عدنان رشید کے ساتھ گزرے چند ماہ

اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان

پچھلے چند دن بہت اچھے گزرے۔ جب بھی اپنا ای میل کھولتا، کچھ نئے خط، نئے مشورے، نئے خیال اور بہت سی تنقید پڑھنے کو ملتی جو آپ نے ایڈیٹر کے انتخاب میں بھیجی۔

لگتا یوں ہے کہ حالات حاضرہ سے باخبر رہنے والے زیادہ تر افراد پاکستان میں میڈیا کے کردار سے خوش یا مطمئن نہیں۔ ان کے خطوط پڑھ کر مجھے محمد خان جونیجو کے دور میں نو آزاد پرنٹ میڈیا یاد آیا جس کا حال یکایک مادر پدر آزادی پا کر موجودہ دور کے الیکٹرانک میڈیا سے کچھ مختلف نہ تھا۔

اکثر و بیشتر ایسی چیزیں چھپ جاتیں جو کسی بھی مہذب ماحول میں مدیران کو ان کے زیادہ تر عملے سمیت جیل پہنچا دیتیں۔ یہ لگ بھگ بیس پچیس برس پہلے کی بات ہے لیکن کمال یہ ہے کہ اس وقت بھی وہی سیاسی بساط بچھی تھی جو آج ہے، اس وقت بھی کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کون افغانستان میں کیا کر رہا ہے اور اس وقت بھی آصف علی زرداری میڈیا کا اتنا ہی کلیدی حدف تھے جتنا کہ آج ہیں۔

رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوتے گئے اور پرنٹ میڈیا میں کافی حد تک سنجیدگی آ گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ اخبار پڑھنے والے تھے جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ، ہیجان اور سنسنی پر مبنی اخبارات خریدنا بند کر دیے۔ ظاہر ہے کہ بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے لیکن اس ارتقائی عمل کے نتیجے میں پرنٹ میڈیا میں نمایاں بہتری آئی۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا الیکٹرانک میڈیا بھی ایسے ہی ارتقائی عمل میں سے گزرے گا یا پھر مقابلے کی دوڑ اسے مزید سنسنی اور ہیجان کی جانب دھکیل دے گی۔

میڈیا پر غصے کے علاوہ بہت سے لوگوں نے ہماری صحافت کے بارے میں اپنی رائے بھی بھیجی جسے میں وقتاً فوقتاً اس کالم میں شامل کرتا رہوں گا۔ ہمارے ایک قاری نے شمالی وزیرستان میں اپنے سفر کی داستان کے بارے میں لکھا، ایک اور صاحب نے پاکستان کا ایک درد بھرا خاکہ بھیجا جبکہ ایک بچی نہ کہا کہ عامر انکل، آپ کو ہماری کنفیوزڈ نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے کچھ کرنا چاہئیے۔

ان سب کا ذکر ہوتا رہے گا۔ فی الحال ایک انتہائی دلچسپ خط پیش خدمت ہے جو سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے ملزم عدنان رشید کے پاکستان ائیر فورس کے زمانے کے ایک ساتھی نے مجھے لکھا۔ ان کے سابق دوست نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ عدنان رشید کو حال ہی میں طالبان نے بنوں جیل پر حملہ کر کے چھڑوایا تھا۔

عدنان رشید کی سوچ کیا تھی؟ اس کا ایک واضح عکس آپ کو اس خط میں ملے گا جس کا عنوان ہے: عدنان رشید کے ساتھ گزرے چند ماہ۔

تربیت میں پیار کا فقدان۔ والد کی سختی اور معاشرے کی ظالمانہ اور بے رحم پیسہ پرست سوچ۔ یہ تین عناصر ہی عدنان رشید کو لے ڈوبے۔ انتہائی زہین، چالاک اور خوبصورت نوجوان طالبان کا آلہ کار کیوں بنا؟

مجھے اچھی طرح یاد ہے میری اور اس کی پہلی ملاقات پی اے ایف بیس سمنگلی میں اس وقت ہوئی جب میں کنٹین سے نکل کر لوو پوانٹ کے ایک ٹوٹے پھوٹے بنچ پر بیٹھا اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ پاکستان ائر فورس میں یہ بات مشہور تھی کہ سمنگلی صرف اس کی پوسٹنگ ہوتی ہے جس کو باپ کی بد دعا لگ جائے۔ باقی لوگوں کا تو پتا نہیں لیکن میرے اور عدنان کے ساتھ تو یہی ہوا تھا۔ ہم دونوں ہی بد دعا کے مارے ساتھی بن گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ دوستی گہری ہوتی گئی۔

مجھے ان دنوں انگلش سیکھنے کا بھوت سوار تھا اور عدنان انگلش اس طرح بولتا تھا کہ شائد انگریز بھی شرما جائیں۔ اس کو عربی، انگریزی، فارسی، پشتو، پنجابی اور ہندکو پہ عبور تھا اور پاکستان کی باقی ساری زبانیں سمجھ آتیں تھیں۔ میں اس کی اس خوبی کا دیوانہ ہو گیا۔ پھر میں نے ایک انگلش اکادمی میں داخلہ لے لیا اور عدنان کو روزانہ ملتا اور اس کے ساتھ اپنی انگلش سیدھی کرتا۔ مجھے چونکہ پشتو بھی آتی تھی اس وجہ سے ہماری دوستی اور بھی گہری ہو گئی۔

ہماری بحث کا اصل ماخذ یہی ہوتا کہ پاکستان ائر فورس میں سارا کام ایئرمن کرتے ہیں اور عیاشی افسر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم شیخ چلی کی طرح ایک پورا نیا نظام بھی زیر بحث لاتے۔ ان دنوں میں نے ایک پورا ریسرچ پپر بھی لکھا کہ امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ائر فورس میں کیا ہوتا ہے۔

یہ سب کچھ میری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔ بدقسمتی سے میں یہ سب کچھ عدنان کو نہ دکھا سکا کیونکہ ان دنوں میں ٩/١١ ہو چکا تھا اور میرے خفیہ ادارے کے ایک دوست نے مجھے آگاہ کیا کہ عدنان القاعدہ کا سرگرم رکن ہے اور اس وقت وہ انتہائی نگہداشت میں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا بھی ساتھ میں کام تمام ہو جائے۔

میں بنیادی طور پہ بزدل انسان تھا۔ ڈر گیا اور عدنان سے دور رہنے لگا۔ عدنان نے وجہ پوچھی تو میں نے نہ چاہنے کے باوجود اس کو بتا دیا۔ پہلے تو اس نے نہ مانا لیکن آخر کو مان ہی گیا اور مجھے بھی اپنا ہمنوا بنانے کی بھر پور کوشش کی۔ لیکن میں کہاں ماننے والا تھا۔ میں اس سے پہلے واصف علی واصف، اشفاق احمد، ممتاز مفتی کو پڑھ چکا تھا۔ بے انتہا کوشش کے بعد وہ مجھ سے سخت خفا ہو گیا اور مجھ سے کبھی دوبارہ ملنے کو کوشش نہیں کی۔

میرے اس کا ساتھ گزرے چند ماہ بہت اچھے تھے اور میں اس کا آج بھی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے انگلش سکھائی۔ اس کی قربت میں مجھے چند چیزوں کا یقین ہو گیا۔

١- وہ طالبان اور القاعدہ کا انتہائی قریبی رکن تھا اس نے مجھے اپنی تصویریں بھی دکھائیں جو القاعدہ رہنماؤں کے ساتھ تھی۔

٢- وہ بلا کا ذہین تھا اور انقلابی سوچ رکھتا تھا۔ قتال کا بے حد شوقین تھا۔

٣- وہ پیار اور تعریف کا بہت بھوکا تھا۔ یہی محرومی اس کو القاعدہ لے گئی جہاں اسے سب کچھ ملا۔

٤- اپنے باپ سے شدید نفرت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ایک دن اس کو ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ میں کتنا قابل ہوں۔

٥- انتہائی جذباتی انسان تھا۔

٦- خود ساختہ بم بنانے کا ماہر تھا اور انتہائی ماہرانہ انداز میں الیکٹرونس کو جانتا تھا۔

-----------

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے۔

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔