلومات دو ہزار بارہ اور سترہ کے پنج سالہ منصوبے سے ملیں جسے ملک کے قومی منصوبہ بندی کمیشن نے تیار کیا تھا۔

چین میں ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی حصے کے حوالے سے معلومات بہت حد تک ایک سرکاری رپورٹ سے ملیں جو کہ دو ہزار اٹھارہ تک کے لیے افرادی قوت کی طلب اور رسد کے بارے میں تیار کی گئی تھی۔ اس سے ہمیں ملک کے لیے مطلوب پیشہ ور افراد کی طلب کے بارے میں بہت حد تک پتہ چلا۔

ہانگ کانگ کے کام کرنے کے ویزے بھی ملک میں ملازمت کی پیشکش سے مشروط ہیں اور ان کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ ایسی ملازمت کے لیے موزوں پیشہ ور افراد کی خطے میں موجودگی نہیں ہو تو تب ایسا ویزا دیا جائے گا۔

او ای سی ڈی کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور ایک ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا گیا جو انتہائی پیشہ ور افراد کے لیے ایک پرکشش جگہ بنتا جا رہا ہے۔

چونکہ جاپان اور کوریا میں پیشہ ور افراد کی مانگ کے بارے میں ڈیٹا نہیں مل سکا اس لیے ہم نے سنگاپور کو اس فہرست میں شامل کیا تاکہ ایشیائی ممالک میں سے ایسے ممالک کے بارے میں اسے ایک مثال کے طور پر دکھایا جا سکے جو سنیا بھر سے پیشہ ور افراد کو مائل کرنے کے لیے مخصوص پالیسیاں بنا رہے ہیں۔

ہر ملک کی فہرست ہاتھ میں آتے ہی ہمارا اگلا قدم یہ تھا کہ ان کے درمیان تقابلی جائزہ لیا جا سکےکہ وہ ملازمتوں کو عالمی ملازمتوں کے معیار کے مقابلے میں کیسے لیتے ہیں جسے آئی ایس سی او 08 کہا جاتا ہے، اسی کو ہم نے اپنی تحقیق کی بنیاد بنایا تھا۔

اکثر ممالک ملتا جلتا معیار استعمال کرتے ہیں مگر بعض شعبوں میں جیسا کہ آئی ٹی کا پیشہ ہے کے لیے ہمیں اضافی وقت درکار تھا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ان پیشوں کو واضع طریقے سے جمع کیا جا سکے اور سمجھا جا سکے۔

انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ پیشہ ور افراد کے لیے کئی طرح کے نام موجود ہیں۔

اب یہ فیصلہ کرنا بھی بہت مشکل تھا کہ مختلف پیشوں کو کیسے جمع کیا جائے۔ کچھ ممالک اپنی فہرستیں بعض انتہائی مخصوص پیشوں کی پیشکش سے تیار کرتے تھے جو ان کے ملک میں موجود تھے۔

اس لیے بعض اس میں انتہائی تخصیص سے کام لیتے تھے جیسا کہ بعض کے لیے صرف اکاؤٹنٹ کہہ دینا کافی تھا اور بعض کے لیے اکاؤنٹ کنٹرولر یا آڈیٹر کا عہدہ ایسی فہرستوں میں لکھا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے یہ ضروری تھا کہ کہ مشترکہ بنیاد بنائی جائے جس کے تحت مختلف پیشوں کو اکٹھا کیا جاتا جیسا کہ ان افراد کا تعلیمی ریکارڈ جس سے ایک شخص مثال کے طور پر آڈیٹر کہلاتا ہے (اکاؤنٹنسی میں ایک تعلیمی ڈگری، ماسٹرز کی ڈگری یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری)‘۔

ہمیں اس بات کا علم تھا کہ ایک مخصوص پیشہ اختیار کرنے کے لیے کئی مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور ان سب میں ایک مخصوص شعبے میں ڈگری حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

اگرچہ اکثر ممالک کی جانب سے مختلف پیشوں میں طلب کی فہرست میں ایک ڈگری کی تخصیص کی جاتی ہے جو کہ وہ ممالک چاہتے ہیں ان کے امیدواروں کے پاس ہو۔ ایسے ممالک جو ایسی تخصیص نہیں کرتے وہ اس کو کام کے ویزے کے حصول کے ایک شرط کے طور پر شامل کر دیتے ہیں جس شرط کو عموماً مختلف کمپنیاں ملازمت کے حصول کے عمل میں شامل کر کے پورا کر دیتے ہیں۔

اکثر ممالک پیشہ ور افراد کی طلب کے معاملے میں ضرورت کی بنیاد پر حصول کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس میں مختلف کمپنیوں اور کاروباری افراد سے صلاح مشورہ کیا جاتا ہے کہ انہیں کس قسم کے پیشہ ور افراد چاہیے ہوتے ہیں

اسی لیے مختلف حدود اور قیود کے باوجود جو ڈیٹا ہم نے جمع کیا وہ یہ واضع طور پر ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں انتہائی پیشہ وار افراد کی آمدورفت کا رجحان ہے جو گزشتہ دہائی کے دوران بڑھتا رہا ہے۔

اکثرممالک میں طبی شعبے کے پیشہ ور، آئی ٹی کے پیشہ ور اور انجینئرز سب سے زیادہ مانگ میں ہیں۔

چاہے انہیں عمر رسیدہ افرادی قوت کی جگہ متبادل کے طور پر لیا جا رہا ہو یا انہیں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک جیسا کہ ’برِکس‘ ممالک میں مطلوبہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لیا جا رہا ہو۔

ڈیٹا کی حدود و قیود

فہرستوں کا مختلف اوقات میں تیار ہونا۔

تمام ممالک کے پاس فہرستیں نہیں ہے، اس لیے کچھ ممالک کے پاس مطلوبہ شعبوں کی فہرستیں شاید مکمل نہیں ہو۔

اس لیے ڈیٹا او ای سی ڈی کے صرف پچیس ممالک جمع ’برِکس‘ ممالک اور سنگاپور کا احاطہ کرتا ہے۔ اسی طرح میکسیکو اور جاپان جیسے اہم ممالک اور افریقہ کے اکثر ممالک کو اس فہرست میں سے معلومات کی عدم دستیابی کے باعث شالم نہیں کیا گیا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔