ایڈیٹر کا انتخاب

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 08:51 GMT 13:51 PST

بی بی سی کے ٹی وی ایڈیٹر جان ولیمز کا ملالہ یوسفزئی کے بی بی سی کے ساتھ تعلق پر بلاگ۔

’حالیہ دنوں میں طالبان کے ہاتھوں زخمی ہونے والی چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی کے بارے میں بہت لکھا گیا ہے۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں جب طالبان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تو اس وقت کسی نے سکول میں پڑھنے والی اس لڑکی کا نام نہیں سنا ہوا تھا۔

مسلح تصادم میں اکثر خبروں کی توجہ بم دھماکوں اور ہلاکتوں پر مرکوز رہتی ہے۔ اور اس میں ان لوگوں کا ذکر نہیں ہوتا جو اس مسلح تصادم سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے بی بی سی اردو کے ساتھیوں نے یہ جاننے کا بیڑہ اٹھایا کہ اس کشمکش کے خود سوات پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وہاں طلبہ کی مستقبل کے بارے میں سوچ کیا ہے اور وہ کیسے اپنی زندگی بسر کر رہیں ہیں۔

بی بی سی اردو کے ساتھیوں نے بشمول ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاءالدین یوسفزئی، مختلف سکولوں کے اساتذہ سے رابطہ قائم کیا۔ ضیاءالدین سوات کے شہر مینگورہ میں سکول چلاتے ہیں اور انہوں نے تجویز کیا کہ ان کی بیٹی ڈائری لکھ سکتی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملالہ ’گل مکئی‘ کے قلمی نام سے ڈائری لکھے گی تاکہ اس کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

ملالہ کی ہفتہ وار ڈائری سنہ 2008 کے آخر میں شروع ہوئی۔ یہ ڈائری اتنی مشہور ہوئی کہ اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

ان کی لکھائی غیر سیاسی تھی اور اس میں لڑکیوں کی تعلیم کی خواہش کا عنصر صاف تھا۔ اس ڈائری میں انہوں نے سکول، تعلیم، گھر اور دوستوں کے بارے میں لکھا۔ اس ڈائری کے عوض نہ تو ملالہ اور نہ ہی ان کے والد کو رقم دی گئی۔

جنوری 2009 میں انہوں نے لکھا ’میں آج سکول کے لیے تیار ہو رہی تھی اور یونیفام پہننے ہی لگی تھی کہ یاد آیا کہ ہماری پرنسپل نے کہا تھا کہ سکول یونیفارم میں نہیں عام کپڑوں میں آنا ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے گلابی کپڑے پہنوں گی۔ دوسری لڑکیوں نے بھی رنگ برنگے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اسمبلی کے دوران ہمیں کہا گیا کہ رنگ برنگے کپڑے مت پہنیں کیونکہ طالبان اعتراض کریں گے۔‘

ملالہ کی ڈائری دس ہفتے شائع ہوئی۔ ڈائری کا یہ سلسلہ اس وقت بند ہوا جب مئی 2009 میں فوجی آپریشن شروع ہوا اور ملالہ اور ان کے خاندان نے سوات چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کا بی بی سی کے ساتھ تعلق بھی ختم ہو گیا۔

فوجی کارروائی کے بعد جب پاکستانی فوج نے سوات کا کنٹرول سنبھالا تو ملالہ 2009 میں مینگورہ واپس آئیں۔ ان کے والد نے ملالہ کا اصل نام اس وقت ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا جب انہوں نے ملالہ کو بین الاقوامی امن انعام کے لیے نامزد کیا۔

ملالہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ پاکستانی ٹی وی چینلز پر آنا شروع ہو گئیں اور ان کا تعارف اس لڑکی کے طور پر کرایا جانے لگا جس نے بی بی سی اردو کے لیے بلاگ لکھے تھے۔ ان کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے قومی امن انعام سے نوازا گیا اور وہ کئی مواقع پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں کارکن کے طور پر سامنے آئیں۔ ان کی مقبولیت پاکستان تک محدود نہ رہی اور ان پر نیو یارک ٹائمز نے دستاویزی فلم بھی بنائی۔

بی بی سی کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق پر بڑا فخر ہے۔ بی بی سی اردو نے پاکستان کے وجود میں آنے کے دو سال بعد اپنی نشریات کا آغاز اپریل 1949 میں کیا۔ آج بھی پاکستان میں بی بی سی کا شمار قابلِ اعتماد خبروں کے ذرائع میں ہوتا ہے کیونکہ ہم خبر کے تمام پہلو بتانے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بحث میں ملالہ کی آواز بہت اہم ہے۔‘

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے:

askbbcurdu@bbc.co.uk

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔