ایڈیٹر کا انتخاب

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST
اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان

’مجھے انتظار ہے کہ کیا کوئی مجھے ایسی کہانی بھی بھیجے گا جو ہمیں خود پر ہنسنا اور دوسروں کو ہنسانا سکھائے‘

اس ہفتے رمشا نامی لڑکی جو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوئی ایک بڑی خبر بنی۔ ہمارے نامہ نگار اس کے گاؤں گئے، انسانی حقوق کی تنظیموں سے انٹرویو ہوئے، کئی مسیحی خاندان خوف کے مارے گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوئے، صدر آصف علی زرداری نے نوٹس لیا اور چند انتہاپسندوں کے خلاف نقص امن کے پرچے بھی درج ہوئے۔

اس سارے ہنگامے سے ہزاروں میل دور فرانس کے شہر پیرس میں مقیم عاصمہ بتول نے مجھے خط لکھا۔ آپ بھی پڑھیے۔

’شروع کے روزوں ميں شام کے وقت بچوں کو حسب معمول پارک ليکر جا رہی تھی کہ گلی کے اختتام پر کھڑے پانچ چھ مرد و خواتين کے ايک گروپ نے مجھے دو صفحات ديے۔ بھوک کے مارے ويسے ہی طبيعت خراب تھی جو کہ شکل سے غصے کی صورت ميں ظاہر تھی۔ اسی بےدلی سے وہ صفحے کسي پروڈکٹ کا اشتہار سمجھ کر ميں نے بغير پڑھےان کے سامنے ہی نکڑ پر لگے کوڑا دان ميں ڈال ديے۔

فوراً ہی مجھے لگا ميں نے کوئی غلط کام کر ديا ہے کيونکہ صفحات دينے والے تمام افراد مخصوص سے حليے ميں کھڑے تھے۔ سوچتے ہوئے پارک تک پہنچی کہ پڑھ تو لينا چاہيے تھا کہ لکھا کيا تھا کہ پارک کے پاس اسی حليے ميں کھڑے ايک اور گروپ کی ايک ممبر نے مجھے بالکل ويسے صفحے ديے۔ ميں فوراً پڑھنے بيٹھ گئي۔ ان ميں عيسائيوں کی مقدس کتاب کے حوالہ جات پڑھتے ہی ميری روح کانپ گئی اور ميرے ذہن ميں فلم چلنے لگی۔

لوگوں کا ايک ہجوم نعرے لگاتا ميری طرف بڑھ کر آ رہا ہے۔ وہ مجھے اور پارک ميں کھيلتی بے خبر ميری بچيوں کو پکڑ کر گھسٹيتے ہيں۔ انکے پاس بہت سے گواہان ہيں جنہوں نے مجھے مقدس اوراق کوڑے دان ميں پھينکتے ديکھا ہے۔ گواہان ميری بچيوں پر لاتوں مکوں کی بارش کر ديتے ہيں۔ بچياں چيخ رہی ہيں مماں يہ ہميں کيوں مار رہے ہیں، مماں درد ہو رہی ہے، مماں وہ ہمارے کپڑے پھاڑ رہے ہیں، مماں مجھے بہت مار رہے ہیں، ميری مماں کو نہ مارو۔

اور جونہی چھوٹی سی زخمي خديجہ کہتی ہے مماں ميرا خون آ رہا، مجھے بچاؤ، ميری مماں مجھے بچاؤ تو مار کھاتی ہوئی ماں کی بے کسی کا سوچتے ہی ميرا دل ايسے ہو گيا کہ جيسے ہارٹ اٹيک ہو گيا ہو۔ اس سے آگے دماغ نے خوف کے مارے فلم ميکنگ کی اجازت ہی نہ دی۔

ميں چھتيس سالہ پڑھی لکھی بہت سی زبانوں سے واقف خاتون انجانے ميں ايسا کر سکتی ہوں تو بارہ سالہ کوڑا کرکٹ اٹھانے والی ان پڑھ اور بھوکی رمشاء کو کيا پتہ کہ وہ اوراق مسلمانوں کے مقدس اوراق تھے۔

ايڈيٹر صاحب، ميرا دل بہت پريشان ہے رمشاء کے ليے۔‘

عاصمہ بتول، پیرس

مجھے یقین ہے عاصمہ بتول اپنے اس خوف میں اکیلی نہیں ہیں۔ لیکن کون جانتا ہے کہ ایسے کتنے ہی خوف سائے کی طرح ہر اس شخص کے پیچھے لگے ہیں جو کسی بھی ایسے ملک کا باسی ہے جہاں سیاست، مذہب، ضرورت یا کسی بھی بہانے فرد قانون سے بڑا ہو سکتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کے وہ ملک افغانستان، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام، سعودی عرب یا پاکستان ہو۔ بالکل ایسے ہی جیسے رمشا کا درد محسوس کرنے کے لیے عاصمہ بتول کا پاکستان میں ہونا ضروری نہیں۔ انجانے اور انہونی کے خوف سے نجات ہر شخص کی خواہش ہے، ضرورت ہے اور اسے حاصل کرنے کی کاوش انسان کا تہذیب کی جانب سینکڑوں سال سے جاری سفر کا اصل مقصد ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال کو ہمارے ایک اور قاری نے اپنے خط میں یوں سمیٹا۔ زبیر توروالی سوات کے علاقے بحرین میں رہتے ہیں۔

محترم عامر احمد خان صاحب،

’میں یہ جان کر بے حد خوش ہوا کہ بی بی سی اردو سروس نے ادبی صفحے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ قارئین کے لیے نہ صرف دلچسپی بلکہ ہوا کا ایک نیا جھونکا ثابت ہوگا۔ ہمارے ملک بالخصوص اور دنیا میں بالعموم اندوہناک خبروں کا راج ہے۔ ایسے میں ہماری حسِ لطافت کند ہوتی جا رہی ہے۔ ادب ہی ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کی مدد سے ہم نہ صرف دانش حاصل کرتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ ہماری تطہیرِ نفس بھی ہوجاتی ہے۔

آج اگر ہم بازار کاجائزہ لیں تو مشاہدے میں آتا ہے کہ مذہب سب سے زیادہ بک رہا ہے۔ اب تو مذہب ہمارے ٹی وی چینلز پر دھڑا دھڑ بک رہا ہے۔ باقی جو کتابیں دکانوں میں بکتی ہیں وہ طالبانائزیشن اور تشدد کے خلاف جنگ پر لکھی ہوتی ہے یا پھر وہ کتابیں بکتی ہیں جو کانسپیریسی تھیوریز سے بھری ہوتی ہیں۔ ایسے میں بی بی سی کی جانب سے ادبی صفحہ قابل ستائش اقدام ہے۔‘

زبیر توروالی، سوات

میں آپ سب کی جانب سے ہمارے آنے والے ادبی صفحے کی حمایت پر انتہائی ممنون ہوں۔ میرے پچھلے کالم کے جواب میں مجھے ابھی سے ہی بہت ساری کہانیاں، افسانے اور اشعار موصول ہو چکے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو میں فرداً فرداً تو لکھوں گا ہی لیکن یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ مجھے ملنے والی کہانیوں میں کم از کم دو ایسی کہانیاں ہیں جو خوف، لاچاری اور بے بسی کے بارے میں ہیں۔ ایک اور کہانی ہماری توجہ ہمارے اپنے ہی اندر پلنے والے شکوک و شبہات کی جانب دلواتی ہے۔

کہتے ہیں کسی بھی معاشرے سے ابھرنے والا ادب اس کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ اب مجھے انتظار ہے کہ کیا کوئی مجھے ایسی کہانی بھی بھیجے گا جو ہمیں خود پر ہنسنا اور دوسروں کو ہنسانا سکھائے یا ہماری تخلیقی حقیقت بھی شک، شبہے اور خوف کی قیدی ہو چکی ہے۔ مجھے آپ کی تخلیقات کا بیتابی سے انتظار ہے۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے:

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔