حافظ سعید کی بے خوف اخباری کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہاں کوئی بھی ڈالروں کی لالچ میں نہیں آیا تھا اگرچہ ایک کروڑ ڈالر ان کے سامنے گھوم رہے تھے۔

وہ سب صحافی تھے لہٰذا خبر ہی ان کا مقصد تھا لیکن ایک صحافی کا جملہ اس بابت ساری گفتگو پر بھاری رہا کہ ’ہُو وانٹس ٹو بی اے ملینیئر؟‘ ایک کروڑ ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

یہ صورتحال تھی گزشتہ روز جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی راولپنڈی میں اخباری کانفرنس کے دوران۔

ایک دن قبل ہی امریکیوں نے اچانک حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے کے بدلے ایک کروڑ ڈالر انعامی رقم کا اعلان تھا اور یہاں دو درجن کیمروں کے سامنے تمام جلوے کے ساتھ وہ موجود تھے۔ نہ کوئی گھبراہٹ نہ کوئی خوف۔

تمام شو بظاہر بڑی احتیاط سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے ہر پہلو سے دنیا کو ایک بھرپور پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اکثر جہادی رہنماؤں کے اردگرد آپ کم از کم دو تین مسلح محافظ ضرور دکھاتے ہیں۔ انہیں اس طرح دیکھنے کی عادت سے ہوگئی تھی معلوم نہیں یہ روایت کب ختم ہوئی۔ حافظ محمد سعید کے محافظ ہمراہ ضرور تھے لیکن اسلحہ نہیں تھا۔ احتیاط کے طور پر ایک عدد کلاشنکوف بھی نہیں دکھائی دی۔

لیکن جو پیغام راولپنڈی کے اس ہوٹل کے انتخاب سے کافی کھل کر سامنے آیا وہ اس مقام کی پاکستانی فوج کے ہیڈکواٹرز یعنی جی ایچ کیو سے قربت تھی۔

جی ایچ کیو کے بالکل سامنے اس سرکاری ہوٹل کے انتخاب کا یقیناً ایک مقصد تھا، شاید امریکہ کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان کی طاقتور فوج ان کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کا اظہار کافی تاخیر سے چند گھنٹوں بعد وزارت خارجہ نے بھی چار سطور کا ایک بیان داغ کر دیا کہ ’ٹھوس ثبوت‘ کی فراہمی تک ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں۔

حافظ محمد سعید کو بھی اس ہوٹل آنے یا جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ ایسا احساس ہوا جسے انہیں نا اپنے بارے میں اور نا اپنے مہمانوں کے بارے میں کوئی تشویش تھی۔

یہ اخباری کانفرنس بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر بیت اللہ محسود کی موت سے قبل جنوبی وزیرستان میں پریس کانفرنس جیسی محسوس ہوئی جس میں میزبان تو پرسکون دکھائی دیے لیکن مہمان پریشان کہ ’یہ کیا ماجرہ ہے۔ سر پر ڈرون گشت کر رہے ہیں اور طالبان کو کوئی ٹینشن نہیں۔‘ یہاں بھی دنیا کی واحد عالمی طاقت نے اتنی بڑی رقم لگا دی اور یہاں کسی کے کان پر جو تک نہیں رینگی۔

طالبان کے ساتھ ایک دوسری مماثلت بھی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ یہ بات ہے انیس سو اٹھانوے ننانوے کی جب امریکہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا راگ الاپ رہا تھا۔ جواب میں طالبان امریکہ سے شواہد کا تقاضا کرتے تھے اور بات آگے نہیں بڑھتی تھی۔ بلآخر نہ ثبوت آئے اور نہ طالبان کی تسلی ہوئی لیکن بی باون ضرور آ دھمکے۔

ابھی ایسی کسی امریکی کارروائی کے اشارے تو نہیں لیکن تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر امریکہ نے انعام رکھ کر آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے تو پاکستان نے بھی لفٹ نہ کروا کر اُلٹی چپیڑ لگا دی ہے۔

امریکہ نے اپنے وضاحتی بیان میں اب کہا ہے کہ یہ انعامی رقم حافظ سعید کی موجودگی کے بارے میں اطلاع کے لیے نہیں بلکہ ان کے ممبئی حملوں سمیت دیگر حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں ایسے شواہد فراہم کرنے والے کو دئیے جائیں گے جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر کے سزا دلوائی جاسکے۔ یعنی ایک طرح سے امریکہ نے شواہد کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے ’شرلاک ہومز‘ بننے کی ذمہ داری پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ عوام پر ڈال دی ہے۔

اخباری کانفرنس میں حافظ سعید نے اپنے آپ کو پرامن فلاحی کارکن کی حیثیت سے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے اب بھی بڑی تعداد میں لوگ متفق نہیں۔ ان کا اصرار رہا کہ ’ہم بےگناہ عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہیں۔ ہم دیگر ممالک میں بھی امن کے خواہاں ہیں۔‘

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن حافظ سعید نے ان دو جملوں کے آگے لیکن اگر مسلمانوں پر مظالم ہوتے ہیں ان کے حقوق چھینے جاتے ہیں تو پھر ان کا موقف کیا ہوگا اس بارے میں انہوں نے بات کرنے سے جان بوجھ کر مکمل اجتناب کیا۔ یہ موقع ایسی متنازعہ موضوع چھیڑنے کا نہیں تھا۔

لمبی سیاہ داڑھیوں اور اونچی شلواروں والے کارکنوں پر مشتمل جماعت الدعوۃ اپنے آپ کو ایک پرامن فلاحی تنظیم کے طور پر پیش کر رہی تھی لیکن خدشہ یہی ہے کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہوتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی امریکی اور بھارتی مداخلت پر پریشان ہے ایسے میں دفاع پاکستان کونسل اہم کردار ادا کرنے نکل پڑی ہے۔

اسی بارے میں