’انہوں نے اس کی تردید کی کوشش کی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 04:11 GMT 09:11 PST

وانگو کانجا کو 2002 میں ایک شام جب وہ کام سے واپس آ رہی تھی ایک سے زیادہ آدمیوں نے ریپ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے ان کے سر کو زور سے دبا رکھا تھا اس وجہ سے وہ ان کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھیں۔ اپنی اس بپتا کے بعد اس نے اپنی جیسی ریپ اور جنسی تشدد کی ماری ہوئی عورتوں کی مدد کے لیے نیروبی میں وانگو کانجا فاؤنڈیشن قائم کی ہے۔

’جب میرے ساتھ یہ واردات ہوئی میں اُس زمانے میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ گھر جا کر میں نے اندر سے تالا لگا لیا اور بند ہو کے بیٹھ رہی۔ دو دن بعد مجھے مجبوراً اس لیے نکلنا پڑا کہ مالکِ مکان کو کرایہ دینا تھا اور کچھ بل ادا کرنے تھے۔ کئی دن تک میں اس دردناک واقعے سے سمجھوتہ نہیں کر پائی۔ پھر آہستہ آہستہ میں نے کام پہ جانا شروع کیا لیکن سہم سہم کے۔ میں جیتے جاگتے ایک بھیانک خواب دیکھ رہی تھی۔ ہر وقت گھبرائی گھبرائی، غم زدہ رہتی۔ مجھ پر 2002 سے 2005 کے درمیان مایوسی اور ڈپریشن کے دورے پڑنے لگے جن سے چھٹکارے کے لیے میں نے شراب نوشی شروع کر دی۔

ایک وقت ایسا آیا کہ میں لوگوں سے دور بھاگنے لگی۔ لیکن میں نے سوچا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے تو میں نے نفسیات کے کورس میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے میری زندگی نے پلٹا کھایا۔ اس کورس میں جو پریکٹیکل کام تھا اس میں ریپ اور جنسی تشدد کی ستائی ہوئی عورتوں کا نفسیاتی علاج کرنا ہوتا۔ ایسی عورتوں کو پیشہ ورانہ مشورہ کیسے دیا جاتا ہے یہ سیکھتے سیکھتے میں خود اپنی ذہنی حالت سنوارنے لگی۔

میرے خاندان والوں کو میرے ریپ کے بارے میں اخباروں سے پتا چلا۔ ان سے میرے تعلقات یوں بھی کچھ بہت اچھے نہیں تھے اور اب اس بھیانک واردات نے اور بھی اپنا کام دکھایا۔ شروع میں ان لوگوں نے یہ ماننے سے ہی انکار کردیا کہ میرے ساتھ واردات ہوئی ہوگی۔

میرے اردگرد جو لوگ تھے اور جنہیں ساری بات معلوم تھی وہ مجھ سے بہت زیادہ اخلاق سے پیش آنے لگے جس کا اثر ایک طرح سے الٹا ہوا۔ اس پورے سفر میں جتنی مشکلات میں نے جھیلیں، اکیلے جھیلیں۔ نہ کسی دوست نے نہ خاندان والے نے کوئی مدد کی۔ صرف بالکل شروع میں میری ایک آنٹی تھیں جنہوں نے تھوڑی بہت بھاگ دوڑ کی تھی، میڈیکل چیک اپ کرایا تھا، مدد کرنے والے کچھ اداروں سے بات کروائی تھی اور کچھ معلومات اور مشورے دیےتھے۔

میں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی لیکن انہوں نے کہا کہ بات کو یہیں رہنے دو آگے نہ بڑھاؤ۔ بلکہ انہوں نے تو ٹھیک سے رپورٹ بھی نہیں لکھی۔ بس یہی کہتے رہے کہ رپورٹ درج نہ کراؤ اور کسی پر الزام نہ لگاؤ۔ اب اس کیس کو میں کیسے آگے بڑھاتی، کیسے حملہ کرنے والوں کو سزا دلواتی؟

اس کی بجائے اس کوشش میں لگ گئی کہ کسی طرح ڈپریشن سے چھٹکارا حاصل کروں اور ریپ اور جنسی تشدد کا شکار ہونے والی دوسری عورتوں کی کوئی مدد کروں۔ اس مدد کی سخت ضرورت تھی اس وجہ سے میں نے 2005 میں یہ فاؤنڈیشن قائم کی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔