ایک تھا بادشاہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر پگارا نے کبھی اپنے ماضی کو نہیں چھیڑا

میں نے کبھی کوئی لائیو بادشاہ نہیں دیکھا لیکن میں نے پیر پگارا کو قریب سے دیکھا تھا۔ شاہ مردان شاہ دوئم با المعروف سکندر شاہ و پیر پگارا اپنے حروں کے بادشاہ تھے۔ با تاج بادشاہ۔

پاکستانی سیاست میں آپ انہیں بادشاہ گر یا پاور بروکر بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وہ ایک انتہائی دلچسپ انسان اور لبرل شخص بھی تھے۔

پاکستانی فیوڈل کلاس کلچر میں وہ پاکستان کے سب سے طاقتور پیر ہونے کے باوجود آپکی کافی اپنے ہاتھ سے بناتے تھے، آپ کو سگریٹ پیش کرتے اور ہنسی مذاق میں پاکستان کے حال اور مستقبل کا پورا زائچہ نکال کر رکھ دیتے۔ وہ ملاؤں کے نہیں صوفیوں کے قریب تھے۔ سندھ کے وہ دوچند پیروں اور جاگیرداروں میں سے تھے جو عورتوں کی آزادی کے قائل تھے۔

پاکستان میں ضیاء آمریت کے دنوں میں اخبار فرنٹئیر پوسٹ میں کارٹونسٹ فیقا نے اتنے کارٹون ضیاء کے نہیں بنائے ہونگے جتنے سرورسکیھرا کے ہفت روزہ دھنک میں جاوید اقبال نے اور کارٹونسٹوں نے پیر پگارا کے بنائے اور جن میں سے کئی چھانٹ کر انہوں نے جمع کیے ہوئے تھے۔

وہ واحد سیاستدان اور طاقتور شخصیت تھے جو اپنے کارٹونوں اور اپنے خلاف چھپی ہوئی کسی بھی چيز پر شاید ہی کوئی اعتراض کرتے بلکہ اپنے کارٹونوں پر کہتے ’اس میں بھلا برا منانے کی کیا بات ہے۔ میں تو اس ملک میں بڑا ہوکر آیا ہوں جہاں یسوع مسیح کے کارٹون شایع ہوا کرتے ہیں۔‘ وہ صحافیوں کو انٹرویو دینے سے زیادہ ان کا انٹرویو لینا پسند کرتے تھے۔

اسٹبلشمینٹ نواز اور جی ایچ کیو کا آدمی کہلانے والے پیر پگارا کی پہلی سیاسی پارٹی شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ تھی۔

وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے اور ان کے ساتھ والی نشست پر ان کے بیٹے کو بھی بیٹھنے کا حکم نہیں تھا کیونکہ پیر پگارا کی حر جماعت پیر کا ہمسر کسی کو بھی نہیں سمجھتی۔

پتنگ باز، شکاری، گھڑ دوڑ کا شوقین اور ستاروں کا علم اور طوطا رکھنے والا اور استرے کی کاٹ جیسا طنز رکھنے والا پیر۔ دولت کا رسیا ہونے والے پیر نے کبھی کیش کو ہاتھ تک نہیں لگایا نہ ہی اپنی جیب میں رکھا۔ جس کا سب کچھ کپڑوں تک اپنا نہیں ان کی جماعت یعنی حر جماعت کا ہے۔ اور واقعتاً حروں کا کہلاتا ہے۔

حر پاکستان اور ہندوستان میں ایک انتہائی ‘کلوز نٹ بردار ہوڈ سوسائٹی’ یا بند برادرانہ سماج ہے جن کے تیرہ چیف خلیفے اور بارہ خلیفے اپنے پیر کو منتخب کرتے ہیں جو حسب نسب پر یا چھوٹے بڑے پر نہیں بلکہ ان کے تک ’میرٹ‘ پر ہوتا تھا۔ پیر پگارا حروں کے ہر سفید و سیاہ کا مالک ہوتا ہے۔ حر اسے بادشاہ کہتے ہیں۔ وہ ان کیلیے خدا کے بعد زمینوں اور آسمانوں پر ایک طاقتور شخص ہے۔

پیر کے حر دو قسم کے ہیں ایک سالم اور دوسرے فرقی۔ فرقی یعنی فرق رکھنے والے راسخ العقیدت حر ہوتے ہیں۔ ’پیر سائيں پگارا ! اللہ سائيں کی خير کرنا‘ شاید کئی فرقی حر آج بھی دعائیہ طور پہ یہ کہتے ہیں۔

پیر کے حروں کو ہمیشہ پیر صاحب سے ایک شکایت رہی کہ وہ انہیں حکم نہیں کرتے کہ کسی کا سر اتار کر لاؤ یا ان کے نا م پر سر قربان کردو۔ وہ کہتے پیر صاحب ایسی باتوں کے سخت خلاف ہیں ۔

پیر اور اس کے حر دیو مالآئی قصوں اور حقیقی کہانیوں کے بیچ رہنے والے لوگ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر پگارا کی پہلی سیاسی پارٹی شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ تھی

مثال کے طور پر ایک دیو مالائی قصہ یہ ہے کہ حر سمجھتے ہیں کہ ان کا سورہیہ بادشاہ (سورما بادشاہ) سید صبغت اللہ شاہ (پیر پگارا کے والد) جن کو انگریزوں نے پھانسی دی تھی وہ پھانسی پانے کے بعد آسمان میں غائب ہوگۓ تھے۔

اور یہ بھی کہ ان کے جانشیں (حال ہی میں وفات پانے والے پیر پگارا) سن انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے دوران سکھر والے پل پر سبز پوش بن کر بھارتی طیاروں سے گرائے جانے والے ’گولے‘ (بم) اپنے ہاتھوں میں پکڑتے، مریدوں کو دیتے اور مریدوں کے ہاتھوں میں پہنچتے پہنچتے بم تربوز بن جاتے۔

انیس سو تیس کے عشرے سے ہی حروں پر انگریزوں کے مارشل لاء سے لیکر حروں اور ان کے پیر پگارا کے متعلق کئی افواہیں اور قصے مشہور کردیے گئے تھے۔

حر پاکستان میں وہ شہری اور انسان ہیں جن کی نسلیں اپنے گرد انگریزوں اور انگریزوں کے بعد انیس سو باون تک سرکاری پہرے میں کانٹے دار باڑھوں والی بستیوں میں پیدا اور جوان ہوئی۔ ان میں سے کئی حر آج بھی ہیں جنہوں نے پاکستان کا پرچم پہلی بار باڑھوں والی جیلوں سے دیکھا تھا۔

انیس سو بیالیس میں برطانوی فوج کی حیدرآباد بریگیڈ کے میجر رچرڈسن کی سربراہی میں پیر پگارا کی بمباری سے کھنڈر بنی حویلی پر سے پھانسی یافتہ پیر کے دونوں بیٹوں چودہ سالہ شاہ مردان شاہ اور بارہ سالہ نادر شاہ کو ان کے خلیفے علی بخش جونیجو کی اتالیقی میں انگریز اپنے ساتھ لے گئے۔ پہلے ان بچوں کو علی گڑھ اور پھر انیس سو پچاس تک برطانیہ میں رکھا گیا جہاں ان کی تعلیم ہوئي۔

انیس سو باون میں جب پیر پگارا کے دونوں بیٹے واپس آئے جو کہ کہتے ہیں کہ لیاقت علی خان نے صرف تب انہیں برطانیہ سے واپس لانے اور ان کی گدی بحال کرنے کا اعلان کیا جب بھارت میں تب کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پیر کے مریدوں اور ان کی گدی پر سے پابندی ہٹادی۔

پیر پگارا پھر ایک اور دیومالائی قصے کے درمیاں گدی پر بھٹائے گئے کہ یہ برطانیہ نے کسی اور کو پیر پگارا کا بیٹا بنا کر بھیجا ہے۔ بہرحال پیرپگارا کے ہمراہ ان کے ’اتالیق‘ کے طور پر گئے ہوئے علی بخش جونیجو اور خاندان کے دوسرے افراد نے اس کی تصدیق کی یہ وہی بچے ہیں جنہیں انگریز ساتھ لے کر گئے تھے۔

پیر پگارا نے کبھی اپنے ماضی کو نہیں چھیڑا بلکہ ایک انٹرویو کے دوران ان سے ان کے جلاوطنی کے بچپن اور جوانی کے بارے میں پوچھا تھا تو ان کا کہنا تھا ’میں تم سے کیوں شیئر کروں ۔ یہ باتیں میری خود نوشت سوانح عمری کا حصہ ہیں۔‘

پیر پگارا نے وطن واپسی پر سیاست میں حصہ لیا کسی بھی حکومت کی مخالفت نہیں کی سوائے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے۔

بھٹو سے ان کی خاندانی دیرینہ دوستی سیاسی دشمنی میں بدل گئی۔ ضیاء الحق کو اپنا وزیر اعظم محمد خان جونیجو دیا۔ وہ ضیاء حکومت سے پاکستان میں بادشاہ گر یا اسٹبلشمینٹ نواز پاور بروکر سمجھے گئے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ ان کے مریدوں میں آج تک یہ دیو مالائی قصہ مشہور ہے کہ ضیاء کا بہاولپور میں ہوائی حادثے میں خاتمہ بھی پیر پگارا کی ہی کرامات کا نتیجہ تھا۔

اسی بارے میں