سب برمی اور روہنگیا ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باہر نکلتا ہوں تو کہیں نا کہیں لٹکے کسی بینر پر نظر پڑجاتی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام پر عالمِ اسلام بے حس کیوں ؟

گزشتہ ایک ماہ سے راتوں کی نیند حرام ہے۔

فیس بک کھولتا ہوں تو برما کے روہنگیا مسلمانوں کی لاشیں آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتی ہیں۔ موبائل فون پر وصول ہونے والے ہر دس میں سے پانچ ایس ایم ایس مجھےشرم دلاتے ہیں کہ تم کیسے بے غیرت صحافی ہو کہ روہنگیا نسل کشی پر خاموش ہو۔ باہر نکلتا ہوں تو کہیں نا کہیں لٹکے کسی بینر پر نظر پڑجاتی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتلِ عام پر عالمِ اسلام بے حس کیوں؟

اخبار پڑھتا ہوں تو جماعتِ اسلامی، جمیعتِ علمائے اسلام، جماعت الدعوہ کے مظاہروں کی تصاویر، طالبان کی دھمکیاں، بلوچستان پر مباحثہ کرنے والی سینیٹ کے اجلاس میں روہنگیا مسئلے کے حق میں قرار داد، دفترِ خارجہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیلیں اور بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے فلاحی تنظیموں کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد سے روکنے کے احکامات نگاہوں کے سامنے ناچنے لگتے ہیں۔

جب بھی سوتا ہوں ایک کے بعد ایک برے برے خواب دیکھتا ہوں۔

جیسے کوئی برمی فوجی مجھے روہنگیا سمجھ کر پیٹ میں سنگین گھونپ رہا ہے، یا کچھ بودھ راہب میری لاش کے گرد دیوانہ وار رقص کررہے ہیں، یا آنگ سانگ سوچی بھی مجھے تھپڑ مار رہی ہے۔

کبھی دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے ہزاروں برمی میرے پیچھے برچھیاں نیزے بھالے لئے بھاگ رہے ہیں۔ کبھی نظر آتا ہے کہ کچھ گول گول چہرے والے نسلی برمی مسلمان طمنچہ کھینچتے ہوئے مجھے سمجھا رہے ہیں کہ بھائی یہ مذہبی نہیں نسلی معاملہ ہے۔

چنانچہ ہر آدھے پونے گھنٹے بعد نیند سے جھرجھری لے کر اٹھ بیٹھتا ہوں۔سوکھے ہونٹوں پر کانٹے کی طرح سخت زبان پھیرتا ہوں، پانی پیتا ہوں، خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ صرف خواب تھا۔ پھر کروٹ لینے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر کوئی ظالم برمی مجھے روہنگیا سمجھ کے تشریف پے ٹھڈا رسید کر دیتا ہے۔

اب تو مجھے ہر طرف، ہر شے اور ہر منظر میں سوتے جاگتے چوبیس گھنٹے ایک کے چار چار روہنگیا ,ٹپائی دے رہے ہیں۔

حالانکہ ہر مسلمان ملک شام میں بیس ہزار جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام ایک اسلامی ملک کا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے۔ مگر مجھے معلوم نہیں کیوں صدر بشار الاسد کی تصویر میں صدر تھین شین اور حلب اور حما میں مرنے والے اور لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے بھاگنے والے شامی بھی روہنگیا دکھائی دیتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ ٹمبکٹو مالی کے بجائے برما کا کوئی سرحدی شہر ہے جہاں انصار الدین نامی تنظیم کے برمی ٹمبکٹو کے روہنگیوں کی صدیوں پرانی درگاہیں ڈھا رہے ہیں، انمول کتابیں اور قلمی نسخے نذرِ آتش کررہے ہیں اور اب تک شمالی مالی کے دو لاکھ افریقی روہنگیا مسلمان ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

پھر اچانک جھٹکا لگتا ہے کہ ابے گھامڑ مالی افریقہ کا کوئی بدھسٹ ملک نہیں ایک مسلمان ملک ہے اور وہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ بربریت نہیں بلکہ دو مسلمان بھائیوں کی معمولی سی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس لئے تجھے رائی کا پہاڑ بنانے والی اسلام دشمن طاقتوں کے پروپیگنڈے میں آنے کی کیا مصیبت پڑ گئی ۔۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے کہ کوئٹہ بھی برما میں ہے جہاں ہزارہ روہنگیوں کو لشکرِ جھنگوی کے برمی چن چن کے مار رہے ہیں۔ پھر میں خود ہی منہ پر ہاتھ رکھ کے کہتا ہوں کہ ایسی گھٹیا بات زبان پر بھی نا لانا ۔ کہیں لوگ تمہیں را، موساد اور سی آئی اے کا مشترکہ ایجنٹ نا سمجھ لیں۔

اور خبردار احمدیوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں کے بارے میں بھی برمیانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ کہیں کوئی ایک ہی فتوے کی پھونک مار کے تمہیں سنی یا شیعہ سے قادیانی نا بنا ڈالے۔

مجھے کیوں لگتا ہے کہ نائن الیون سے اب تک جو بیالیس ہزار پاکستانی سویلین اور فوجی برما گردی کی نذر ہو گئے ہیں وہ اپنے ننہیال یا ددھیال کی کی کسی نا کسی پیڑھی میں روہنگیا ضرور رہے ہیں ۔فاٹا کے جو لاکھوں پٹھان اور بلوچستان کے جو ہزاروں بگتی اور مری دربدر ہیں انکے اجداد یقیناً برما کی پیدائش ہیں۔

کل ہی میں نے ضمیر کے کچوکوں سے تنگ آ کر سوچا کہ کراچی میں گزرے سات ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ میں جو ساڑھے سات سو کے لگ بھگ مقامی روہنگیا ہلاک ہوئے ہیں ان میں سے ہی کسی کے گھر جا کر کسی کندھے پر سر رکھ کے رو لوں تاکہ دن کا چین اور رات کی نیند تو واپس ملے۔ پھر خود ہی سوچا کہ کہیں متوفیوں کے رشتے دار قریبی نفسیاتی معالج تک ہی نا پہنچا دیں۔

چنانچہ میں بوجھل دل کے ساتھ برمی کالونی پہنچ گیا تاکہ وہاں ایک عرصے سے آباد سینکڑوں روہنگیوں سے اظہارِ یکجہتی کرسکوں۔ میں نے ان سے کہا کہ عالمِ اسلام آپ کے ساتھ ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ بالکل اکیلے نہیں ہیں۔ انہوں نے میرے جذبات کو مسکراتے ہوئے سراہا۔

جب رخصتی چاہی تو ایک ادھیڑ عمر روہنگیا کہنے لگا ’صاحب تم تو میڈیا کا ہو۔۔ کیا ایسا نہیں کرسکتا کہ پولیس ہمیں کبھی بنگالی ہونے کے شک میں، کبھی چوری ڈکیتی کے الجام میں اور کبھی غریب بے آسرا سمجھ کر بھتہ نا لے اور ہماری آتے جاتے بے اجتی نا کرے۔ ہم لوگ اتنے سالوں سے یہاں ہوں مگر آج بھی بجلی کنڈے سے اور پانی ٹینکر سے لیتا ہوں۔ صاحب کسی شناختی کارڈ والے افسر سے بھی کوئی پہچانت ہے؟ برما میں بھی پاسپورٹ نہیں دیتے تھے۔ ادھر بھی ہم لوگ ال لیگل ہوں۔ ہم لوگ تو برما سے بھاگ کر بھی برما میں ہوں۔‘

اسی بارے میں