ایڈیٹر کا انتخاب

اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان
Image caption اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان

پچھلی دفعہ پاکستان سے لوٹا ہی تھا کہ پھر واپس جانا پڑا۔ آج دفتر میں پہلے دن کا کچھ حصہ آپ کے خط پڑھتے گزرا۔ شکوے شکایت کہ میں آپ کے خطوط کا باقاعدگی سے جواب نہیں دیتا۔ میری معذرت۔ کوشش کروں گا آئندہ ایسا نہ ہو۔

لیکن اس کالم میں آپ کے خطوط کی بجائے میں لندن واپس آنے کے بعد اپنی پہلی میٹنگ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ ڈیجیٹل ریویو میٹنگ تھی جس کا مقصد ہماری ویب سائٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ایک عرصے تک ہماری ویب سائٹ پر کون کیا پڑھ رہا ہے، کیا پسند کر رہا ہے، کیا سن اور دیکھ رہا ہے، کتنا وقت بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر گزار رہا ہے، یہ تمام ڈیٹا اکٹھا کر کے آنے والے وقت کے لیے اہداف طے ہوتے ہیں۔

گو بی بی سی اردو سروس کے تمام پروڈیوسر اس بات سے واقف ہیں لیکن کئی دفعہ جانے پہچانے حقائق کو دہرانا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ روزمرہ کے نیوز ایجنڈا میں آپ ایسے کھو جاتے ہیں کہ واضح اہداف بھی نظروں سے اجھل ہو جاتے ہیں۔

حالیہ ریویو میں سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ہمارے زیادہ تر قارئین روزمرہ کی خبروں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کی بڑی وجہ شاید پاکستان میں ہر سو پھیلا پرائیویٹ ٹیلیوژن ہے جو انہیں پل پل کی خبروں سے آگاہ رکھتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ جب کوئی بڑی خبر ہو جیسے کہ یوسف رضا گیلانی کا وزارت اعظمٰی کے عہدے سے ہٹنا، تو ہمارے قارئین میں تیس سے پینتیس فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ نئے قارئین خبر پرانی ہوتے ہی اپنی راہ لیتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر تب تک واپس نہیں آتے جب تک پھر سے کوئی بڑی خبر نہ ہو۔ ایک اور صورت میں بھی ہمارے قارئین کی تعداد بڑھتی ہے اور وہ یہ کہ ہم کوئی ایسی خبر نکالیں جو کسی اور کے پاس نہ ہو۔

اس کے علاوہ آپ میں سے زیادہ تر لوگ سائنس، صحت، کھیل اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق پڑھنا چاہتے ہیں۔ سائنس کی خبریں خاص طور پر بڑی مقبول ہوتی ہیں۔ اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دن کی بڑی خبر جو ہماری شہ سرخی بنتی ہے اس سے کہیں زیادہ سائنس یا کھیل کی خبر یا ان سے متعلق کوئی تحریر پڑھی جاتی ہے۔

پتہ نہیں آپ نے یہ محسوس کیا ہے یا نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی ترجیحات کو بھی آپ کی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب سرن کی تجربہ گاہ میں کائنات کے ایک بنیادی عنصر ہگز بوسون کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تو وہ ہماری شہ سرخی بنی۔ اسی طرح کھیل سے متعلق بھی اگر کوئی بڑی خبر ہوتی ہے اور خاص طور پر ایسی جس میں اردو پڑھنے والوں کی خاص دلچسپی ہو تو ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ اسے اپنی شہ سرخیوں کا حصہ بنائیں۔

یہ کالم لکھتے ہوئے میں نے اپنی مقبول ترین خبروں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ اس وقت مقبول ترین خبر پلے بوائے میگزین کی ایک ماڈل کا انٹرویو ہے، دوسری مقبول خبر اولمپکس سے متعلق ہے جبکہ پہلی پانچ مقبول خبروں میں بھارت اور سری لنکا کے بیچ ون ڈے میچ کی ہے۔ جبکہ روزمرہ کی خبروں میں صرف افغانستان سے گوشت کی برآمد پر پابندی اور منحرف افغان پولیس مین ہماری مقبول ترین خبروں میں آ سکے۔

ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی توجہ کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مجھے لکھتے رہیں کہ آپ کی ہم سے کیا خواہش ہے۔ امید ہے کہ ایک دو روز تک میں آپ کے تمام خطوط پڑھ چکا ہونگا۔ جلد ہی دوبارہ ملاقات ہو گی۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے:

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔

اسی بارے میں