’وہ میرا قصور نہیں تھا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 04:21 GMT 09:21 PST

لیلیٰ (اصل نام نہیں ہے) کو اس کے عم زاد(کزِن) نے، جو نشے میں دھت تھا، پانچ سال پہلے ریپ کیا تھا۔

’بہت ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا بزدلانہ فعل میرا ہی ایک رشتہ دار کرے گا۔ میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ میرے ساتھ یہ ہوگا۔ میں گھر میں بند ہو کے بیٹھ گئی۔ باہر نکلنا بند کر دیا۔ لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا، رشتے داروں سے بات کرنا بند کردی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا اب میں کیا کروں۔

ریپ کی شکار عورتوں کو سہارا دینے والی ایک تنظیم ہے، میں نے اس سے مدد مانگی۔ اس سے فائدہ ہوااور میرے اندر تھوڑی سی خود اعتمادی واپس آ گئی اور محسوس کرنے لگی کہ میں کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہوں۔ اس احساس میں بھی مدد ملی کہ مجھ پر یہ جو حملہ ہوا اس میں میری کوئی خطا نہیں تھی۔ اِن لوگوں سے بات کر کے بہت تسلی ہوئی۔

میری ماں نےمیرا پورا پورا ساتھ دیا اور اس مصیبت میں میرا سہارا بنی رہیں۔ لوگ مجھ پر الزام دھرتے ہیں، ہمسائے کے لوگ ملنے سے کتراتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں خود اس مصیبت میں پھنسی تھی اس وجہ سے میں ہی ذمہ دار ہوں۔ وہ مجھے بےقصور مصیبت میں پھنسنے والی لڑکی نہیں سمجھتے۔

ایسے بھیانک جرم کے لیے صرف پانچ سال کی سزا۔ میرے خیال میں یہ کافی نہیں ہے۔ ریپ کرنے والے کو پھانسی ملنی چاہیے۔ اُس نے میرے اوپر جو ظلم کیا ہے اور جیسے میری زندگی تباہ کی ہے وہ تو اب مٹنے والی بات نہیں ہے۔ ساری زندگی میرے ساتھ رہے گی۔

میری دعا ہے کہ کسی لڑکی کے ساتھ وہ نہ ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ کوئی عورت اس کی سزا وار نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور ریپ کا شکار عورتوں کی مدد اور سہارے کا انتظام کرنا چاہیے خاص طور سے اس لیے کہ اس جرم کا اثر بےقصور عورت پر مدتوں تک باقی رہتا ہے۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔