وزارتِ دفاع کا مالی!
- وسعت اللہ خان
- بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کسی بھی ملک میں وزیرِ دفاع ایک کلیدی آدمی ہوتا ہے۔
اگر آپ پاکستانی وزارتِ دفاع کی سرکاری ویب سائٹ پر جائیں تو یہ پڑھ کر قدرے اطمینان ہوگا کہ وزارتِ دفاع کے تحت مسلح افواج کی تینوں شاخوں کے انتظامی اور پالیسی امور بھی آتے ہیں لیکن آپ میمو سکینڈل کے ضمن میں سپریم کورٹ میں داخل کیے جانے والے بیانِ حلفی کو اگر دیکھیں تو آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ وزراتِ دفاع کا فوج اور اس کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی پر محض انتظامی کنٹرول ہے پالیسی کنٹرول نہیں۔
اگر آپ بری فوج کی ویب سائٹ پر جائیں تو ہر طرح کی معلومات ملیں گی۔مگر یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ مسلح افواج کس وزارت کے تحت آتی ہیں۔
اگر آپ آئی ایس آئی کی سرکاری ویب سائٹ پر جائیں تو آپ کو تعارفی کلمات میں یہ لکھا ملے گا کہ یہ ادارہ ایک طے شدہ آئینی و قانونی ڈھانچے کے تحت کام کرتا ہے اور مکمل طور پر سربراہِ مملکت ( ہیڈ آف سٹیٹ ) کو اور بعض حالات میں بعض اوقات چیف آف دی آرمی سٹاف کو بھی جوابدہ ہے۔
اگر آپ وزیرِ اعظم سیکرٹیریٹ میں پوچھیں کہ آئی ایس آئی کس کے تحت ہے تو وہاں سے ترنت جواب ملتا ہے کہ براہِ راست وزیرِ اعظم کے ماتحت ہے لیکن بیچارے وزیرِ دفاع کو کون جوابدہ ہے ؟ کوئی نہیں بتاتا۔
فوج اور آئی ایس آئی سمیت ہر ادارہ بظاہر ایک طے شدہ آئینی و قانونی ڈھانچے کے تحت کام کرنے کا دعویدار ہے۔ لیکن وہ کاغذ کا ٹکڑا کہاں تلاش کریں جو یہ بتا سکے کہ کیا آئی ایس آئی بیک وقت سربراہِ مملکت ، وزیرِ اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کو جوابدہ ہے یا ان میں سے دراصل کسی ایک کے تحت ہے ؟ اور یہ کہ اس بھول بھلیاں میں وزیرِ دفاع کو کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے ؟
بیشتر ممالک میں فوجی قیادت وزارتِ دفاع کے ذریعے دیگر اداروں اور اپنے سے بالا حکومتی ڈھانچے سے رابطے میں رہتی ہے لیکن پاکستان میں یہ روایت ہے کہ فوج کا سربراہ اپنے تین ممکنہ جانشینوں کے نام وزیرِ اعظم کو بھجواتا ہے اور وزیرِ اعظم ان ناموں کے بارے میں صدرِ مملکت کو رائے دیتا ہے اور صدرِ مملکت اس رائے کی روشنی میں ایک نام حتمی طور پر منظور کرلیتا ہے۔
اس گیم میں وزیرِ دفاع کا مصرف محض یہ ہے کہ تین بڑوں کے درمیان جو بھی فیصلہ ہو مبارک سلامت کہتے کہتے اس کا نوٹیفکیشن جاری کروا دیوے ۔
یہی طریقہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی منظوری کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن فوج کا سربراہ چاہے تو آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت کسی بھی لیفٹننٹ جنرل کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آئی ایس آئی بظاہر صدرِ مملکت یا وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہے تو پھر توسیع کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے میں فوج کا سربراہ وزیرِ دفاع کے توسط سے وزیرِ اعظم سے مشورہ کرنے کا پابند کیوں نہیں ؟
سپریم کورٹ نے میمو کیس میں صدر ، وزیرِ اعظم ، وزیرِ دفاع ، بری فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے جوابِ حلفی طلب کر لیا۔ صدر نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔بری فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے زریعے جوابات داخل کر دیے۔حالانکہ یہ جوابات وزارتِ دفاع کے توسط سے اٹارنی جنرل کو بھجوائے جانے چاہیے تھے لیکن وزیرِ دفاع یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے کیا پتہ میمو کیس کس بلی کا نام ہے ۔میں تے مالی آں ۔۔۔۔۔۔
کسی بھی ملک میں وزیرِ دفاع ایک کلیدی آدمی ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی جن چار وزارتوں کو سب سے اہم کہا جاتا ہے ان میں خزانہ ، خارجہ ، داخلہ اور دفاع کی وزارتیں ہیں۔
مگر کیا آپ نے کبھی سنا کہ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے دہلی میں وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے بعد بری فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ سعودی ولی عہد نے واشنگٹن میں صدر اوباما کے بعد امریکی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی لیکن تاجکستان سے امریکہ تک جو وفد بھی اسلام آباد آتا ہے وہ صدر اور وزیرِ اعظم سے ملنے کے بعد سیدھا جی ایچ کیو جاتا ہے اور وزیرِ دفاع اپنے دفتر میں بیٹھا نائب قاصد کو ڈانٹ رہا ہوتا ہے۔یا پھر یہ گنگنا رہا ہوتا ہے کہ
زلف اس کی ہے جو اسے چھو لے
بات اس کی ہے جو بنا لے جائے
وزارتِ دفاع کی وقعت کا اندازہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ دس وزرائے اعظم اور چار فوجی حکمرانوں نے یہ قلمدان اپنے پاس ہی رکھا اور کسی کو یہ عہدہ دیا بھی تو ایسے عنایت کیا جیسے غریب رشتے دار پر احسان کیا جاتا ہے۔ جیسے ایوب خان نے وائس ایڈمرل افضل خان کو ، ضیا الحق نے میر علی احمد تالپور کو ، بے نظیر بھٹو نے آفتاب شعبان میرانی کو ، نواز شریف نے غوث علی شاہ کو ، پرویز مشرف نے راؤ سکندر اقبال کو اور یوسف رضا گیلانی نے احمد مختار کو خوش کردیا۔
ایک ایسے وقت جب پاکستان میں اختیارات کا کھیل وزیرِ اعظم ، چیف آف آرمی سٹاف ، آئی ایس آئی اور چیف جسٹس کے درمیان گیند بلا بنا ہوا ہے ۔کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ معیشت پر دباؤ قدرے کم کرنے کے لئے کچھ وزارتیں ایک دوسرے میں ضم کر دی جائیں ۔
آخر وزارتِ دفاع ، خارجہ ، کھیل اور پوسٹل سروسز کو ایک ہی محکمہ بنانے میں کیا قباحت ہے ؟
