ایڈیٹر کا انتخاب

اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان
Image caption اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان

میں کافی دنوں سے آپ لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ آپ کی رائے پر مبنی ہمارا بہت ہی مقبول فورم جو کافی عرصے سے بند تھا، جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ پچھلے ہفتے ہم نے اپنی تکنیکی مشکلات پر قابو پا ہی لیا اور یہ کام بھی ہو ہی گیا۔ اب کوشش کیجئیے کہ آپ ہمیں اپنی رائے ضرور پہنچاتے رہیں۔ ہمارے بہت سے قاری تبصرہ بھی کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان سے درخواست ہے کہ اپنا تبصرہ جس قدر مختصر رکھیں گے، اتنا ہی اسے شائع کرنا ہمارے لیے آسان ہو گا۔

اور اب ہماری کووریج سے متعلق آپ لوگوں کے چند مشورے۔

جرمنی کی کئیل یونیورسٹی سے مظہر حسین رانجھا نے لکھا کہ جس طرح ہم نے پاکستان میں مختلف یونیورسٹیوں میں جا کر طلباء سے ان کے ملک کو درپیش مسائل پر بات کی، اسی طرح بیرون ملک طلباء سے بھی بات کرنی چاہئیے۔ منٹو پر محمد حنیف اور وسعت اللہ خان کی تحریروں کو سراہتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ بی بی سی اردو سروس ’ہم جیسے ادبی ملنگوں کا خیال رکھے گی‘۔

بینش صدیقہ نے لکھا کہ ہمارا بچپن اس وقت شروع ہوا جب اکثر گھروں میں کیبل اور بھارتی چینلوں کی بہار تھی، لیکن یہ بہار ہمارے گھر میں سر نہ اٹھا سکی اور ہم نے مستند اور بے لاگ تجزیہ کے لیئے پاپا کو سیربین سننے کے لیئے ریڈیو ٹیون کرتے دیکھا۔ آج میں خود ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے لیئے کام کررہی ہوں اور آفس کا آغاز ای میل لوگن اور بی بی سی ویب سائٹ کھولنے سے ہوتا ہے۔

گزشتہ سال سے بی بی سی پر ملٹی میڈیا پیکچز کا آغاز تو اچھا تھا لیکن یقین جانیے کہ باوجود کوشش کے ایک بار بھی یہ پیکج نہیں دیکھ سکی کیونکہ نیوز سکرپٹ پڑھنا آسان بھی ہے اور اس میں موجود معلومات کو آسانی سے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر ملٹی میڈیا پیکجز خصوصاً سیاسی اور معاشرتی حوالے سے بنائے جانےو الے ملٹی میڈیا پیکچز زیادہ نہیں دیکھے جا رہے تو انہیں نیوز سکرپٹ کی شکل میں شائع کریں۔

آپ دونوں کا بہت شکریہ۔ بیرون ملک طلباء سے بات چیت پر مشتمل سلسلے کا ہم ضرور سوچیں گے۔ اور بینش، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے تمام ویڈیو فیچر پرنٹ فارم میں بھی شائع کریں، تبھی تو ملٹی میڈیا کہلائیں گے نا؟

قارئین کی جانب سے بی بی سی اردو سروس پر ادبی صفحہ شروع کرنے کی بھرپور حمایت جاری ہے۔ پچھلے ہفتے اس سے متعلق مشورے بھی خوب ملے اور ڈانٹ بھی پڑی۔ اسی آرڈر میں کچھ خط پیش کرتا ہوں۔

نعیم فاطمہ علوی نے لکھا کہ میرا نام بھی اردو صفحے کے اجراء کو سراہنے والوں میں شامل کر لیجئیے۔ میرے خیال میں نئے لکھنے والوں کو زیادہ موقع دیجئیے۔

نعیم اقبال نے کہا کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ترجیح نام یا گمنامی نہیں بلکہ تحریر کی بنیاد پر دینی چاہئیے۔ آپ اپنے قارئین اور مستند لکھاریوں سے ایک مناسب معاوضے کے عوض تحریریں طلب کریں مجھے یقین ہے کہ آپ کے پاس ایک ڈھیر لگ جائے گا۔ اور پھر انہیں تحریروں کو خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر شائع کریں۔ اس سے معیار بھی بڑھے گا، نئے لکھنے والوں کو موقع بھی ملے گا اور ادبی صفحے کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو گا۔

ڈانٹ یوں پڑی کہ پشاور سے افضل حسین بخاری نے مجھے لکھا کہ اردو سروس کے سربراہ کی جانب سے یہ سوال کیا جانا کچھ عجیب لگا کہ ہمارے مجوزہ اردو صفحے کو ’آفیشیلی اپرووڈ، پیٹنٹ اور سٹینڈرڈ‘ لکھاریوں تک ہی محدود رکھنا چاہئیے یا اس پر نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کی رسک بھی لینی چاہئیے۔

بخاری صاحب کا شمار اساتذہ میں ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کی ڈانٹ پڑھ کر لگا واپس کالج چلا گیا ہوں۔ لیکن میرے سوال کا مقصد وہ توقعات جاننا تھا جو ہمارے قارئین کو مجوزہ ادبی صفحے سے ہیں۔ اور سبھی اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ بی بی سی اردو سروس کو اس صفحے کے ذریعے نئے لکھنے والوں کو موقع دینا چاہئیے۔

سو اب ہم اس صفحے کی باقاعدہ تیاری شروع کرتے ہیں۔ کوشش ہو گی کہ اسے جلد از جلد ممکن بنائیں۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے:

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔

اسی بارے میں