غداری کے سرٹیفیکیٹ، ایک تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’اوہ جیہڑا جالب سی نہ! اوہ غدار سی غدار! قید ہوئیا چنگا ہوئیا‘ یہ وہ الفاظ تھے پاکستان کے عوامی شاعر حبیب جالب کے محلے والوں کے جو یہ اس وقت کہتے جب جالب گرفتار ہو کر جیل چلے جاتے۔ وہ حبیب جالب، آج جن کے شعر اگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور پاکستان کے صدر آصف علی زداری سمیت پاکستانی حکمران اپنے جلسوں میں نہ پڑھیں تو ان کی سیاسی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔

پاکستان میں غداری کے القاب و سرٹیفیکیٹس بانٹے جانے کی تاریخ شاید پاکستان کی اپنی تاریخ سے بھی کہیں زیادہ پرانی ہے اور غداری کے ٹھپے بنانے کی فیکٹری کا سفر آج بھی جاری و ساری ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا بھی وقت آیا کہ جب تاج برطانیہ سے غداری کے الزامات تلے آنے والے اسی مٹی کی خمیر سے اٹھے ہوئے رہنما اور کارکن برصغیر میں انگریزوں سے نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان میں حکومتوں کی جانب سے بھی غدار ٹھہرائے گئے۔

اس کی ایک بڑی مثال خدائي خدمت گار اور ’سرحدی‘ گاندھی خان عبدالغفار خان باچا خان ہیں جنہیں آخر عمر تک اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت غدار کہا جاتا رہا۔ پھر وہ غفار خان کے ساتھ ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب تھے کہ بیٹے خان عبدالولی خان کہ ان کے پوتے اسفند یار ولی، اجمل خٹک کے زمانوں سے پہلے حاجی ترنگ زئي جیسے درویش (جن کے مزار پر کچھ عرصہ قبل طالبان نے قبضہ کیا تھا) یہ سب کے سب ایک یا دوسرے دور میں غدار ٹھہرائے جاتے رہے تھے۔

سابقہ مشرقی پاکستان میں حسین شہید سہروردی، مولانا عبد الحمید بھاشانی اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کو غدار کہا گیا۔ اگرتلہ سازش کیس کے تحت ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور دوسری بار انیس سو اکہتر میں ان پر خفیہ طور پر مقدمہ چلا کر انہیں سزائے موت دے دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے برسرِ اقتدار آتے ہی شیخ مجیب الرحمان کی سزائے موت منسوخ کر دی تھی اور پھر اسی ’غدار‘ ٹھہرائے جانے والے شیخ مجیب الرحمان کے بنگلہ دیش کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے ان کی آمد کے موقع پر انہیں اکیس توپوں کی سلامی بھی دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ بھی انسانی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ہوا ہو کہ پوری کی پوری قوم اور فوج کا ایک بڑا حصہ بھی غدار کہلایا جائے۔انیس سو اکہتر میں پاکستان کی تاریخ میں اس روایت کی بھی داغ بیل ڈال دی گئی جب پورے کی پوری بنگالی قوم کو غدار کہا گیا اور پاکستانی فوج میں بنگالی فوجیوں کو بھی غدار۔

شاید لاہور کے پرانے لوگوں کو یاد ہو کہ اسی عاصمہ جہانگیر کے والد ملک جیلانی شیخ مجیب الرحمان کے پنجاب میں چند حامیوں اور دوستوں میں سے ایک تھے۔ وہ اکیلے ہی ان کی آزادی کے لیے بینر لیے مال روڈ پر کھڑے ہوا کرتے تھے۔

یہی عاصمہ جہانگير جو جوانی میں داخل ہوتے ہی اپنے ابا کو حبسِ بیجا میں رکھنے کے خلاف مقدمہ لڑتی رہی تھیں جسے پاکستان میں مشہور عاصمہ جیلانی کیس کہا جاتا ہے۔ اسی کیس میں ججوں نے جنرل یحییٰ کو فقط اس وقت غاصب کہا تھا جب وہ اقتدار میں نہیں رہے تھے۔

عبد الصمد خان اچکزئی پیر آف مانکی شریف، میاں افتخار الدین، فیض احمد فیض، مظہر علی خان، شيخ ایاز جیسے لوگ بھی مختلف دور میں حکومتوں اور ان کی کاسہ لیس میڈیا عرف قومی میڈیا کی طرف سےغدار قرار دیے جاتے رہے تھے۔

ایوب خان کے دور حکومت میں بلوچ رہنما نوروز خان اور اس کے بھائيوں اور بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ عطاءاللہ خان مینگل ان کے بھائي نورالدین مینگل، غوث بخش بزنجو، خیر بخش مری، دود ا خان زرکزئي ، اور بلوچ قومی شاعر گل خان نصیر کو بھی غدار قرار دیا جاتا رہا جبکہ اکبر بگٹی کو سزائے موت سنائی گئی جو بعد میں معاف کردی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھی قوم پرست رہمنا جی ایم سید شاید غفار خان کے بعد اس ملک میں سب سے ’سینیئر غدار‘ تھے جنہیں اٹھائیس سال تک مختلف وقفوں سے تادم مرگ نظربند رکھا گیا اور ان کا انتقال بھی بینظیر بھٹو کی حکومت میں دوران نظر بندی میں ہوا تھا۔

بلکہ نظریہ ضرورت کی طرح غداری کے بھی سرٹیفیکیٹ حکومتیں، فوج اور میڈیا بانٹتے رہے۔

جنرل ضیاء کے آمرانہ دور حکومت میں غلام مصطفیٰ کھر اور جام صادق علی کو ’را کا ایجنٹ‘ بتایا گیا اور ان کے نام اٹک سازش کیس کے حوالے سے آئے۔ لیکن پھر اسی کھر اور جام صادق علی کی غداری کی سند پھاڑ کر انہیں بوقت ضرورت اعلیٰ عہدوں پر بھی بٹھایا گیا۔

غداروں کی فہرست میں ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ، الطاف حسین، مرتضیٰ بھٹو اور بینظیر بھٹو بھی بتائے جاتے رہے۔

تاریخ پلٹا کھاتی ہے اور پھر وہی حسین حقانی جو کہ اپنی اسی خالق اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سخت زیر عتاب آئے ہوئے ہیں اور غداری کے مقدمے کی تلوار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ حب الوطنی کے کچے دھاگے میں باندھے ان کے سر پر لٹکائے رکھی ہوئی ہے۔ یہ ملک غداروں اور وعدہ معاف گواہوں کی فیکٹری ہے اور منتخب وزرائے اعظم کا مقتل گاہ ہے۔ پھر وہی عاصمہ اسی طرح ان کا مقدمہ لڑتی رہی ہے جس طرح وہ ملک جیلانی کا مقدمہ لڑتی رہی تھی کہ کردار وہی رہتے ہیں صرف غدار بدلتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں