مسئلہ آخری سال کا ہے۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 11:44 GMT 16:44 PST

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت کا بھی یہ آخری سال جس کے بعد انتخابات منعقد کیے جائیں گے

اکثر منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت کے آخری سال میں جسے انتخابات کا سال کہا جاتا ہے انڈوں پر بیٹھی کُڑک مرغی میں بدل جاتی ہیں لیکن پاپولر پالیٹکس کا لبادہ اوڑھ کر۔

جیسے امریکی الیکشن سال میں وائٹ ہاؤس بھیگی بلی بن جاتا ہے اور اسرائیل شیر ہوجاتا ہے۔

جیسے بھارت میں کانگریس حکومت نے انتخابی سال کے دوران بی جے پی کا سیاسی ٹائر پنکچر کرنے کی پیش بندی میں افضل گرو کو بلی چڑھا دیا ۔

جیسے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں چار برس خزانے پر ناگ کی طرح بیٹھنے کے بعد پانچویں برس میں عوامی فلاح و بہبود کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لیے دوڑ پڑیں۔ لیپ ٹاپ سکیم سے لے کر ٹرانسپورٹ منصوبوں کے افتتاح، فلائی اوورز کی راتوں رات تعمیر، پاک ایران گیس پائپ لائن، جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے پھُرتیاں، غریب عورتوں کے لیے وظیفہ، کم آمدنی والے طبقات کے لیے سستے مکانات کا ایک اور خواب، انتہائی دائیں بازو کی ہمدردیاں جیتنے کے لیے طالبان سے امن مذاکرات پر اصرار، انرجی پالیسی، ماحولیات پالیسی، اکنامک ٹاسک فورس، یہ فیتہ کاٹ، وہ فیتے کاٹ، اِس بلڈوزر پر بیٹھ، اُس پیلی ٹیکسی کو چلا۔ اِس بیوہ کے سر پر ہاتھ رکھ، اُس مفلوک الحال بچے کو گود میں اٹھا ۔۔۔ بھائی جان، مہربان، قدر دان ایک ووٹ ۔۔۔بس ایک ووٹ ۔۔۔اس کے بعد اگلے پانچ برس آپ کو کوئی زحمت نہیں دیں گے۔۔۔

بنگلہ دیش میں بھی یہ انتخابی سال ہے۔ چنانچہ حکمران عوامی لیگ کو اچانک سے یاد آگیا کہ چالیس سال پہلے کی فائلیں نکالو، تاریخ کے ساتھ انصاف کرو، تاریخ کے بھدے کونوں کو درست کرو۔ جب نازیوں کے ساتھ ساز باز کرنے والوں کو ساٹھ برس کے بعد بلوں میں سے نکال کر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے تو چالیس برس بعد جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا غدارانہ ریکارڈ کیوں نہیں کھنگالا جاسکتا۔ اُن پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے قانون کے تحت مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاسکتا، سزائے موت کیوں نہیں سنائی جاسکتی؟

آخر ٹریبونل اب ہی کیوں؟

کیا یہ وہی غدار جماعتِ اسلامی نہیں جو جنرل حسین محمد ارشاد کی آمریت کے خلاف ملک گیر سیاسی تحریک میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ ریلیوں اور جلسوں میں شامل رہی؟ تو پھر انسانیت کے خلاف جرائم کا ٹریبونل دو ہزار نو میں ہی کیوں تشکیل پایا؟

مگر ایک منٹ ۔۔۔کیا یہ وہی عوامی لیگ تو نہیں جو پچھلے چالیس برس میں تیسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئی ہے؟ تو اب ایسا کیا ہوگیا کہ تیسرے اقتدار کے پانچویں برس میں اسے ہر طرف غدار دکھائی دینے لگے؟ کیا یہ وہی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نہیں ہے جسے تحریکِ آزادی کے ایک ہیرو شیخ مجیب الرحمان نے کالعدم قرار دے دیا اور تحریکِ آزادی کے دوسرے ہیرو میجر جنرل ضیا الرحمان نے بحال کردیا۔ عوامی لیگ کے ہوتے ہوئے یہ غدار جماعت انیس سو چھیاسی سے لے کر دو ہزار آٹھ تک پانچ انتخابات میں کیسے حصہ لیتی رہی، سیٹیں جیتتی رہی اور مخلوط حکومتوں میں وزارتوں کے مزے بھی لوٹتی رہی۔

مان لیا کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے مرحوم امیر پروفیسر غلام اعظم بنگلہ دیش کے قومی غدار تھے تب ہی تو عوامی لیگ کی پہلی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کی تھی۔ چلیے یہ بھی مان لیا کہ ضیا الرحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے دور میں غلام اعظم کی شہریت کی بحالی ایک گھٹیا سیاسی عمل اور تحریکِ آزادی کے شہیدوں کے خون سے غداری کے برابر تھا۔ لیکن یہ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کو کیا ہوا جس نے پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کر کے انکی شہریت بحال رکھی؟

کیا یہ وہی غدار جماعتِ اسلامی نہیں جو جنرل حسین محمد ارشاد کی آمریت کے خلاف ملک گیر سیاسی تحریک میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ ریلیوں اور جلسوں میں شامل رہی؟ تو پھر انسانیت کے خلاف جرائم کا ٹریبونل دو ہزار نو میں ہی کیوں تشکیل پایا؟

ماضی دفن کرنے کے دو طریقے

ماضی دفن کرنے کے دو طریقے ہیں۔ یا تو نیلسن منڈیلا کی تقلید کرتے ہوئے سچائی کمیشن قائم ہو جس کے روبرو پشیمان ظالم اور انتقام کی آرزو میں پلنے والا مظلوم ایک دوسرے کو کھلے دل سے سنیں اور معاف کردیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسانیت سوز جرائم میں ملوث افراد پر مقدمہ چلانے کے لئے انٹرنیشنل کرائم کورٹ کے مشورے سے ایک بین الاقوامی ٹریبونل تشکیل دے کر ملزموں کو اس ٹریبونل کے حوالے کردیا جائے جیسا کہ بوسنیا، روانڈا اور سیرالیون کے جنگی مجرموں کے ساتھ ہوا۔

ماضی دفن کرنے کے دو طریقے ہیں۔ یا تو نیلسن منڈیلا کی تقلید کرتے ہوئے سچائی کمیشن قائم ہو جس کے روبرو پشیمان ظالم اور انتقام کی آرزو میں پلنے والا مظلوم ایک دوسرے کو کھلے دل سے سنیں اور معاف کردیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسانیت سوز جرائم میں ملوث افراد پر مقدمہ چلانے کے لیے انٹرنیشنل کرائم کورٹ کے مشورے سے ایک بین الاقوامی ٹریبونل تشکیل دے کر ملزموں کو اس ٹریبونل کے حوالے کردیا جائے جیسا کہ بوسنیا، روانڈا اور سیرالیون کے جنگی مجرموں کے ساتھ ہوا۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ خود ہی وکیل، خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بنا جائے اور نتائج کی پرواہ نہ کی جائے۔ بنگلہ دیش نے یہی تیسرا طریقہ اختیار کیا ہے۔ بھلے قوم دو حصوں میں بٹ جائے، سڑکوں پر تشدد حکمران ہوجائے مگر ووٹ ہاتھ سے نہ جائے۔

سارا شاخسانہ شائد مدتِ اقتدار کے آخری سال کا ہے۔ کیا ایسا کوئی طریقہ وضع ہوسکتا ہے کہ جمہوریت تو رہے مگر مدتِ اقتدار کا آخری سال آئے ہی نہ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔