پاکستان کی ضمانت پر رہائی

Image caption الیکشن سے پہلے سب سانپ کے ڈسے رسی سے ڈر رہے تھے۔کیا الیکشن بروقت ہو پائیں گے؟

اس وقت پاکستان میں ایک آئینی سویلین حکومت کی جگہ دوسری آئینی سویلین حکومت لے رہی ہے۔

نہ جانے والے کا آنے والے پر کوئی احسان۔ نہ آنے والا اقتدار کے لیے کسی نادیدہ کا مقروض۔ لائے بھی ووٹر فرنٹ ڈور سے اور بھیجا بھی ووٹروں نے فرنٹ ڈور سے۔ نہ کسی نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نام لیا۔ نہ کسی نے کسی کو جی ایچ کیو کا گماشتہ کہا۔ نہ کہیں سے آواز آئی کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذریعے فوج کو بھی ملکی معاملات میں حصہ ملنہ چاہیے۔ نہ کوئی یہ درفنتنی لایا کہ فوج اس ملک کی سیاسی حقیقت ہے بھلے کوئی مانے نہ مانے۔ نہ کسی میڈیا باز نے پچھلے پانچ برس میں ٹرائکا کی اصطلاح استعمال کی نہ کسی نے کسی کو انتخابی مہم کے دوران غدار، سکیورٹی رسک یا ملکی مفادات فروخت کرنے والا کہا۔ نہ کسی نے کسی کا قبلہ درست کرنے کی بات چھیڑی۔ نہ کسی نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا شوشہ چھوڑا۔ اور نہ کسی نے تجویز دی کہ اس ملک کے بلغمی مزاج کو پارلیمانی سے زیادہ صدارتی نظام راس ہے۔

الیکشن سے پہلے سب سانپ کے ڈسے رسی سے ڈر رہے تھے۔ کیا الیکشن بروقت ہو پائیں گے؟ کیا عبوری حکومت جمہوریت کے خیمے میں عرب کا اونٹ بن کر تو نہیں گھس بیٹھے گی؟ کیا فوج اور امریکہ نواز شریف کو پھر سے برداشت کر لیں گے؟ کیا عمران خان فوج کا گھوڑا ہے؟ کیا خودکش حملوں کے بہانے انتخابات کو آگے تو نہیں بڑھا دیا جائے گا؟ کیا پرتشدد طالبانی مہم اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ہوتے ہوئے ووٹر گھر سے نکل بھی پائے گا؟

مسلسل ذہنی دباؤ کے شکار پاکستان پر کیسے کیسے تجربے نہیں ہوئے۔ پچاس کے عشرے کی فالج زدہ محلاتی جھرلو جمہوریت سے لے کر ایوب خانی صدارتی و بنیادی جمہوریتی بندر تماشے تک ۔ یحییٰ خان کی مارشل لائی وہسکی کی بوتل بھک سے اڑا دینے والے بنگالی قوم پرستی کے جن کی پشت میں بیلٹ میں بجھا خنجر گھونپنے تک۔

بھٹو کے سوشلسٹ لیبل زدہ قوم پرستانہ مذہبی فلرٹیشن سے آلودہ عوامی راج سے لے کر تاریخ کا پہیہ الٹا چلانے کی سفاکانہ ضیائی کوشش تک۔ نوے کے عشرے کی اسحاقی و لغاروی ڈبہ بند کٹھ پتلی مغلض جمہوری بلیک کامیڈی سے لے کر نائن الیون کے بعد سویلین گدھے اور عسکری گھوڑے کے اختلاط سے پیدا ہونے والے ٹیسٹ ٹیوب جمہوری خچر پر آدھی پی کیپ اور آدھی جناح کیپ پہن کر سوار ہونے کے مضحکہ خیز کرتب تک ایسا کیا کیا نہیں ہوا جسے اب کسی کو بھی اس پاکستان میں ایک بار پھر دہرائے جانے کی حسرت ہے۔

ان چارہ گروں اور بہی خواہوں سے اس ملک کے قبرستان بھرے پڑے ہیں جنہوں نے ہمیشہ یہاں کے عوام کو ایک جاہل، قوتِ فیصلہ سے عاری ریوڑ سمجھ کر اس کا قبلہ درست کرنے اور اسے غلط اور صحیح، سیاہ و سفید میں تمیز سکھانے کا ٹھیکہ اٹھائے رکھا۔ لیکن ان جاہلوں کو جب جب بھی موقع ملا انہوں نے یہ ٹھیکہ خود کار ناصحوں کے منہ پر دے مارا۔

نہایت خوشی کی بات ہے کہ پاکستان آئینی و غیر آئینی تجربات کی جیل میں پینسٹھ برس کاٹنے کے بعد بظاہر ضمانت پر رہا ہوگیا ہے۔ مگر اس کے بچے کب ضمانت پائیں گے؟ کوئی ایسا وکیل جو انہیں بھی جلد از جلد رہائی کا مچلکہ دلوا سکے۔

اسی بارے میں