بھاڑ میں جائے یہ عزت!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یار لعنت ہے ایسے صحافی اور اس کی صحافت پر، میں تو شرم کے مارے کسی سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہیں رہا !

کیوں ؟ کیا تیرا نام بھی بحریہ ٹاؤن کے لیٹر ہیڈ پر آگیا ؟

نہیں آیا نا ! یہی تو دکھ ہے ۔۔۔ہر کوئی طنز کررہا ہے کہ ابے تم کیسے صحافی ہو کہ بتیس سال سے جھک مار رہے ہو۔ تمہارے بعد اس پیشے میں پیدا ہونے والے موٹر سائکل سے اتر کر لیکسس پر چڑھ گئے، تین مرلے کے مکان سے فارم ہاؤس میں شفٹ ہوگئے ، غوثیہ ہوٹل کے بنچ پر چائے سڑکتے سڑکتے نادیہ کافی شاپ میں دربار لگانے لگے ، صدر کو آصف اور وزیرِ اعظم کوگیلو کہہ کر پکارنے لگے اور تم آج بھی عبید اللہ علیم کے اس شعر کو جھنڈا بنائے گھوم رہے ہو کہ ،

ابھی خرید لوں دنیا کہاں کی مہنگی ہے

مگر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے

سالے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری مانو تو صحافت کو مقدس مقدس کہہ کر بدنام کرنے سے بہتر ہے کہ پریس کلب کے سامنے بریانی کا ٹھیلہ لگا لو۔اتنا منافع ہوگا کہ ویج بورڈ بھول جاؤ گے۔

اچھا تو تم پھر ایسے گھٹیا طعنہ زنوں کو کیا جواب دیتے ہو؟

جواب کیا دینا ہے۔بس شرمندگی سے گڑ جاتا ہوں۔ اس سے پہلے وزارتِ اطلاعات سے سیکرٹ فنڈ حاصل کرنے والوں کی کئی لسٹیں آئیں ان میں بھی میرا نام نہیں تھا۔لوگ پوچھتے تھے کہ یار تم واقعی صحافی ہو یا ہمیں کارڈ دکھا کر چ بنا رہے ہو۔میں یہ کہہ کر ٹال جاتا تھا کہ بھائیو میں بڑا صحافی ہوں لیکن اتنا بڑا بھی نہیں کہ کوئی مجھے سیکرٹ فنڈ کی لسٹ میں ڈال دے۔اس لسٹ میں آنے سے پہلے اور بعد میں بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔لیکن اب میں لوگوں کو کیا جواب دوں ؟ تم ہی انصاف کرو کہ کیا میں اس قابل بھی نہیں کہ بحریہ ٹاؤن کی اصلی یا جعلی لسٹ میں ہی میرا نام آجاتا ؟؟

میرا خیال ہے تم نے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ہوگی !

اڑا لے اڑا لے تو بھی میرا مذاق اڑالے۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی کیا پرواہ۔ جیسی معیاری تعلیم پیلے سکول کی لنگڑی بنچ پر ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے ذریعے آتی ہے وہ پبلک سکول کے بند ائرکنڈیشنڈ کلاس روم میں کہاں سے گھسے گی۔ ظاہر ہے جو سکون دو کمروں کے فلیٹ میں ہے وہ دو کنال کی کوٹھی میں کہاں اور جیسی عمدہ ہوا ہنڈا موٹر سائکل پر لگتی ہے وہ ہنڈا اکارڈ والوں کو کہاں نصیب۔۔۔۔

ابے کوشش۔۔۔۔۔مجھ سے زیادہ کوشش کس نے کی ہوگی۔ایک دفعہ ایک انٹیلی جینس ایجنسی کا سادہ میجر ملا ۔کہنے لگا سر میں آپ کی تحریروں کا مداح ہوں۔ میں نے کہا اگر میں اتنا ہی باصلاحیت ہوں تو پھر آپ بھی مجھے ملک و قوم کی خدمت کا خصوصی موقع دیں اور ساتھ رکھ لیں۔ میرا خیال تھا کہ میجر اشارہ سمجھ کے میری پیش کش پر خوشی سے اچھل پڑے گا۔لیکن پتا ہے اس نے کیا کہا ؟

خان صاحب ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔جتنی آپ کی تحریریں شگفتہ ہیں اس سے کہیں زیادہ آپ کی باتیں دلچسپ ہیں۔یہ کہہ کر وہ مصافحہ کر کے نکل لیا۔

پتا ہے مجھے سب سے زیادہ غصہ کب آتا ہے؟

جب لوگ کہتے ہیں کہ خان جی آپ نے اپنے قلم سے ماشااللہ بہت عزت کمائی ہے۔آپ کے تو ہزاروں مداح ہیں۔۔۔

میاں بھاڑ میں جائے ایسی عزت اور ایسے غریب مداح۔۔۔یار اگر میں اتنا ہی بڑا قلمی سرجن ہوں تو پھر کوئی دو نمبر طاقتور اور پیسے والا آدمی مجھے کیوں نہیں بلاتا ۔میرا قلمی مجرہ کیوں نہیں کرواتا۔میرے فقرے کی کاٹ پر نولکھا ہار اتار کر قدموں میں کیوں نہیں پھینکتا۔ میری دلیل کے ٹھمکے پر پراڈو کی چابی مخملی ڈبے میں رکھ کے پیش کیوں نہیں کرتا۔ میرے اندازِ بیاں سے رقت آمیز ہو کر عمرے پر کیوں نہیں بھیجتا۔میری بیوی کے سامنے مجھ سے آخر کیوں نہیں کہتا کہ بس خانصاحب آپ چپ رہیں یہ چار کنال میں نے اپنی بہن کو دیے ہیں ۔آپ بہن بھائی کے معاملے میں اپنے اصولوں کی ٹانگ نا اڑائیں۔

آپ کہتے ہیں میں ان صحافیوں کی مذمت کروں ؟

کیوں کروں بھلا ؟

بھائی یہ مجھ جیسے سلفیٹ تھوڑی ہیں۔یہ بڑے لوگ ہیں،جینے کا ہنر جانتے ہیں۔

اسی بارے میں