ایڈیٹر کا انتخاب

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 22:10 GMT 03:10 PST
فائل فوٹو، جنرل کیانی

جنرل کیانی کا حالیہ بیان اہمیت کا حامل ہے

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ’ہم سب قانون کی عملداری چاہتے ہیں اس لیے ہمیں یہ بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہیے کہ ملزم صرف اس صورت میں ہی مجرم قرار پاتا ہے جب مجرم ثابت ہو جائے۔ ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم اپنے طور پر کسی کو بھی چاہیے وہ سویلین ہو یا فوجی، مجرم ٹھہرائیں اور پھر اس کے ذریعے پورے ادارے کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیں‘۔

کیا واقعی پاکستان میں اتنا کچھ بدل گیا ہے؟ اور اگر ہاں، تو یہ کب ہوا؟

ابھی تک تو پاکستانیوں نے یہی دیکھا ہے کہ ملکی فوج کا سربراہ جب چاہے منتخب حکومت پر کسی بھی طرح کا الزام لگا کر اسے برطرف کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے اسے نہ تو کسی قانون کا اور نہ ہی کسی ثبوت کا سہارا درکار ہوتا ہے۔ اور صرف یہ ہی نہیں، وہ چاہے تو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملک کی منتخب قیادت کی مبینہ بدعنوانی دراصل جمہوری نظام کی کمزوری ہے اور بہتر ہے کہ ملک میں آمرانہ نظام رہے جو شاید پاکستان کے مخصوص حالات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

اسی دلیل کی بنیاد پر انیس سو نوے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برخواست کی گئی اور اس عمل کے ایک مرکزی کردار جنرل مرزا اسلم بیگ کو بائیس سال بعد جب عدالت کے حکم کے نتیجے میں کارروائی کا سامنا ہے تو ملک کے موجودہ فوجی سربراہ کو خود یہ کہنے کے لیے میدان میں کودنا پڑا کہ واویلا کرنے سے پہلے جرم ثابت تو ہونے دیں۔

کیا واقعی پاکستان میں اتنا کچھ بدل چکا ہے؟ فرض کیجئیے کہ ایسا ہی ہے اور ملک کی اعلٰی فوجی قیادت کا ذہن وہ نظریاتی موڑ مڑ چکا ہے جس سے پہلے کی سڑک پاکستان کی ساری تاریخ میں جمہوریت کے خون کے دھبوں سے داغدار رہی۔ اس لیے کیوں نہ ان کی بات، جو اصولی طور پر درست بھی ہے، کہ جرم ثابت ہونے تک کسی کو مجرم نہ کہا جائے مان لی جائے۔ پھر آگے کیا؟

صحرا میں باز گشت

جنرل کیانی شاید اس امر سے انکاری ہیں کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اپنے اپنے شیطانوں کے تعاقب میں ہر قانون پامال کر چکی ہے۔ اب اگر شیطان گھوم کے ان کی جانب آیا ہے تو قانون یا اصول کی دہائی صحرا میں باز گشت کے انتظار کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جنرل کیانی کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم اپنے طور پر کسی کو بھی چاہیے وہ سویلین ہو یا فوجی، مجرم ٹھہرائیں اور پھر اس کے ذریعے پورے ادارے کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیں۔ گویا وہ نو جرنیل جن پر مختلف نوعیت کے الزامات ہیں، اگر ان پر لگائے گئے تمام الزامات ثابت بھی ہو جاتے ہیں تو بات وہاں ختم ہو جائے گی۔ ان کے جرائم کو انفرادی عمل سمجھ کر سزا ان کے فرد تک محدود رکھی جائے گی۔

کیا یہ بات بھی اصولی طور پر درست ہے؟

اگر ہاں، تو اس کا مطلب ہے کہ آج سے تینتیس برس قبل پاکستان کو افغان جنگ میں جھونک کر منشیات اور غیر قانونی اسلحے کے عفریت کے سامنے بے بس و بے سہارا چھوڑنے کا ذمہ دار صرف اور صرف جنرل ضیاالحق تھا؟ کیا بطور ایک ادارے کہ پاکستان کی پوری فوجی قیادت اس فیصلے سے لاتعلق تھی؟ کیا انیس سو نوے میں صدر غلام اسحاق بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کرنے کے واحد ذمہ دار تھے؟ اگر اس وقت کی فوجی قیادت نے ان کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو کیا وہ حکومت کو برطرف کر سکتے تھے؟ کیا انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت جنرل پرویز مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا؟ کیا پاکستانی فضائیہ کو ایک سیاسی رہنما کے قتل کے لیے استعمال کرنا جنرل مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا؟

مان لیا کے ایسا ہی تھا، اور یہ سب فیصلے اپنے وقت کی فوجی قیادت کے ذاتی فیصلے تھے۔ اور اگر ہر اس فیصلے کا ذمہ دار، جس سے پاکستان کے ادارے تباہ ہوئے، ملک کی ساکھ برباد ہوئی اور دنیا نے اسے ایک ناکام نہیں تو ناپسندیدہ ریاست کہا، ایک شخص ہی تھا تو پھر ہم اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے ذمہ دار شخص کو آج تک تلاش کیوں نہ کر پائے؟ اچھا نا ہوتا کہ کوئی بیگ یا درانی یا مشرف یا کیانی ہوتا جس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر ہم ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت کو بری الذمہ قرار دے سکتے۔

سربراہی کا بوجھ ہی ایسا ہے جسے ذات تک محدود رکھنا ممکن نہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی ادارے کی اعلیٰ قیادت کوئی غلط کام کرے اور اس کا اثر براہ راست ادارے پر نہ پڑے۔ یہ نو جرنیل جو اس وقت زیر عتاب ہیں، ان کی تقدیر کا فیصلہ ہی اس رائے کی بنیاد بنے گا جو عوام ان اداروں کے بارے میں اپنے دل میں قائم کریں گے۔

ہمارے بہت سے قارئین نے رابرٹ بولٹ کا مشہور ڈرامہ اے مین فار آل سیزنز پڑھا ہو گا۔ انتہائی باوقار اور اصول پرست سر ٹامس مور اس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں۔ ایک جگہ وہ اپنے داماد سے بحث میں الجھتے ہیں۔ داماد کا کہنا ہے کہ شیطان کے تعاقب میں کسی قانون کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے اور اسے پکڑنے کی خاطر تمام قوانین بھی توڑنے پڑیں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئیے۔ سر ٹامس مور جواب میں کہتے ہیں کہ جب آپ تمام قوانین توڑ چکے ہوں اور شیطان یک دم مڑ کر آپ ہی پر حملہ کر دے تو پھر آپ کس قانون کے پیچھے پناہ لیں گے۔

جنرل کیانی شاید اس امر سے انکاری ہیں کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اپنے اپنے شیطانوں کے تعاقب میں ہر قانون پامال کر چکی ہے۔ اب اگر شیطان گھوم کے ان کی جانب آیا ہے تو قانون یا اصول کی دہائی صحرا میں باز گشت کے انتظار کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے:

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔