فرشتوں کے کاغذاتِ نامزدگی

Image caption ریٹرننگ افسران نے امیدواروں سے وہ وہ سوال پوچھ لیے جنہیں پوچھنے سے عام طور پر رشتہ دینے اور لینے والے بھی کتراتے ہیں

جب خدا کے ولی حضرت بختیار کاکی جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو ایک شخص نے آگے بڑھ کے باآوازِ بلند کہا کہ حضرت کی وصیت ہے کہ ان کی نمازِ جنازہ وہ پڑھائے جو ہمیشہ ہر نماز کی پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہو، کبھی تہجد نہ چھوٹا ہو، کبھی نمازِ عصر قضا نہ کی ہو اور کسی نامحرم عورت پر دوسری نگاہ نہ ڈالی ہو۔

ہزاروں کے مجمع میں سے صرف ایک شخص جس کا چہرہ رومال سے چھپا ہوا تھا آگے بڑھا اور حضرت بختیار کاکی کے سر سے کفن سرکاتے ہوئے بولا۔

’ آپ تو رخصت ہوگئے مگر مجھے شرمندہ کر گئے۔‘

اور پھر اس شخص یعنی سلطانِ دہلی شمس الدین التتمش نے حضرت کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

یہ اس معاشرے کا قصہ ہے جہاں تمام فیصلے شریعت کی روشنی میں ہوتے تھے۔ مسلمان شہری جبراً نہیں عادتاً نماز پڑھتے تھے ، قانون سے ڈرتے تھے اور بزرگوں کی باز پرس کے ڈر سے کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے تھے اور سرزدگی پر خود سے شرمندہ بھی ہوتے تھے۔مگر ایسا معاشرہ بھی صرف ایک ہی شخص پیدا کرسکا جو حضرت بختیار کاکی کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا اہل ہو۔

مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ اگر شمس الدین التتمش کی جگہ جنرل ضیا الحق ہوتے تو وہ حضرت بختیار کاکی کی نمازِ جنازہ کی امامت کے لیے آگے بڑھ پاتے یا نہیں۔ لیکن انہوں نے وہ کام کردکھایا جس کی توفیق سلطان التتمش کو بھی نہ ہو سکی۔ یعنی جس آئین پر مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسے اکابرین نے اس اطمینان سے دستخط کیے تھے کہ اس کا تشخص اسلامی ہے، وہی آئین جنرل ضیا الحق کے نزدیک ناکافی اسلامی تھا۔ چنانچہ ایک دن انہیں وی سی آر پر شترو گھن سنہا کی فلمیں دیکھتے ہوئے غالباً یہ خیال آیا کہ ’ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو۔‘

یوں آئینِ پاکستان میں آرٹیکل 62 اور 63 تبدیل ہوا اور مجلسِ شوری (پارلیمنٹ) کی رکنیت کے خواہاں امیدواروں کے لیے لازم ٹھہرا کہ وہ اچھے کردار کے انسان ہونے کے بجائے اچھے کردار کے مسلمان ہوں اور عام طور پر احکاماتِ اسلام سے انحراف کے لیے مشہور نہ ہوں، اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتے ہوں،اسلام کے مقرر کردہ فرائض کے پابند ہوں،گناہِ کبیرہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں، سمجھ دار اور پارسا ہوں فاسق نہ ہوں اور صادق اور امین ہوں اور انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد ملکی سالمیت کے خلاف کام اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔

مجھے تو یہ بھی اندازہ نہیں کہ خود ضیا الحق بھی اگر آج کسی ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوتے تو آئینِ پاکستان کو بارہ صفحات کی کتاب قرار دے کر جب چاہے پھاڑ دینے کی دھمکی اور خدا کو حاضر ناظر جان کر تین دفعہ انتخابات کی تاریخ دے کر مکر جانے اور صدارتی ریفرنڈم میں جنوں بھوتوں سے ووٹ ڈلوا کر خود کو صدر منتخب کروانے کے تناظر میں خود کو کس طرح صادق اور امین ثابت کرتے۔

Image caption مجھے تو یہ بھی اندازہ نہیں کہ خود ضیا الحق بھی اگر آج کسی ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوتے تو آئینِ پاکستان کو بارہ صفحات کی کتاب قرار دے کر جب چاہے پھاڑ دینے کی دھمکی اور خدا کو حاضر ناظر جان کر تین دفعہ انتخابات کی تاریخ دے کر مکر جانے اور صدارتی ریفرنڈم میں جنوں بھوتوں سے ووٹ ڈلوا کر خود کو صدر منتخب کروانے کے تناظر میں خود کو کس طرح صادق اور امین ثابت کرتے

لیکن یہ ضرور ہوا کہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں جو مجلسِ شوریٰ آرٹیکل 62 کے سائے میں وجود میں آئی وہ گناہِ کبیرہ سے پرہیز یافتہ، فسق و فجور سے نفرت کرنے والے سمجھ دار، پارسا، صادقوں اور امینوں سے بھری پڑی تھی۔اور انھی پرہیز گاروں کے فضل سے آج تک پاکستان کے ڈنکے چار دانگِ عالم میں ہر طرح سے بج رہے ہیں۔

تبھی تو ایک بار پھر ایسے ہی مثالی لوگوں کی تلاش شروع ہوئی۔اور یہ تلاش بھی خوفِ خدا سے لرزتے ان ریٹرننگ افسروں نے کی جن کا کسی بھی طرح کےفسق، ریاکاری اور کبیرہ گناہوں سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور انہوں نے اپنی زندگیاں اسلامی فقہ کی باریکیاں سمجھنے میں کھپا دیں۔اسی لیے انہوں نے امیدواروں سے وہ وہ سوال پوچھ لیے جنہیں پوچھنے سے عام طور پر رشتہ دینے اور لینے والے بھی کتراتے ہیں۔

کل رات ہی میں نے خواب دیکھا کہ حلقہ این اے ایک پشاور سے رحمان بابا، این اے سولہ ہنگو سے خوشحال خان خٹک، این اے اڑتالیس اسلام آباد سے حضرت بری امام، این اے نوے جھنگ سے مائی ہیر، این اے ایک سو گیارہ سیالکوٹ سے علامہ محمد اقبال، این اے ایک سو اٹھارہ لاہور ایک سے حضرت داتا گنج بخش، این اے ایک سو انیس لاہور دو سے حضرت میاں میر، این اے ایک سو بیس لاہور تین سے مادھو لال حسین، این اے ایک سو سینتیس شیخوپورہ سے حضرت وارث شاہ، این اے ایک سو انتالیس قصور سے بابا بلھے شاہ، این اے ایک سو اڑتالیس ملتان سے شاہ رکنِ عالم، این اے ایک سو انچاس ملتان سے حضرت بہا الدین زکریا، این اے ایک سو پچاس ملتان سے شاہ یوسف گردیزی، این اے ایک سو چونسٹھ پاک پتن سے بابا فرید گنجِ شکر، این اے ایک سو اکہتر ڈیرہ غازی خان ایک سے حضرت شاہ سلمان تونسوی، این اے ایک سو بہتر ڈیرہ غازی خان دو سے حضرت سخی سرور، این اے ایک سو چوہتر راجن پور ون سے خواجہ غلام فرید، این اے ایک سو تراسی بہاولپور سے چنن پیر، این اے ایک سو بانوے رحیم یار خان سے بابا غریب نواز، این اے ایک سو ننانوے سکھر سے حضرت معصوم شاہ، این اے دو سو پندرہ خیرپور سے سچل سرمست، این اے دو سو بائیس حیدرآباد سے شاہ عبدالطیف، این اے دو سو اکتیس دادو سے گاجی شاہ، این اے دو سو اڑتیس ٹھٹھہ سے صوفی شاہ عنائیت، این اے دو سو چالیس کراچی سے عبداللہ شاہ غازی اور این اے دو سو ستر لسبیلہ سے شاہ نورانی کے کاغذات مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسترد ہوگئے ہیں۔

کسی نے ریٹرننگ افسر سے کہا کہ پہلے تو چھٹا کلمہ سنا پھر میں سناؤں گا، تو کسی نے کہا کہ یہ نظریہ پاکستان کیا ہوتا ہے پہلی بار سن رہا ہوں۔کسی نے اعتراف کیا کہ وہ قوالی سنتا ہے لہذٰا فسق و فجور سے پاک ہونے کی قسم نہیں کھا سکتا۔ کوئی اپنی تعلیمی قابلیت کا ثبوت پیش نہیں کر سکا تو کوئی یہ ثابت نہ کر پایا کہ درگاہ میں جو ہزاروں لوگ روزانہ دو وقت لنگر کھاتے ہیں تو اس لنگر کے اخراجات کے ذرائع کیا ہیں۔

ایک اس سوال کا جواب نہ دے سکا کہ اس نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی اور دوسرے نے اس سوال پر ہنسنا شروع کر دیا کہ اگر ایک دریا میں اس کی لاٹھی اور ایک بزرگ گر جائے تو پہلے کسے بچائے گا۔ ایک نے دعائے قنوت سنانے کے بجائے حق مولا، حق مولا کے نعرے لگانے شروع کر دیے اور ریٹرننگ افسر پر چھلانگ مار دی۔ ایک فقیر نے اس سوال پر مشتعل ہو کر افسر پر کاسہ اٹھا لیا کہ شاعری جائز ہے کہ ناجائز۔اور پھر اس نے یہ شعر کاغذ پر لکھ کر گولہ بنا کے معزز اہلکار کے منہ پر دے مارا کہ

زاہد نہ چھیڑ ہم کو کہ مستانے آدمی ہیں تجھ سے لپٹ پڑیں گے کہ دیوانے آدمی ہیں

امید ہے گیارہ مئی کو جو اسمبلیاں وجود میں آئیں گی ان میں ایسے لوگ نہیں ہوں گے۔بلکہ ویسے لوگ ہوں گے جن کے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ۔۔۔

اسی بارے میں