طالبان کا ردعمل نہ آنا کیا ظاہر کرتا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 15:56 GMT 20:56 PST

افغان وفد مذاکرات کی وجہ سے پچیس گھنٹے تاخیر سے واپس کابل روانہ ہوا

اسلام آباد میں گزشتہ دو دنوں سے پاکستانی اور افغان وفود کے درمیان مصالحتی عمل میں طالبان اراکین کی رہائی پر اتفاق تو ہوگیا لیکن طالبان نےاس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

کیا طالبان کی خاموشی نیم رضامندی ہے یا وہ تیزی سے تبدیل ہوتے حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور بعد میں کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر کریں گے؟ صورتحال واضح نہیں۔

طالبان معمول کی کارروائیوں سے متعلق بیانات تو جاری کر رہے ہیں لیکن اس بابت لب کشائی سے گریز معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ ای میل پر دستیاب طالبان بھی اس حوالے پوچھےگئے سوالات کا فل الحال جواب دینے سے کترا رہے ہیں۔

خیال ہے کہ طالبان رہائی کا فیصلہ اچانک تو نہیں ہوا ہوگا۔ اس پر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی بات چیت کافی عرصے سے چل رہی ہوگئی۔ سفارتی حلقوں کے مطابق وفد کی آمد پر پاکستان نے تقریباً دس طالبان قیدیوں کی ایک فہرست افغان حکام کے حوالے کی تھی جوکہ افغان حکام کو قابل قبول نہیں تھی۔ جواب میں افغانوں کی جانب سے چالیس افراد کی رہائی کا معاملہ اٹھایا گیا۔

اس کے بعد بدھ کو اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں جہاں یہ وفد ٹہرا تھا تمام دن مذاکرات کا ایک طویل عمل شروع ہوگیا۔ کبھی افغان پاکستانیوں کے پاس اور کبھی پاکستانی اہلکار افغانوں کے پاس تجاویز سے لے کر پہنچ جاتے۔ مشترکہ اعلامیے کے لیے افغان وفد نے کئی تجاویز پیش کیں جن میں سے چند مانی گئی اور چند کو مزید غور کے لیے اٹھا رکھا گیا۔ جس وفد نے ملاقاتوں کا سلسلہ ختم کر کے بدھ کی سہ پہر دو بجے روانہ ہو جانا تھا وہ مذاکرات کی وجہ سے پچیس گھنٹے لیٹ روانہ ہوا۔

سفارتی حلقوں کے مطابق افغان حکام کا قیدیوں کے رہائی کے علاوہ مطالبہ تھا کہ طالبان کو افغانوں کے درمیان مذاکرات کے عمل میں شامل کیا جائے۔ پاکستان اس پر آمادہ نہیں ہوا۔ بعض لوگوں کے مطابق اس کی وجہ سے پاکستان کو خدشہ تھا کہ طالبان ناراض ہوں گے جبکہ کچھ اور کے مطابق پاکستان کا یہ موقف تھا کہ وہ طالبان کو اس پر آمادہ نہیں کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ افغان وفد جن مسائل پر مذاکرات کے لیے ذہن بنا کر آیا تھا ان میں رہائی کے علاوہ محفوظ گزرگاہ کی یقین دہانی، دو ہزار چودہ کے بعد مسلم دنیا کی حمایت کے لیے ابھی سے ابتدائی ہوم ورک اور طالبان کے ساتھ بذریعہ پاکستان براہ راست رابطہ استوار کرنا تھا۔

رہائی اور گزرگاہ کا معاملہ تو فریقین کی حمایت سے کسی حد تک طے ہوگیا لیکن مسلم دنیا کی حمایت اور براہ راست رابطوں سے متعلق ’ورک ان پراگرس‘ کا فیصلہ ہوا۔

بین الاقوامی کانفرنس جوکہ پاکستان، سعودی عرب یا کسی دوسرے مسلم ملک میں منعقد کی جائے گی اس کا مقصد امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھی طالبان حملوں کے خلاف معتبر علماء سے فتوے لینا بھی شامل ہے۔ یہ افغان حکومت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہوگی۔

فائل فوٹو

کیا طالبان کی خاموشی نیم رضامندی ہے یا وہ تیزی سے تبدیل ہوتے حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں

افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی نے مقامی صحافیوں سے ناشتے پر گفتگو میں بھی برملا کہا کہ انہوں نے حکومت پاکستان سے کوئٹہ شوریٰ سے بات یا رابطہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کوئٹہ یا کراچی شوریٰ کے وجود سے انکار کرتا رہا ہے لیکن عام تاثر یہی ہے کہ اہم طالبان رہنما پاکستان میں ہی روپوش ہیں۔

طالبان کی رہائی سے متعلق ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس سے افغان حکومت کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے متعلق افغان وفد کے رکن عبدالحمید مبارز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے اس سے اعتماد سازی ہوگی اور قیام امن کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔

’اس سے ہمیں امید ہے کہ طالبان قومی دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ طالبان دو ہزار بارہ کے صدارتی انتخابات میں شریک ہوں اور اپنا امیدوار بھی لائیں۔‘

طالبان نے اگر رہائی کے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے تو دوسری جانب امریکہ نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان پر بات کرتے ہوئے امریکی سفیر اولسن نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر مصالحت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

نائب امریکی سفیر ہاگلینڈ نے کہا کہ ان کی آغاز سے خواہش تھی کہ افغانستان اپنے مصالحتی عمل کی خود قیادت کرے۔ اس میں پاکستان کا بھی اہم کردار ہوگا۔’یہ اچھا اقدام ہے اور ہم خوش ہیں۔‘

امریکیوں کے لیے تو یقیناً یہ مثبت پیش رفت ہے لیکن معاملہ ابھی بھی طالبان کے ردعمل پر منحصر ہے۔ ساتھیوں کے رہائی کے علاوہ دیگر مطالبات پر کتنی لچک دکھانے کو رضامند ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔