’میں تنہا ہی درد سہنا چاہتی تھی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 04:07 GMT 09:07 PST

25 مئی 2000 کو کولمبیا کی صحافی جینتھ بدویا بوگوٹا کے جیل خانے لا موڈولے کے پھاٹک کے باہر ایک ایسے آدمی کے انتظار میں کھڑی تھیں جس سے انہیں ایک اہم خبر کا سراغ ملنے کی امید تھی۔ وہاں سے انہیں اغوا کیا گیا۔ تین آدمیوں نے ان کو سولہ گھنٹے سے زیادہ دیر تک قابو میں رکھا، ان پر تشدد کیا اور ریپ کیاـ بعد میں ان آدمیوں کی شناخت ہوگئی اور پتا چلا کہ وہ کولمبیا کی ایک بڑی پیرا فوجی تنظیم اے یو سی (یونائیٹڈ سیلف ڈیفینس فورسز آف کولمبیا) کے ممبر ہیں۔ جینتھ اسی تنظیم کے بارے میں تفتیشی رپورٹ حاصل کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔

’ریپ کے بعد سب سے مشکل مرحلہ تھا تنہائی کا۔ میں اپنے آپ کو بےیارومددگار محسوس کر رہی تھی، یتیموں کی طرح بالکل اکیلی، بدن پر چوٹیں لگی ہوئی، نیل پڑے ہوئے۔ سوچنا شروع کیا کہ کسی نہ کسی طرح زندگی گزارنی ہے تو چلو یہی کرتے ہیں۔ لیکن نہیں، میں اس طرح نہیں جینا چاہتی تھی۔ اس کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ خودکشی کا تھا۔ خودکشی کے طریقوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ہمت نہیں ہے۔ ڈر یہ لگا کہ فرض کرو میں نے کوئی چیز کھا لی اور میری جان نہیں نکلی تو کیا ہوگا۔ لیکن اگر زندہ رہنا ہے تو اس کا کوئی جواز ہونا چاہیے، کوئی سبب ہونا چاہیے۔ اس سوال کا صرف ایک جواب مجھے ملا کہ اگر مجھے زندہ رہنا ہے تو وہی کام کرنا ہوگا جس کو میں دل سے چاہتی ہوں اور وہ کام تھا صحافت،جرنلزم کا۔

لیکن باہر نکلنا کوئی ایسا آسان نہیں تھا۔ سارے بدن پر نیل پڑے ہوئے تھے۔ بازوؤں کا برا حال تھا۔ اس پر جو گھونسے اور مُکّے مارے گئے تھے ان کی وجہ سے بڑے بڑے لال اور کالے دھبّے پڑ گئے تھے۔ میرے ہاتھ، میرا بدن، میرا چہرہ سب کا سب نیل سے بھرا پڑا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ مجھے اس حال میں دیکھیں۔ لیکن جیسے ہی میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو اپنا منہ دکھا سکتی ہوں، اغوا کے کوئی دو ہفتے کے بعد،تو میں نے فیصلہ کر لیا اپنے اخبار( ال ایسپیکٹاڈور) میں واپس جاؤں گی۔

یہ بڑا جذ باتی تجربہ تھا۔ میں وہاں پہنچی تو قدم مشکل سے اٹھا پا رہی تھی۔ ڈائریکٹر میرے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ دفتر کے سارے لوگ اٹھ کر کھڑے ہوگئے، کوئی دو سو صحافی، اور تالیاں بجانے لگے۔ ایک لمبی سی قطار بنا لی تھی ان سب نے۔ ہر ایک نے بڑھ بڑھ کے مجھے گلے لگایا۔

اس دن کے بعد سے باتیں صرف اغوا کے بارے میں ہوتی رہیں۔ ریپ کی کسی نے کوئی بات نہیں کی بلکہ میرے زیادہ تر ساتھیوں کو یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ مجھے ریپ کیا گیا ہے۔ صرف یہ جانتے تھے کہ میں اغوا ہوئی تھی اور مجھے مارا پیٹا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اغوا کے کئی مہینے کے بعد ایک دن کارلوس کستانو (اے یو سی کے سب سے بڑے کمانڈر) نے ٹی وی کے انٹرویو میں اس کا حوالہ دیا۔ اس دن میرے زیادہ تر ساتھیوں کو پتا چلا۔ میں بہت پریشان ہوئی۔ دو دن کام پر نہیں گئی۔ پھر میں نے کہا کہ کوئی ریپ کے بارے میں بات نہ کرے۔ سب نے پورا لحاظ کیا۔

اُس زمانے میں کولمبیا میں اغوا بڑی عام بات تھی۔ نوّے فیصد خبریں اغوا کے بارے میں ہوتی تھیں۔ میں نے اس پر لکھنا شروع کیا۔ کوئی ایک مہینے تک ہر خبر کے آخر میں میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ لیکن میں نے تہیہ کرلیا کہ یہ کام نہیں چھوڑوں گی کیونکہ میں نے تو کوئی برائی نہیں کی تھی۔

ملک کے شمالی علاقے میں پیرا فوجی دستوں اور گوریلاؤں میں جھڑپوں کی خبر آئی تو میں نے کہا کہ میں رپورٹنگ کے لیے جاؤں گی۔ میرے اغوا کے واقعے کو چھ مہینے ہو چکے تھے۔ اخبار والوں کو میری حفاظت کے خیال سے پس و پیش تھا۔ میں نے کارلوس کستانو کو ایک ای میل بھیجی کہ رپورٹنگ کے لیے جانا چاہتی ہوں لیکن پیرا فوج کی طرف مجھے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ اس کی طرف سے جواب آیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں پہنچ گئی۔ یہ میرے لیے وہ بات تھی جسے انگریزی محاورے میں ’لٹمس ٹیسٹ‘ یا ’تیزابی آزمائش‘ کہتے ہیں۔ مجھے اُن پیرا فوجیوں کا سامنا کرنا تھا جو میرے ساتھ سلوک کے ذمہ دار تھے۔

میں نے شروع میں ہی ایک اہم فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنے خاندان والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی۔ بس ایک ماں تھی جس کے ساتھ پورا تعلق رکھا کیونکہ وہی میری زندگی میں سب سے اہم شخصیت ہے۔ باقی سارے رشتے داروں سے دوری اختیار کرلی۔ باپ سے میں نے پھر کبھی بات تک نہیں کی۔ میں اپنے درد کو اپنے دل میں رکھنا چاہتی تھی اور اکیلے اسے برداشت کرنا چاہتی تھی۔ کسی اور پر یہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔

پہلے سال کے دوران مجھے نفسیاتی علاج کی سہولت بھی دی گئی لیکن میں نے آخر میں سوچا کہ اس سے فائدہ تو کچھ ہے نہیں اس لیے میں نے یہ علاج بھی چھوڑ دیا۔

کہیں 2011 میں جا کر قانونی کارروائی پھر سے شروع ہوئی وہ بھی اس وجہ سے کہ میں خود اٹھانے پر آمادہ ہوئی۔ کارروائی کی بس شروعات ہوئی ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ عمل ہے کیونکہ میرے اغوا میں ایسے لوگ ملوث تھے جن کے بارے میں مجھے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جتنا اثرورسوخ مجھے حاصل ہے، جتنے لوگوں کو میں جانتی ہوں، اٹارنی جنرل سے میرا براہ راست رابطہ ہے۔ اس سب کے باوجود بھی اگر اب تک کچھ نہیں ہو سکا ہے تو دوسری وارداتوں میں کیا ہوتا ہوگا۔ یہ مسئلہ ہے کولمبیا میں، اگر میرے کیس میں کچھ نہیں ہوا ہے تو دوسری عورتیں کیا امید کرسکتی ہیں۔‘

جینتھ بدویا نے واردات کے وقت ہی پولیس میں ریپ کی رپورٹ درج کرا دی تھی لیکن گیارہ سال سے زیادہ وقت گزر گیا اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ بالاخر مئی 2011 میں وہ حقوق انسانی کے انٹر امریکن کمیشن میں اپنا کیس لے گئیں۔ کمیشن نے کولمبیا کے سرکاری وکیل کے دفتر کو ہدایت جاری کی کہ کارروائی شروع کی جائے۔

کچھ ہی عرصے کے بعد پیرا فوج کے ایک سابق فوجی کو گرفتار کیا گیا جس نے قبول کر لیا کہ وہ اغوا میں ملوث تھا۔ اس کے بعد سرکاری وکیل نے دو اور آدمیوں پر فرد جرم عائد کی ہے۔ ستمبر 2012 میں سرکاری وکیل نے فیصلہ سنایا کہ جینتھ بدویا کے اغوا اور تشدد اور جنسی زیادتی کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا جائے اور اس پر زائد المیعاد، ضابطے کا اطلاق نہ کیا جائے کیونکہ پیرا فوج نے یہ کارروائی ’فوجی تدبیر کے طور پر کی تھی تاکہ ان لوگوں کو خاموش رکھا جا سکے جو اس فوج کی زیادتیوں اور خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرنے کی جسارت کرنا چاہیں۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔