قصہ کرسی کا۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلھے شاہ کے قصوریوں نے عمران خان کے’انقلابی جلسے‘ میں خورشید محمود قصوری کی کرسیوں کے ساتھ وہی کر ڈالا جو انیس سو سترہ میں روسی پرولتاریہ نے زار کے محل کے ساتھ کیا تھا۔

یعنی کہ عمران خان جو سونامی لے کر نکلے ہیں اس کے رد انقلاب کا آغاز بلھے شاہ کی بستی والوں نے ہی کر ڈالا۔

پاکستان کے کرسی نشینوں اور خاک نشینوں کے مابین قصہ کرسی کا بڑا عجیب و دلچسپ ہے۔

کبھی پنجابی زبان کے ایک عظیم شاعر استاد دامن نے وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔

کدی روس جانداں ایں کدی چین جانداں ایں

آپے کرسی تے بیہہ کے ساڈی گدی بھی کھچی جانداں ایں

(کبھی روس جاتے ہو کبھی چین جاتے ہو، خود کرسی پر بیٹھ کے ہماری گدی بھی کھینچے جاتے ہو)۔

پھر وہی ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے بطور وزیر اعظم اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا تھا’میں نہیں میری کرسی مضبوط ہے۔‘

لیکن ان کے اس بیان کے دو روز بعد ہی ان کی حکومت کا تختہ اصلی کرسی اور گدی نشینوں نے یعنی فوج نے الٹ دیا۔

اب سردار بریدہ بگٹی قبیلے میں شاید وہ قدیم کہانی آج بھی سنائی جاتی ہو کہ کس طرح ان کے سردار نے بلوچستتان کے سنگلاخ پہاڑوں میں ایک خطرناک سانپ کو مقابلہ کر کے مارا تھا جس کے پھن سے وہ ہیرا نکالا گیا تھا جو پاکستان کے بادشاہ (صدر) کی کرسی میں لگا ہے۔ پرانے بگٹی قبائلیوں کے نزدیک ان کے قبیلے اور سردار کا پاکستان کے بادشاہ سےسارا جھگڑا اس ہیرے پر ہی ہے جو پاکستان کے بادشاہ کی کرسی میں لگا ہے۔

پھر آپ نے دیکھا کہ بلوچستان کے ہیرے لگی کرسی والے بادشاہ پرویز مشرف نے جب اس بوڑھے باغی سردار کو سنگسیلا کے پہاڑوں پر اپنی آخرت سنوارنے کیلیے جانے پر مجبور کیا تو آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ اونٹ پر سوار اس حیرت ناک بوڑھے باغی سردار کے پیچھے اس کے مسلح خدمت گار ایک کرسی بھی اٹھا کر چلتے دکھائي دیتے تھے۔

اور اب بلوچوں سے لیکر نواز شریف تک سب ہیں کہ سابق فوجی آمر کو بوڑھے بلوچ کے قتل کے عوض بجلی کی کرسی پر بیٹھے دیکھنا چاہتے ہیں۔

’رئیس میکوں پھرنی کرسی والی نوکری ڈیوا دے’بینظیر بھٹو کی حکومت کے دنوں میں آصف علی زرداری کو نوابشاہ کے ایک بنک میں کام رکنے والے ان کے قبیلے کے نوجوان نے فرمائش کی تھی۔’پھرنی کرسی‘ سے اس نوجوان کی مراد ریوالونگ چیئر یا گھومنے والی کرسی تھی۔’رئیس‘ نے حکم دیا تھا کہ اس نوجوان کو ریوالونگ چیئر فراہم کی جائے۔‘

لیکن یہ جو پاکستان کے عوام عرف خاک نشینوں کی کرسی ہے وہ تو ان کی اپنی ٹانگوں سے بنی ہوئی کرسی ہے جو پیلے سکولوں کے ٹیچر بچوں کی سزا میں بنایا کرتے تھے۔ ٹیچر سزا کے طور پر قصور وار یا بلاقصور بچوں کو حکم دیتے کہ دیوار سے لگ کر اپنی ٹانگوں کو کرسی بنا کر ٹانگوں پر گھنٹوں بیٹھے رہیں۔

پاکستان کے عوام گزشتہ تریسٹھ سالوں سے اپنی ٹانگوں کی کرسی پر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ جو سافٹ انقلاب ہے جس میں وہ اب قصور میں پلاسٹک کی کرسیوں کو لوٹ کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں سے لگتا ہے کہ عوام نے فصلی بٹیروں جیسے سیاستدانوں کو پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ بھی ویلے نہیں ہیں۔

بقول شخصے کہ پاکستان کے غریب عوام نے صرف کرسیاں چھینی ہیں اچھا ہوا ان کی جسلہ گاہ کے باہر کھڑی ہوئی کاریں چھین کر نہیں لے کر گئے۔

مجھے خوف ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ننگے بھوکے نادار عوام روز روز کے سبز باغوں سے تنگ آ کر سیاستدانوں یا وردی والوں کے کپڑے ہی اتار کر نہ لے جائیں۔

ویسے بھی عوام سے زیادہ کون جانتا ہے کہ بادشاہ کیسے ننگا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں