سب اسٹیبلشمنٹ کے ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا بھٹو کو یحیٰی حکومت کے دوست و مددگار ہونے پر پرکھا جائے گا؟

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں ہر سیاسی مخالف یا کے جی بی کا ایجنٹ ہوتا تھا یا پھر سی آئی اے کے پے رول پر سمجھا جاتا تھا۔

اس سے بھی پہلے متحدہ ہندوستان میں رواج تھا کہ سیاسی مخالف یا تو انگریزوں کا ٹوڈی بچہ ہوتا تھا یا پھر اسے ماسکو کے سرخوں ، برلن کے نازیوں یا ٹوکیو کے سامراجیوں کا بغل بچہ سمجھا جاتا تھا۔بہت کم شخصیات ایسی تھیں جو ایسے کسی بھی لیبل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو پائیں۔

آج کل یہ فیشن ہے کہ سیاسی مخالف یا تو اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی پیداوار اور چمچہ ہوتا ہےیا موساد، را، سی آئی اے، ایم آئی فائیو کا وظیفہ خوار ہوتا ہے یا پھر بنیاد پرست ہوتا ہے اور اگر بظاہر نہ بھی ہو تو بھی اس کے پیٹ میں داڑھی ضرور ہوتی ہے۔

ویسے لکھنئو میں ایسی کون سی رضیہ ہے جس نے اپنے زمانے کی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مجرا نہیں کیا وہ دوسری بات کہ بعد میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے سحر سے نکل گئی اور اس نے علیحدہ تشخص اپنا لیا۔

مثلاً جس انڈین نیشنل کانگریس نے بعد میں ہندوستان کو آزادی دلائی اس کے آٹھ بنیادی ممبروں کا تعلق نا صرف تھیوسوفیکل سوسائٹی سے تھا بلکہ وہ اٹھارہ سو پچاسی میں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی اور اجازت سے ہی کانگریس کا سنگِ بنیاد رکھ پائے تھے۔( ایلن ہوم ، دادا بھائی نوروجی، ڈنشا واچا ، ڈبلیو سی بینرجی ، سریندر ناتھ بینرجی ، من موہن گھوش ، مہادیو رانادے اور ولیم ویڈر برن)۔

آل انڈیا مسلم لیگ جس نے آگے چل کر پاکستان حاصل کیا۔ جب انیس سو چھ میں ڈھاکہ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے دوران مسلم لیگ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تو اجلاس کے صدر نواب سلیم اللہ خان ، حکیم اجمل خان ، سر میاں محمد شفیع ، نواب وقار الملک ، محسن الملک اور مسلم لیگ کے پہلے صدر سر آغا خان سوم سمیت کونسی شخصیت تھی جو اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں نہیں تھی۔

کیا تاریخ ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات پر پرکھے گی کہ وہ پاکستان میں پہلی مارشل لاء کابینہ کے وزیر، ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور ایوب ِخان کے بعد آنے والی یحیٰی حکومت کے دوست و مددگار رہے یا تاریخ میں صرف وہ بھٹو زندہ رہے گا جس نے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر گلی میں کھڑا کر دیا اور ایک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں تختہ دار پر چڑھ گیا اور پیپلز پارٹی کو آنے والے برسوں کے لیے پاکستانی سیاست کا لازمی جزو بنا گیا۔

کیا نواز شریف اس لیے یاد رہیں گے کہ وہ خود کو ضیا الحق کا روحانی بیٹا کہتے تھے، انہیں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور گورنر پنجاب جنرل جیلانی سیاست میں لائے۔ وہ ایجنسیوں کے بنائے ہوئے اسلامی جہموری اتحاد کے کندھے پر سوار ہو کر پہلی مرتبہ وزیرِاعظم بنے یا نواز شریف کا نام تاریخ میں اس لیے آئے گا کہ ان کی زندگی میں ہی ان کی ذہنی کایا کلپ ہوگئی اور آج کی اسٹیبلشمنٹ جمہوریت نواز ، نواز شریف پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

ہو سکتا ہے عمران خان کی تحریکِ انصاف بھی اسٹیبلشمنٹ کی نئے بوتل میں پرانی شراب ہو۔اگر یہ بات درست ہے تب بھی کسے پتہ کہ کل کلاں انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی ، نواز لیگ اور اکبر بگٹی وغیرہ کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی زمین میں بوئے جانے کے باوجود تحریکِ انصاف ایک جداگانہ تاریخ رقم کردے۔۔۔نہیں کیا؟

اسی بارے میں