وہ بھی مارا گیا

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کے جنازے میں بچپن اور جوانی کے لگ بھگ سبھی شیعہ، سنی، اسماعیلی دوستوں کو شرکت کا موقع مل گیا۔

وہ بھی انہی میں سے ایک بس میں سوار پنڈی سے گلگت جا رہا تھا اور اپنے تئیں سب سے محفوظ اور بے خوف مسافر تھا۔ کیونکہ وہ نہ تو شیعہ تھا اور نہ ہی سنی۔ البتہ اسے کبھی کبھی یہ دکھ ضرور ہوتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو بنا جانے بوجھے کیسے مار ڈالتے ہیں۔

اور یہ محض خامخواہ کا دانشورانہ دکھ نہیں تھا۔ نہ ہی اس کے پیچھے حب الوطنی کا کوئی روایتی جذبہ تھا اور نا ہی وہ اتحادِ بین المسملین کا ٹھیکے دار تھا۔ اس کی یہ تکیلف لگ بھگ ویسی ہی تھی جیسی کسی بھی عام سے پڑھے لکھے نیم خوشحال نوکری پیشہ کو ایک اپنائیت آمیزی کے نتیجے میں ہو جاتی ہے ۔ البتہ اس کے ددھیال میں کچھ شیعہ ضرور تھے اور ننہال میں کچھ سنی بھی۔ مگر اس کا باپ اور وہ خود اسماعیلی تھے۔

آپ اس شخص کی آدھا تیتر، پونا بٹیر طرح کی خاندانی ساخت سے بالکل پریشان نا ہوں۔ جنرل ضیا کے دور سے پہلے گلگت بلتستان میں یہ عام سی بات تھی کہ ایک ہی خاندان میں چچا شیعہ ہے تو باپ سنی تو ماموں اسماعیلی اور صرف گلگت بلتستان ہی کیا یوپی، حیدرآباد دکن ، سندھ اور پنجاب میں بھی ایسی بہت سی مثالیں تھیں اور ہیں۔ بس یہ ہے کہ پہلے ایسی رشتہ داریوں کو ان ہونا نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ معاشرہ روشن خیال ہو نا ہو وسیع المشرب ضرورہوا کرتا تھا۔

(لو میں بھی کیا مشکل مشکل لفظ استعمال کرنے پر اتر آیا ہوں ۔ بھلا آج کتنوں کو وسیع المشرب جیسے متروک لفظ کا مطلب اور استعمال معلوم ہوگا)

جب بس چلاس پہنچی تو مسلح افراد نے روک لی۔ سب مسافروں کو اتارا گیا۔ سب عورتوں مردوں کے شناختی کارڈ چیک ہوئے۔ کچھ مسافروں کو واپس بس میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی اور باقیوں کو وہ لے گئے۔

تین روز بعد تصدیق ہوگئی کہ اوروں کے ساتھ وہ شخص بھی مارا گیا۔ وہ بھی ایک لاش کی صورت کچھ اور لاشوں کے ہمراہ دوبارہ پنڈی پہنچ گیا۔ خوش قسمتی سے اس کی لاش کو گلگت جانے والے طیارے میں بھی جگہ مل گئی۔ البتہ زندہ ماں، بہن، بیوی، بچے اور چھوٹے بھائی کو طیارے میں سیٹ نا مل سکی۔ جس بس میں وہ سوار ہوا تھا اسی بس میں اس کی ایک شیعہ کزن بھی سوار تھی جو تاحال لاپتہ ہے۔

سنا ہے گلگت کے مضافاتی علاقے میں اس کے جنازے میں بچپن اور جوانی کے لگ بھگ سبھی شیعہ، سنی، اسماعیلی دوستوں کو شرکت کا موقع مل گیا۔ انہوں نے ہی اسے قبر میں اتارا اور پھر پنڈی میں ائرلائن کے دفتر کے چکر لگانے والے خاندان کو اطلاع دے دی کہ تدفین بخیریت ہوگئی ہے۔ یہ خبر سکھ کا پہلا سانس تھا جو اس کے مرنے کے بعد گھر والوں کو میسر آیا۔

یہاں تک کی روداد تو میں سہولت سے لکھ گیا۔ لیکن اب میں ایک مشکل میں پھنس گیا ہوں۔ بھلا ایک ایسا اسماعیلی جسے سنیوں نے شیعہ سمجھ کر مار دیا، اسے میں کیا لکھوں؟ کیونکہ اس کی رگوں میں تو پچاس فیصد اسماعیلی اور پچیس، پچیس فیصد شیعہ اور سنی خون دوڑ رہا ہے۔

تو کیا مجھے یہ کہنے کی اجازت ہے کہ چلاس میں جو لوگ بسوں سے اتار کر مارے گئے ان میں ایک اسماعیلی العقیدہ شیعہ نژاد سنی انسان بھی تھا؟

اسی بارے میں