بس اتنا بتادیں !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رنکل عرف فریال نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا نکاح نوید شاہ سے ہوچکا ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

پاکستانی آئین و قانون کی نظر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے سوا دیگر تمام شہری نا صرف غیر شادی شدہ ہیں بلکہ کوئی ہندو، سکھ ، بہائی یا پارسی زن و مرد اگر مذہبی لحاظ سے شادی کر بھی لیں تب بھی اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

جس طرح پاکستانی عیسائیوں کو کرسچن میرج ایکٹ مجریہ اٹھارہ سو بہتر اور کرسچن ڈائیورس ایکٹ مجریہ اٹھارہ سو انہتر کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے اور جس طرح پاکستانی مسلمانوں کو مسلم عائیلی قوانین ایکٹ مجریہ انیس سو اکسٹھ کی چھتری میسر ہے، ایسا کوئی قانونی تحفظ پاکستان کے لگ بھگ پچاس لاکھ ہندو، سکھ، بہائی اور پارسیوں کو میسر نہیں۔

ہندو پاکستان میں آباد سب سے بڑا غیر مسلم گروہ ہیں۔ اگرچہ بھارت میں نافذ ہندو میرج ایکٹ مجریہ انیس سو چھپن میں طلاق کا حق موجود ہے لیکن پاکستان میں آباد ہندو کمیونٹی کے علما طلاق کا حق دینے کے مخالف ہیں۔ چنانچہ ہندو میرج ایکٹ کا مسودہ گذشتہ چار برس سے پاکستانی پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پڑا ہے۔ حالانکہ نومبر دو ہزار دس میں سپریم کورٹ اس مسئلے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ہندو میرج ایکٹ کی جلد از جلد تدوین کے احکامات بھی جاری کرچکا ہے۔

ہندو میرج ایکٹ نا ہونے کا سب سے زیادہ نقصان عورت کو ہو رہا ہے۔ شادی شدہ ہونے کے باوجود اس کے پاس بطورِ ثبوت ایسی کوئی قانونی دستاویز نہیں جس کی مدد سے وہ قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ پر اپنے شوہر کا نام یا عائلی سٹیٹس لکھوا یا بدلوا سکے یا بطور بیوی شوہر کے ساتھ سفر کر سکے یا شوہر کی جائیداد میں سے قانونی حصے داری کا مطالبہ کر سکے یا اغوا ہونے کی صورت میں عدالت کے سامنے ثابت کر سکے کہ وہ پہلے ہی سے اپنے کسی ہم مذہب کے عقد میں ہے چنانچہ دوسری شادی نہیں کر سکتی۔

بھلے وقتوں میں محمد بن قاسم جیسے جری ہیرو کسی بھی مظلوم مسلمان عورت کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے۔ بعد ازاں نسیم حجازی نے اس کارِ خیر میں خاصی معاونت کی اور ان دنوں عافیہ صدیقی پر ہونے والے ظلم و ستم پر جماعتِ اسلامی کے ہزاروں کارکنان آواز بلند کرنے کے لیے میسر ہیں۔ لیکن اسی پاک سرزمین پر جوشِ ایمانی سے تمتماتے درجنوں کلاشنکوف برداروں کے درمیان گھری نہتی لتا کماری اور رنکل کماری عدالت کے روبرو بھی کسے آواز دیں، کس کی طرف دیکھیں؟

وہ کہہ رہے ہیں کہ خبردار ان بیبیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھنا۔ اب یہ مسلمان ہیں؟ اب ان کا سگے والدین اور بہن بھائیوں سے بھی کوئی رشتہ نہیں؟ انہوں نے اپنی مرضی سے کلمہ پڑھا۔ اب کسی نے منہ سے کوئی دوسری بات بھی نکالی تو منہ سمیت کچھ بھی نا بچے گا۔

اے قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں، او انسانی حقوق کمیشن، ارے وزارتِ مذہبی و اقلیتی امور، عزت ماآب اسلامی نظریاتی کونسل، محترم وفاقی شرعی عدالت اور قبلہ وفاقی محتسب، میں آپ سے لکم دینکم ولی یدین اور لا اکراہ فی الدین کا ترجمہ ہرگز ہرگز نہ پوچھوں گا۔۔۔

بس یہ بتا دیجئے کہ،

کسی غصب شدہ زمین پر مسجد کی تعمیر اور کلاشنکوف کے سائے میں کلمہ پڑھانے کے عمل کی مذہبی حیثیت کیا ہے؟

اسی بارے میں