نئے صوبوں کا شیشہ گھر

حکومت سندھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ میں اکثر سندھی سندھ سے جذباتی وابستگی اس قدر رکھتے ہیں کہ وہ اسے صوبہ نہیں ایک ملک سمجھتے ہیں۔

جس دن ایم کیو ایم کے سابق اراکین اسمبلی نے نیویارک میں پریس کانفرنس کے ذریعے پاکستان میں موجودہ صوبہ سندھ کی پسلی سے ایک نئے صوبے ’جنوبی سندھ‘ کا مطالبہ کیا تو وہاں موجود صحافیوں اور کئي لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ ایم کیو ایم اور اس کی قیادت کی مرضی سے ہی کیا گیا ہے۔

یعنی ایسے لوگوں کے نزدیک ایم کیو ایم کی اس معاملے پر فی الوقت داغ کی اس مصرع جیسی حالت تھی ’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘۔

پس منظر میں دیوار پر ’جنوبی سندھ‘ کے نام سے ٹنگے ہوئے نقشے پر ’جینے کا منصوبہ ہوگا، رہنے کو جب صوبہ ہوگا‘ کے نعرے تلے ’جنوبی سندھ‘ بتایا ہوا تھا۔ جب ان اکابرین سے میں نے ’جنوبی سندھ‘ کا حدود اربع یا جغرافیہ پوچھا تو ان کی بھی جنوبی سندھ کے بارے میں معلومات اتنی ہی تھیں جتنی میری معلومات جنوبی کراچی کو چھوڑ کر باقی کراچی کے جغرافیہ کے متعلق ہیں۔

بہرحال یہ حال دیکھ کر مجھے ایک سال قبل دفاعی تجزیہ نگار اور لکھاری ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی بات یاد آئی جو انہوں نے ففتھ ایونیو پر چلتے چلتے کی تھی کہ ’یاد رکھنا اگر سرائیکی صوبہ بنا تو مہاجر صوبے کو کوئي نہیں روک سکے گا‘۔ حالانکہ خود ڈاکٹر عاشہ کا اپنا تعلق سرائیکی وسیب سے ہے۔

یہ یاد کر کے مجھے لگا کہ گویا نئے صوبوں کا مطالبہ ایک ایسا شیشے کا گھر ہے جس میں بیٹھ کر اس بار پی پی پی کی موجودہ حکومت دوسروں کے گھروں میں پتھر پھینک رہی ہے۔

شیخ ایاز نے کہا تھا ’اے نادان! اس شیشے گھر کے دروازے اگر تو بند کرے بھی تو کیا پتھر تو پرے یہ گھر فقط چند قہقہوں سے تڑخ سکتا ہے‘۔

اب کہیں مہاجر صوبے کی بات ہورہی ہے تو کہیں جنوبی سندھ کی تو کہیں ہزارہ کے صوبے کی۔

سندھ کا تو وہی حال ہے جیسے سوہنی کیلیے شاہ لطیف نے کہا تھا کہ ہزاروں مگر مچھ اکٹھے ہونگے اور سوہنی کے ٹکڑے ٹکڑے ہونگے، لیکن سندھی قوم پرست اور بہت سے غیر قوم پرست سندھی کہتے ہیں کہ ’سندھ کوئی بمبئی بیکری کا کیک نہیں کہ اسے کاٹ کر تقسیم کیا جائے‘۔

بہت دن ہوئے کہ میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا تھا کہ کیا تمہارے شہر کندھ کوٹ میں ایم کیو ایم ہے۔ انہوں نے کہا تھا اب ایم کیو ایم کندھ کوٹ میں نہیں پر کندھ کوٹ کے سندھی ایم کیو ایم میں ہیں۔

مجھے اب حیرت ہوئی کہ ایم کیو ایم کے حامی اندرونِ سندھ سے انتخابات بھی جیتنا چاہتے ہیں اور سندھ کے ٹکڑے بھی کرنا چاہتی ہے!

وہ پارٹی جاگیرداروں اور وڈیروں کے سندھ اور سندھیوں پر غلبے کے خلاف بات بھی کرتی ہے اور گزشتہ تین دہائيوں سے وہ سندھی وڈیروں کے ساتھ اقتدار میں شریک بھی رہی ہے۔ زیادہ عرصہ وہ سندھی وڈیرے اور جاگیردار جو سندھیوں کے غیر نمائندہ تھے اور جن کی فقط اپنی ایک نشست تھی۔ جام صادق علی، مظفر حسن شاہ، لیاقت جتوئي اور ارباب علام رحیم جیسے جدی پشتی وڈیرے اور جاگیردار۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے (سوائے بلوچستان کے) انتظامی بنیادوں پر بنے صوبے نہیں بلکہ انیس سو چالیس کی قرارداد پاکستان کے دستاویز میں وہ چار (بشمول سابقہ مشرقی بنگال) خود مختار ریاستوں کے طور پر رضاکارانہ الحاق کے ذریعے شامل ہوئي تھیں اور جنہیں بعد میں ’سٹیٹس‘ یا ریاستوں کی جگہ ’فیڈریٹنگ یونٹس‘ کا نام دیا گیا۔

وچلی گل تو یہ ہے کہ سندھ میں اکثر سندھی سندھ سے جذباتی وابستگی اس قدر رکھتے ہیں کہ وہ اسے صوبہ نہیں ایک ملک سمجھتے ہیں۔ جیسے میرے ماموں کراچی کو گوناگوں دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ ’کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ ایک ملک ہے‘۔

اسی طرح کئي پنجابی پنجاب کی ایک اینٹ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے اور پھر سندھ میں صرف اردو بولنے والے اور سندھی تو نہیں بستے، درخت درخت کی شاخیں اور دنیا جہان کی قومیں بستی ہیں۔

یہ واقعی مضحکہ خير بات ہے کہ سندھی قوم پرست یا کئي غیر قوم پرست سندھی اکثر سرائیکی صوبے کے تو حق میں ہیں لیکن کراچی یا سندھ کی انتظامی تقسیم پر ایک لفظ سننے کو تیار نہیں۔

اردو بولنے والے جو تقریباً (مدیجی اور بنو (ٹھٹہ) کو چھوڑ کر سندھ کے ہر شہر میں بستے ہیں ضروری نہیں کہ زیادہ تر کراچی سے تعلق رکھنے والی ایم کیو ایم کی قیادت سے صوبے یا کسی بات پر متفق ہوتے ہوں، اور یہ بھی کہ وہ جو حیدرآباد یا اپنے علاقے چھوڑ کر کراچی میں دو راتوں سے زیادہ نہیں رہ سکتے اور سندھی اور اردو مکس بولتے ہیں ان سے تو کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کا کیا بنے گا۔

اسی بارے میں