بھٹکتی نسلوں کا خورشید

Image caption تصویر بشکریہ روشنی پبلشر

برسوں بیتے کہ میں نے حیدرآباد سندھ کے ڈی سی ہاؤس کے سامنے دیالداس کلب کے ساتھ والے فٹ پاتھ پر چقیں اور موڑھے بنانے والےجھگی نشین عورتوں ، مردوں اور بچوں کے ساتھ ایک ’سفید پوش‘ بھلے مانس کو آلتی پالتی مارے ’کچہری‘ کرتے دیکھا تھا۔

پتے کی بیڑی سے کش لگاتے ہوئے، کھدر کی شلوار قمیص، پاؤں میں جاگر، سر پہ ماؤ کیپ پہنے اور کاندھے پر تھیلا لٹکائے ہوئے ان لوگوں سےگپیں لگانے والا عینک والا شخص مجھے بعد میں پتہ لگا کہ خورشید قائم خانی تھا۔

خورشید قائم خانی کون تھا؟

یہ راجستھانی راجپوت بچہ جس کا ویسے تو پیشۂ آباء سپاہ گری تھا خانہ بدوشوں، جپسیوں، جوگيوں، دلتوں، شیدیوں، افریقی سندھی نسل کے سیاہ فام لوگوں، بھیلوں، کولہیوں، میگھواڑوں ، شکاریوں، بازی گروں،گرگلوں سمیت ایسی تمام فراموش شدہ نسلوں کا چہرہ تھا جنہیں کمتر خدا کی اولادیں کہا جاتا ہے۔

سندھ میں ایسے پچھاڑے لتاڑے ہوئے لوگوں کے دو اوتار ہوکر گزرے ہیں ان کے ایک اوتار پنجابی دانشور اور سابق بیوروکریٹ مسعود کھدر پوش تھے اور دوسرا خورشید قائم خانی تھا۔

خورشید بقول شخصے سدا کا سیلانی، پیدائشی انتھرو پولوجسٹ،ایک ایسا جپسی، آوارہ گرد اور مسافر لکھاری تھا جس نے نہ صرف سندھ کے خانہ بدوشوں اور صدیوں سے صحرائے تھر اور راجستھان کی خاک پھانکتی اور دھتکاری ہوئی نسلوں پر لکھا بلکہ ان کے ساتھ صحراؤں کی خاک پھانکی اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایسے لوگوں کے بیچ ان کے ساتھ رہ کر گزار دیا۔

لیکن وہ یہ تپسیا اور مسافتیں کوئی کسی این جی اوز، نیشنل جیوگرافک، ہسٹری چینل یا دیگر میڈیا کیلیے نہیں کیا کرتا تھا۔ اس کے پاؤں میں چکر اور دل میں درد تھا۔ خورشید قائم خانی تب کا آوارہ گرد تھا جب پیار ابھی این جی اوز کا پروجیکٹ نہیں بنا تھا۔ وہ ایک بےچین اور پیار کرنے والی روح تھا۔ راجپوت سے زیادہ وہ صرف مٹی کا پوت لگتا تھا۔

ہم اس خورشید قائم خانی کو نہیں جانتے تھے جو فوج میں میجر تھا اور انیس سو اکہتر کی جنگ میں سابقہ مشرقی پاکستان میں سینہ چاکان مشرق کے ساتھ گزری بپتی انسانی تاریخ کی اتنی بڑی بپتائیں دیکھ کر فوج چھوڑ آیا تھا۔ فوج چھوڑنے سے پہلے اس نے اسی باتوں کا اظہار اپنے والد سے کیا تھا اور اس کے والد فوج کی نوکری چھوڑ کر آنے پر اس سے ہمیشہ نالاں رہے لیکن اسے آخری گھڑی تک اپنے گھر والے، محلے والے اور قبیلے والے ’میجر صاحب‘ ہی کہتے رہے۔

خورشید قائم خانی سے انگریزی اخبارات پڑھنے والے زیادہ تر تب ہی واقف ہوئے جب اس نے انیس سو اسی کی دہائي کے ابتدائي سالوں میں کراچی سے عمران اسلم کی زیر ادارات شائع ہونے والی شام کے اخبار ’دی سٹار‘ میں سندھ کے خانہ بدوش قبیلوں اور قوموں کے متعلق مضامین لکھنے شروع کیے۔ بعد میں حورشید قائم خانی کے یہ مضامین اردو ترجمہ ہوکر ’بھٹکتی نسلیں‘ کے عنوان سے ایک کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ خورشید کی یہ کتاب سندھ میں جپسی قبیلوں کے متعلق ایک چھوٹی سے بائبل ہے۔

لیکن سندھ کے لوگ اور خانہ بدوش قبیلے تو اس خورشید کو کب کا جانتے تھے جو سندھ میں ہاریوں (کسانوں) کے حقوق کی تحریک کے ساتھ جڑ گیا تھا اور اپنے گاؤں میں سندھ ہاری کمیٹی کے اجلاسوں کی میزبانی بھی کیا کرتا تھا۔

خورشید ایک عالمی سطح کی جپسی تھے۔ کبھی وہ زینب مارکیٹ کراچـی میں سرِ اتفاق ملے جوگی کے ساتھ اس کی پیڑھیوں کی کھوج لگاتے ہوئے صحرائے تھر کی خاک چھاننے چل پڑتے تو کبھی نیویارک کے ہارلیم میں رہنے والے افریقی نژاد امریکی افراد میں سندہ کے شیدی یا مکران کے ایفرو نسل کے آدمی کی جڑوں کے پیچھے جاتے اور کبھی امریکہ اور کینیڈا کے نِیٹو انڈینز کے تاریخی دردوں پر کڑھتے رہتے۔

کبھی وہ پاکستانی شمالی علاقوں میں اپنی دوست اور مصنفہ ، حقوق انسانی کی کارکن خدیجہ گوہر کے ساتھ گلگت اور بلتستان کے برفانی صحراؤں کے لوگوں میں رہنے لگتے۔ خورشید اپنے آخری سالوں سے ذرا پہلے سارے موسم شمالی علاقوں پہاڑوں اور سندھ کے صحراؤں میں گزارتے۔ سوائے سردیوں کے جب وہ سندھ کا رخ کرتے۔ وہ کارگل تک بھی گیا تھا جہاں اس نے اپنی فوج کی نوکری کے اوائلی دن صرف کیے تھے۔

وہ اپنے آخری سالوں میں سندھی اخبار ’ کاوش‘ میں اپنی آوارہ گردیوں اور سفر پر لکھ رہے تھے۔ اس نے کئي سال قبل ٹنڈواللہ یار کے گاؤں ساند کے میں اپنی زمینوں پر خانہ بدوش افتادگان کوہلی قبیلے کے لوگوں کے ساتھ رہنے لگے تھے۔ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے جنہیں ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے۔

ان کی گہری دوست یا خدیجہ گوہر تھی یا پھر اوکھا جوگی۔ اسکے پھیرے جوگیوں والے پھیرے تھے۔

جوگی کا سفر رک گیا۔ وہ مرگیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے سندھ میں جپسی کاروانوں کے چلتے پاؤں رک گئے۔ایک دھڑکتے دل کی طرح کیونکہ جپسی لوگوں کے دل ان کے پیروں میں ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں