’جنت میں حوریں انتظار کر رہی ہیں‘

ینگورہ میں تباہ ہونے والے ایک سکول
Image caption مینگورہ میں تباہ ہونے والے ایک سکول میں بچے ملبے پر بیٹھ کر پڑہ رہے ہیں

سوات میں طالبان نے پندرہ جنوری سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگادی تھی مگر صوبائی حکومت اور کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ہونے والے ’امن معاہدے‘ کے بعد طالبان نے اپنا یہ فیصلہ صرف امتحانات کے انعقاد تک جزوی طور پر واپس لے لیا ہے۔ مقامی طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی غیر یقینی کی صورتحال سے گزر رہی ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سوات سے تعلق رکھنے والی ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھ رہی ہیں۔ اس سلسلے کی دسویں کڑی:

پیر، نو مارچ:’طالبان اب گاڑیوں کی تلاشی نہیں لیتے‘

Image caption امی نے بتایا کہ طالبان مسلح نظر آ رہے تھے لیکن وہ گاڑیوں کی تلاشی نہیں لے رہے تھے

آج سے ہمارے امتحانات شروع ہو رہے ہیں لہذا اٹھتے ہی بہت پریشان تھی۔ امی اور ابو ہمارے کسی رشتہ دار کی فاتحہ خوانی کے لیے گاؤں گئے ہوئے ہیں اس لیے آج میں نے خود ہی چھوٹے بھائیوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔

میرا سائنس کا پیپر بہت اچھا ہوا۔ دس سوالوں میں سے آٹھ کرنے تھے مگر مجھے دس کے دس یاد تھے۔ جب گھر واپس آئی تو امی ابو کو گھر میں پاکر بہت خوش ہوئی۔ امی نے بتایا کہ وہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے سے ہوکرگاؤں گئے تھے۔ وہاں طالبان مسلح نظر آ تو رہے تھے لیکن وہ پہلے کی طرح گاڑیوں کی تلاشی نہیں لے رہے تھے۔

منگل، دس مارچ: ’مولانا شاہ دوران گاؤں واپس آگئے‘

آج جب میں سکول سے واپس آرہی تھی تو میری ایک سہیلی نے مجھ سے کہا کہ سر اچھی طرح ڈھانپ کر جاؤں نہیں تو طالبان سزاد دے دیں گے۔ آج بھی مینگورہ کے قریب قمبر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ ہوئی ہے۔ طالبان کے ایف ایم چینل پر تقریر کرنے والے مولانا شاہ دوران بھی آج اپنے گاؤں قمبر واپس آگئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہاں کے طالبان نے ان کا استقبال کیا۔ طالبان نے اب بھی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ نماز یں پڑھا کریں اور خواتین پردے کا خاص خیال رکھیں۔

بدھ، گیارہ مارچ: ’بہت عرصے بعد گانے سنے‘

Image caption سوات میں جہادی گانوں اور تقریروں کی کیسٹوں کا ایک سٹال

آج کا پیپر بھی اچھا ہوا اور خوش ہوں کہ کل چھٹی ہے۔آج میں نے اور دو چھوٹے بھائیوں نے چوزے خریدے مگر میرے چوزے کو سردی لگ گئی ہے اور بیمار ہوگیا۔ امی نے اس سے گرم کپڑے میں رکھ دیا ہے۔ آج بازار بھی گئی جہاں بہت زیادہ رش تھا۔ کہیں کہیں پر ٹریفک بھی جام تھی۔ پہلے رات ہوتے ہی بازار بند ہوجاتا لیکن اب رات دیر تک کھلا رہتا ہے۔

آج میں نے ریڈیو آن کیا تو حیرت ہوئی کہ ایک خاتون پروگرام کررہی تھی اور لوگ فون کر کے اپنی پسند کےگانے کی فرمائش کر رہے تھے۔ ابو نے بتایا کہ یہ حکومت کا چینل ہے۔ بہت عرصے بعد میں نے ریڈیو پر پشتو کے گانے سنے۔ دور دراز سے لوگ فون کرتے ہیں ایک لڑکے نے تو بلوچستان سے فون کیا۔

جمعرات، بارہ مارچ: ’جنت میں حوریں انیس کا انتظار کر رہی ہیں‘

میرا دو دنوں سے گلا خراب ہے لہذا ابو مجھے آج ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ وہاں ویٹنگ روم میں دو خواتین بھی بیٹھی ہوئی تھیں اور دونوں کا تعلق قمبر کے علاقے سے تھا۔

ان میں سے ایک نے بتایا کہ ان کے علاقے میں اب بھی طالبان کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے بعض لوگوں کو سزائیں بھی دی ہیں۔ خاتون نے اپنے محلے کے ایک لڑکے کا واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محلے میں ایک لڑکا ہے جس کا نام انیس ہے۔

وہ طالبان کا ساتھی تھا۔ ایک دن اس کے طالبان ساتھی نے اسے بتایا کہ اس نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں جنت کی حوروں نے اس سے کہا کہ 'ہمیں انیس کا انتظار ہے‘۔

خاتون نے بتایا کہ یہ بات سن کر انیس بہت خوش ہوا اور اپنے والدین کے پاس گیا اور کہا کہ حوریں ان کا انتظار کر رہی ہیں اور وہ 'خودکش حملہ‘ کر کے 'شہید‘ ہونا چاہتا ہے۔ ماں باپ نے ان کو اجازت نہیں دی تو اس نے کہا کہ وہ افغانستان جا کر جہاد کرنا چاہتا ہے۔

خاتون کے بقول گھر والوں نے لڑکے کو اجازت نہیں دی مگر لڑکا گھر سے بھاگ گیااور کل ڈیڑھ سال بعد سوات کے طالبان نے ان کے گھر والوں کو بتایا کہ انیس سوات میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں