کرفیو میں زندگی

سرینگر میں کرفیو کے دوران ایک شہری کو روک کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز سے کرفیو نافذ ہے جس سے لوگوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ کشمیر کے رہائشیوں نے کرفیو میں زندگی سے متعلق ہمیں لکھا ہے:

جاسم، پرائیوٹ کمپنی میں ملازم، سرینگر

ہم سرینگر کے رہنے والے ہیں اور میرا تعلق یہاں کی پڑھی لکھی یوتھ سے ہے۔ یہاں کشمیری جدوجہد کو لے کر جو کچھ چل رہا ہے اسے تین مہینے ہونے کو آئے ہیں۔ آزادی کا جنون ہر ایک کے دل میں ہے لیکن طریقہ غلط ہے، کوئی پرتشدد طریقے سے کر رہا ہے تو کسی نے پرامن طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہاں پر ایسے پڑھے لکھے بہت سے نوجوان ہیں جن کی عمریں گزر رہی ہیں اور وہ بیروزگار ہیں۔ مشکل سے ہی یہاں پر کوئی نوکری مل رہی ہے۔ گورنمنٹ بھی وعدے کر رہی تھی نوکری کے سلسے میں اور لوگ اب پرائیویٹ نوکریوں کی جانب جا رہے ہیں کیوں کہ گورنمنٹ نے صرف وعدے کیے ہیں۔ ہم نے پرائیویٹ نوکری شروع کی لیکن اب حالات کے باعث اس میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

حالات کے باعث آفس والوں نے کہا کہ کشمیر کے بجائے جموں میں کام کریں۔ ایک ماہ جموں میں کام کیا، پہلی مرتبہ جموں جا کر فیلڈ میں کام کرنا پڑا لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کشمیر واپس جاؤ۔ اب کمپنی والے کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے حالات ہر سال ایسے ہو جاتے ہیں اس لیے انہیں لگ رہا ہے کہ ہمیں نوکری چھوڑ دینی چاہیے۔ تنخواہ بھی بند ہے کیوں کہ کمپنی والے کسی کو گھر بیٹھے تنخواہ نہیں دے سکتے۔ کشمیر میں اب یہ ہر سال کا مسئلہ ہے اور میرے خیال سے آہستہ آہستہ کمپنیاں بند ہو جائیں گی۔ بچے بھی پریشان ہیں اور ہر قسم کے سوال کرتے ہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے ، کس لیے ہو رہا ہے، کون سے آزادی، کس قسم کی آزادی۔ جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں وہ یہاں روزانہ مظاہرے اور مار دھاڑ دیکھ رہے ہیں۔ حالات کی وجہ سے ان کے دماغ میں تشدد بھرا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ہم کرفیو پاس دکھاتے ہیں تو گالیاں پڑتی ہیں۔ گورنمنٹ نے شروع میں اس مسئلے پر توجہ نہیں دی اور اب تشدد بڑھ رہا ہے۔ میری بہن کی چار مہینے کی بچی ہے جسے دوائی اور کھانے کو کچھ نہیں مل رہا اور ایسے بہت سارے گھر ہوں گے۔ کیوں کہ باہر جائیں گے تو ڈنڈے برسائے جائیں گے۔

ریاض احمد، سرینگر

ہُو کا عالم ہے۔ ہر گھر کے دروازے کے سامنے بندوق بردار پہرا دیتے نظر آ رہے ہیں۔ بات کرنے میں بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں بندوق والے ہماری بات نہ سن لیں۔ زندگی تھم کر رہ گئی ہے۔ لگاتار کرفیو کی وجہ سے گھروں میں راشن، بچوں کے لیے خوراک، دوائیاں دستیاب نہیں۔ کئی لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ اس طرح سرکار نے وادی میں کرفیو لگا کر زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کشمیر میں مسجدوں میں آذان تک نہیں ہو رہی اور آج لوگوں نے جمعے کی نماز بھی نہیں پڑھی۔ ہر گلی کوچے میں صرف بندوق بردار نظر آ رہا ہے ۔

عرفان (فرضی نام)، پرائیویٹ سروس، اننت ناگ

کشمیری تین ماہ سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی طرح محصور ہیں۔ باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ سی آر پی ایف اور پولیس اہلکار پانی کی سپلائی، بجلی کی ترسیلی لائنیں کاٹ دیتے ہیں۔ بیماروں کو ہسپتال جانے سے روکا جاتا ہے۔ ضروریات زندگی میسر نہیں۔ غریب لوگ کسم پرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیبل سروس بھی کاٹ دیتے ہیں تاکہ ہم دوسری جگہوں کی خبروں سے محروم رہیں۔ جو لوگ فائرنگ میں ہلاک ہوتے ہیں ان کی آخری رسومات میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا۔

کھڑکیاں کھولنے پر لوگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، گھروں کے اندر آکر توڑ پھوڑ اور زدوکوب کیا جاتا ہے، اور بچوں اور عورتوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ مسجدوں میں جانے سے بھی روکا جاتا ہے۔ لائف سیونگ ڈرگز میسر نہیں۔ اگر کسی کے پاس ادوایات موجود ہیں تو وہاں تک جانے کی اجازت نہیں۔ سب کشمیری حل چاہتے ہیں۔ جن کے پاس کرفیو پاس ہے انہیں بھی پیٹا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ ایئر ٹکٹ کو بھی کرفیو پاس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ صرف آرڈرز ہیں جن پر عمل نہیں ہوتا۔ جن کے پاس ائر ٹکٹ ہے ان کو بھی مارا جاتا ہے۔ کل ایک دولہا وہاں سے گزر رہا تھا تو اسے سی آر پی ایف نے تین گھنٹے روکے رکھا، مارا، اسے کہا کہ تم لوگ پتھر مارتے ہو۔

عابد احمد (فرضی نام)، سرینگر

Image caption سرینگر میں صبح سویرے دودھ کے لیے قطار لگی ہوئی ہے

ان دنوں کشمیر کسی قید خانے سے کم نہیں۔ اب تو سکیورٹی اہلکار گلی کوچوں میں بھی تعینات کیے گئے ہیں، جس وجہ سے لوگوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

حیرانی تو یہ ہے کہ ہم اپنے حالات کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتے۔ چھوٹے بچوں کے لیے دوائیاں بھی نہیں مل رہیں، دودھ کا تو سوال ہی نہیں۔ رات کے ڈھائی بجے عورتیں دودھ لینے کے لیے پریشان دکھائی دیتی ہیں، ادھر ادھر پوچھتی ہیں کہ کہیں دودھ تو نہیں پہنچا۔

ہمارے گھر میں دودھ کی بہت قلت ہے اور میں نے زندگی میں پہلی بار بغیر دودھ کے چائے پی۔ صرف دودھ کی ہی قلت نہیں ہے، سبزیوں کی بھی شدید قلت ہے اور اکثر گھروں میں دال وغیرہ پکائی جا رہی ہے۔ ظلم اور تشدد کی تمام حدیں پار ہو گئیں ہیں۔ عورتوں پر بھی ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ بچے سکول نہیں جا سکتے اور جوان گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہمارے گھر میں دو لوگ بیمار ہیں، جن میں سے ایک کو ذیابطیس کی تکلیف ہے۔ اس کو تو دوائیاں بھی نہیں میسر ہو رہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اچانک سی آر پی ایف اور پولیس والے مکانوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں اور گالیاں بھے دیتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ لگتا ہے کہ انسان اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک قید خانے میں بند ہے۔

اسی بارے میں