نیٹو سپلائی کی بحالی، کئی کے مفادات وابستہ

nato تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان فوج کے لیے بھی نیٹو سپلائی ایک منافع بخش کاروبار ہے۔

نیٹو سپلائی کی جلد بحالی کے متمنی صرف ٹرانسپورٹ سے جڑے ٹرک مالکان ہی نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے بجٹ بنانے والے اور لوٹ مار کے ماہر بھی ہیں۔ یہ اب اربوں روپے کا کاروبار بن چکا ہے اور کئی گروپس کے مفادات اس سے وابستہ ہیں۔

پشاور کی ستارہ مارکیٹ میں میں آج بھی میں اس امریکی عسکری کلائی کی گھڑی کی تلاش میں جاتا ہوں جو اب ناپید ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جناب سپلائی بند ہے اس لیے اب نہیں آ رہی ہیں۔ ایک مرتبہ کیا خریدی ہر دوست کو پسند آئی اور اس کا مطالبہ کر دیا۔ اسی مانگ کو پورا کرنے میں مجھے جیسے کو بھی دشواری کا سامنا ہے۔

بجٹ کی تیاری میں مصروف حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی نیٹو سے ملنے والی متوقع ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقم جیب میں موجود تصور کر کے سالانہ میزانیہ تیار کر لیا گیا ہے۔ کابینہ کی دفاعی امور سے متعلق کمیٹی تمام وزارتوں کو پہلے ہی اپنی چھریاں تیز کرنے، معاف کیجیئے گا امریکہ کے ساتھ بات چیت کو حتمی شکل دینے کا حکم دیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان فوج کے لیے بھی نیٹو سپلائی ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ فوج اس ترسیل میں اپنے کاروبار کا حجم بتانے سے گریز کرتی ہے لیکن گزشتہ دنوں اخبارات میں خبریں آئی تھیں کہ وہ بھی عسکری ٹرانسپورٹ ادارے نیشنل لاجسٹک سیل کے لیے اس سپلائی کیک میں ایک بڑے حصہ کا تقاضا کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ بہتی گنگا میں طالبان بھی ہاتھ دھوتے رہے ہیں۔ افغانستان میں تو وہ سپلائی کو بحفاظت گزرنے کا موقع دینے کے بدلے معاوضہ بھی لیتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ڈرائیورں کو اِغوا کرکے معاوضہ بھی وصول کرتے رہے ہیں۔ تو وہ بھی تقریبا چھ ماہ کی مندی دیکھنے کے بعد دوبارہ بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہوں گے۔

آخر میں پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار بھی تھوڑا بہت سہی اپنی صلاحیت کے مطابق ہزاروں ٹرکوں اور ٹرالروں کے گزرنے کے بدلے مٹھیاں گرم کرتے آئے ہیں۔ ان کے علاوہ سپلائی کی بحال سے انشورنس کمپنوں کا کاروبار بھی یقینا بہتر ہوگا۔

معاشی فوائد کے علاوہ نیٹو سامان رسد کی ترسیل میں کئی کے سیاسی فائدے بھی جڑے ہیں۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے گزشتہ دنوں ایک بیان کو تو میں ایسے ہی پڑھ پایا کہ جتنی آنکھیں امریکہ کو دکھانی چاہیے تھیں وہ ہم نے دکھا دیں اب آنکھیں نیچی کرکے کاروبار کی جانب واپس لوٹ آنا چاہیے۔ یعنی بیک ٹو دی بزنس۔

حکومت نے تو سیاسی طور پر اس بندش سے کوئی فائدہ لیا یا نہیں لیکن دینی جماعتیں خصوصا نئی تشکیل شدہ دفاع پاکستان کونسل نے دوبارہ بحالی کے اعلان سے قبل جو دھونس دھمکی حکومت کو دی تھی اب اس کی شدت میں قدرے کمی نظر آ رہی ہے۔ جو راستے بند کرنے، ہڑتال پر جانے اور پارلیمان کے گھیراؤ جیسے بیان سامنے نہیں آ رہے۔

اب جبکہ نیٹو افغانستان سے انخلاء کی تیاریوں میں مصروف ہے، پاکستان میں سب بھاگتے چور کی لنگوٹی کا ایک آدھ کونہ ہی سہی پکڑنے کی دوڑ میں لگ جائیں گے۔ نیٹو کو اگر عقل ہوئی تو اسی وجہ سے شکاگو کانفرنس میں لنگوٹی بڑی رکھنے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ اتنے زیادہ لوگوں کو خوش رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

مغربی ممالک کی افغانستان میں جو بھی درگت بھی ہے اسے اور ان ممالک کی بدحال معاشی صورتحال کے پیش نظر پھٹی ہوئی لنگوٹ کا معیار کچھ زیادہ حوصلہ افزا محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن بات پھر بھی اربوں روپے کی ہے۔ ایسے میں جس کے ہاتھ جو آیا کم از کم کروڑ دو کروڑ تو ہوں گے ہی۔

اسی بارے میں