مفتے سے بھاگ لے!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب تک ایک سو نو مفت میں مرگئے اور ڈھائی سو کے لگ بھگ ناقص ادویات کھا کر ہسپتالوں میں موت کے فرشتے سے مفت میں نبرد آزما ہیں لیکن لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آج بھی دل کے امراض کے لیے مفت ادویات کی تقسیم کی قطاریں اتنی ہی طویل ہیں۔ ثابت ہوا کہ لاچاری و مجبوری کی کیفیت بہادری سے زیادہ طاقت ور ہے۔

حکومتِ پنجاب نے سیکریٹری صحت، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ اور ہسپتال کے سٹور کیپر سمیت کئی اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ دوا ساز کمپنیوں کے کچھ ذمہ داران پولیس کی تحویل میں ہیں۔ لیکن یہ اقدامات کرنے والے خادمِ اعلٰی میاں شہباز شریف کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ استعفٰی کی پیشکش تو درکنار، وہ تو وزارتِ صحت کا قلمدان کلیجے سے الگ کر کے کسی اہل شخص کے حوالے کرنے کو بھی تیار نہیں۔

مزید یہ ہورہا ہے کہ ناقص ادویات کا سکینڈل صوبے اور وفاق کی ٹیموں کے درمیان فٹ بال بن چکا ہے۔ کبھی الزام کی کک لگا کر اسے لاہور کی طرف پھینکا جارہا ہے تو کبھی اسلام آباد کی جانب۔

اس سے بھی بڑا سانحہ شاید یہ ہے کہ پاکستان میں جولائی دو ہزار دس کے بعد سے ادویات کے معیار اور رجسٹریشن کے معاملات دیکھنے کے لیے کسی مرکزی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا عملاً وجود نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کا محکمہ بھی صوبوں کے حوالے ہوگیا ہے جبکہ وفاقی ڈرگ اتھارٹی کا عارضی چارج کیبنٹ، دفاع اور وزیرِ اعظم کی پرنسپل سیکرٹری محترمہ نرگس سیٹھی کے پاس ہے۔ اس بے حسی کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ نیشنل ڈرگ اتھارٹی بظاہر فوت ہوچکی ہے لیکن جنازہ پڑھانے پر کوئی آمادہ نہیں۔

مگر سب سے زیادہ قصور خود عوام کا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ غریب کیوں ہیں؟ دوسری بات یہ کہ وہ آخر جینا کیوں چاہتے ہیں؟ اور کسی وجہ سے اگر جینا چاہتے ہیں تو مفت دوا، تعلیم اور چھت کی خواہش کے ساتھ کیوں جینا چاہتے ہیں؟ پھر تو ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیے۔

دو ہزار دس کے پاکستان میں آنے والے ملک گیر سیلاب کے بعد بحالی کے سلسلے میں حکومتِ سندھ کو سیلاب متاثرین کے لیے مفت مکانات کی تعمیر کی مد میں جو رقم دی گئی تھی آج بھی اس میں سے ڈھائی ارب روپے جوں کے توں ہیں اور دو برس بعد ایک مکان بھی نہیں بن سکا۔

دو برس پہلے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت پچاس ہزار بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت ملنی تھی آج تک کوئی نہیں بتاتا کہ کتنے اور کون سے نوجوان اس سکیم سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوسکے۔

مفت دوا ہو کہ تعلیم کہ مکان کہ روزگار، غریب کے نام پر یہ سب اربوں روپے کا ایک اور کاروبار ہے۔ پنجاب میں دو روپے کی سستی روٹی کی سکیم زبردست تشہیر کے ساتھ شروع ہوئی اور پھر ایک دن کروڑوں روپے کے بلیک ہول میں غائب ہوگئی۔ کیا غربت ختم ہوگئی یا جن کی مفاداتی روٹیاں پکنی تھیں پک چکیں؟ اور کیا کبھی کسی نے انہیں بھی دو روپے کی روٹی لیتے دیکھا جو اس سکیم کے مالیاتی لطف اٹھا رہے تھے۔

مگر مجبوروں کو کون بتائے کہ آج کل کے فری فار آل لوٹ مار زمانے میں تو داتا صاحب بھی اپنے بے چاروں کو ڈھنگ کا کھانا فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ مزار کے باہر سینکڑوں دوکانوں پر پلاؤ کے نام پر محض سرخ مرچ، نمک اور پانی والے ابلے چاول اور دال داتا کا لنگر کہہ کر بانٹے جاتے ہیں۔

کیا عجب کہ داتا صاحب بھی آج حیات ہوتے تو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بےکس لائن میں دکھائی پڑتے۔

اسی بارے میں