میری پیش گوئیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دفاعی بجٹ میں اضافے کے بجائے دس فیصد کی رضاکارانہ کمی ہوگی۔جو پیسہ بچے گا وہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو منتقل ہوجائے گا

اس سال پاکستان میں وزیرِ ریلوے غلام احمد بلور کی تمام تر کوششوں کے باوجود ٹرین سروس مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔

پی آئی اے کے سب طیارے بروقت قابلِ پرواز ہوں گے۔کرایوں میں مزید اضافہ نہیں ہوگا اور بہت عرصے بعد پی آئی اے کا خسارہ سال دو ہزار بارہ میں ختم ہوجائے گا اور کمپنی منافع دکھائے گی۔

پاکستان سٹیل ملز کی پیداوار دوگنی ہوجائے گی اور سب پیداوار اندرونِ و بیرونِ ملک کھپ جائے گی۔ پہلی مرتبہ سٹیل ملز حکومت سے مالی مدد لینے سے انکار کر دے گی۔

دفاعی بجٹ میں اضافے کے بجائے دس فیصد کی رضاکارانہ کمی ہوگی۔جو پیسہ بچے گا وہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو منتقل ہوجائے گا۔ملک بھر میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کرنے کا پارلیمانی بل منظور ہوگا اور صحت کے بجٹ میں سو فیصد اضافہ ہوگا۔

پاکستان میں تیل اور گیس کے نئے زخائر دریافت ہوں گے جو ملکی ضروریات کے لئے کافی ہوں گے۔ تھر کول سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔ اظہارِ تشکر کے طور پر حکومت ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو ہلالِ پاکستان عطا کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈی جی آئی ایس آئی بدل جائیں گے۔ کیسے بدلیں گے فی الحال واضح نہیں

بلوچستان میں شہریوں کے اغوا اور ہلاکتوں کا سلسلہ تھم جائے گا اور دوبئی میں پاکستانی حکومت اور بلوچ قوم پرست قیادت کے مابین ایک مذاکراتی سمجھوتے کے تحت اگلے عام انتخابات میں بیرونِ ملک مقیم بلوچ قیادت حصہ لے سکے گی۔اس کے بدلے فرنٹیر کور کو بلوچستان سے واپس بلا لیا جائے گا۔

عمران خان ، جماعتِ اسلامی ، ایم کیو ایم اور پرویز مشرف کی مسلم لیگ دائیں بازو کے ایک بڑے سیاسی اتحاد کا حصہ بن کر الیکشن لڑیں گے۔ان کے مقابل اتحاد میں پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، جمیعت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ق ہوگی۔جبکہ مسلم لیگ نواز اور سندھی قوم پرست تیسرا اتحاد بنائیں گے۔

طالبان ایک امن فارمولے کے تحت کابل کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کرلیں گے اور حامد کرزئی اس حکومت کے بھی صدر ہوں گے۔

اس سال ایک پاکستانی شخصیت ایک بھارتی شخصیت کے ساتھ امن کے مشترکہ نوبیل انعام کے لئے نامزد ہوگی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک اور سیاچن کا تنازعہ طے ہوجائے گا اور دونوں ممالک اپنے اپنے زیرِ قبضہ کشمیر سے فوجیں نکالنے کے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

پاکستانی حکومت سن اکہتر کے واقعات پر حکومتِ بنگلہ دیش سے باقاعدہ معافی مانگےگی اور حکومتِ بنگلہ دیش اس کا خیرمقدم کرے گی۔اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی کدورت ختم ہوجائے گی۔

ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) کی تحویل میں دے دے گا۔بعد ازاں ایران اور خلیجی عرب ممالک کی مشترکہ اقتصادی یونین کی داغ بیل پڑ جائے گی۔اس یونین کا پہلا سیکرٹری جنرل ایک ایرانی ہوگا اور یونین کا ہیڈکوارٹر ریاض میں ہوگا۔

اسرائیل اور امریکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تسلیم کرلیں گے اور امریکہ نئی ریاست کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت کی درخواست ویٹو نہیں کرے گا۔

بات یہ ہے کہ میں پچھلے چوبیس گھنٹے سے جاگ رہا ہوں ۔نیو ایر نائٹ نے جوڑ جوڑ ہلا دیا ہے۔اس وقت مجھے ہر شے دو دو کی جوڑی میں نظر آ رہی ہے۔ زرا نیند پوری ہوجائے تو پاکستان اور دنیا کے بھلے ہوں نا ہوں میرے حالات تو یقیناً بہتر ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں