ایک اغواکار اور یرغمالی کا عشق

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اگست 1973 میں چند ڈاکو ایک بینک میں گھسے اور عملے کے چار افراد کو یرغمال بنا لیا۔ چھ روز بعد جب یہ ڈرامہ ختم ہوا تو چاروں اغوا ہونے والوں نے ڈاکوؤں کے خلاف نہ صرف گواہی دینے سے انکار کردیا بلکہ ڈاکوؤں کے عدالتی دفاع کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کردیا اور ان میں سے ایک خاتون نے تو جیل میں بند ایک ڈاکو سے منگنی بھی کرلی۔

اغوا ہونے والوں کے اس رویے نے ماہرینِ نفسیات کو چکرا کے رکھ دیا اور پھر انہوں نے اس نفسیاتی رویے کو سٹاک ہوم سنڈروم کی اصطلاح عطا کی اور اس سوال کا جواب تلاش کرنا شروع کردیا کہ وہ کون سے حالات اور نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں جب زیادتی کا شکار زیادتی کرنے والے کا ہمنوا بن جاتا ہے؟

پتہ یہ چلا کہ سٹاک ہوم سنڈروم کے شکار لوگ جب خود کو اغواکاروں سے آزاد کرانے کی امید کھو بیٹھتے ہیں تو ان میں سے چند ایک کا جسمانی اور ذہنی اذیت سے بچانے والا نفسیاتی دفاعی نظام لاشعوری طور پر اغوا کاروں کا حامی ہونے لگتا ہے ۔ یوں زیادتی کا شکار زیادتی کرنے والے کا وکیل بن کے کھڑا ہوجاتا ہے۔

جیسے ہٹلر کے نازی کیمپوں میں سینکڑوں ہزاروں یہودیوں کو ہانکنے والوں میں وہ چند یہودی پہرے دار بھی شامل تھے جنہوں نے خود کو بچانے کے لیے نازیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور آخر میں نازیوں نے انہیں بھی گیس چیمبرز میں دھکیل دیا۔

ضروری نہیں کہ سٹاک ہام سنڈروم چند افراد پر ہی طاری ہو۔ یہ کسی گروہ پر بھی طاری ہوسکتا ہے۔

جیسے وہ ہزاروں ویتنامی جنہوں نے ویتنامی کیمونسٹ چھاپہ ماروں کے خلاف امریکی غیظ و غضب سے بچنے کے لیے امریکیوں کے کان، ناک اور آنکھ کا کام کیا اور جب امریکی ان وفاداروں کو چھوڑ کے سائگون سے بھاگ کھڑے ہوئے تو بہت سے ویتنامی بھی اپنی جنم بھومی میں رہنے کے بجائے کشتیوں میں سوار نکل کھڑے ہوئے۔ دنیا انہیں ’بوٹ پیپل‘ یا ’کشتی والے‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ امریکہ کے دل سے نکل گئے لیکن امریکہ ان کے دل سے نہیں نکلا۔ اور ان میں سے ہزاروں بوٹ پیپل گھوم پھر کے اسی امریکہ میں پہنچ گئے جو انہیں پیچھے چھوڑ کر بھاگ لیا تھا۔

حالیہ دنوں میں کسی گروہ کے سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی مثال بھارتی ریاست گجرات ہے۔ جہاں 2002 میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان مارے گئے۔ لیکن پھر اپنے بچاؤ کے لیے لاشعوری طور پر سٹاک ہوم سنڈروم حرکت میں آیا اور گذشتہ برس کے ریاستی انتخابات میں مودی کی نظریاتی زخم خوردہ مسلمان اقلیت کے 31 فیصد ووٹ اسی نریندر مودی کو ملے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کی آٹھ مسلمان اکثریتی نشتسوں میں سے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ حالانکہ بی جے پی کے 182 امیدواروں میں سے ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔

اور جب مودی نے وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری کا اعلان کیا تو یو پی کے شہر مظفر نگر میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات میں دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی مقامی قیادت کی مبینہ اعانت کے باوجود جمعیت علمائے ہند کے رہنما محمود احمد مدنی، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم غلام محمد وستاونوی اور سرکردہ شیعہ عالم مولانا کلبِ صادق کہتے ہیں کہ اگر اگلا وزیرِ اعظم نریندر مودی ہو تو اس میں حرج کیا ہے؟

اور اگر کسی ملک کی بیشتر قیادت کو سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا دیکھنا ہو تو پاکستان سے بہتر مثال کیا ہوگی۔ ساٹھ برس تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سیکولر اور نان سیکولر مجنوں امریکی لیلیٰ کے سامنے لتا منگیشکر بنے رہے۔

اٹھائے جا ان کے ستم م م۔۔۔۔۔ اور جیے جا آ آ آ۔۔۔۔یونہی مسکرائے جا آ آ آ آ۔۔۔ آنسو پیے جا

لیکن اب سٹاک ہوم سنڈروم دوسری جانب شفٹ ہو رہا ہے۔ طالبان جتنا مارتے ہیں دل کمینہ اتنا ہی ان پر مرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں عمران خان مغرب زدہ سیکولر ہے۔ مگر عمران خان اپنے تین ارکانِ اسمبلی مروانے کے بعد بھی کہتے ہیں ’اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے۔۔۔‘

وہ کہتے ہیں نواز شریف امریکہ کا زرخرید غلام ہے۔ مگر شریفین کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے ناراض بھائی ہیں ان کی بات کا کیا برا منانا۔۔۔

مولانا فضل الرحمان کے جلسوں اور گھروں پر بم حملے ہوتے ہیں لیکن مولانا کہتے ہیں کہ نہیں نہیں یہ وہ نہیں ہوسکتے۔ یہ کام تو ہنود و یہود و نصاریٰ کا ہے۔

وہ کہتے ہیں پیپلز پارٹی اغیار کی ایجنٹ ہے۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ جہاں رہو خوش رہو۔ بس ہمارا نشہ مت خراب کرو۔ ہمیں تو بے نظیر بھی یاد نہیں۔۔۔۔

وہ کہتے ہیں قاضی حسین احمد ایک وطن پرست سیکولر شخص تھا۔ مگر منور حسن کہتے ہیں کہ آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔ بس یہی نا کہ جو کام ہم آئین و سیاست کی حدود میں کر رہے ہیں اس کے لیے آپ نے بندوق اٹھا لی ہے۔ راستہ الگ سہی منزل تو ایک ہی ہے۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

(ایسے حالات میں ماسوائے غالب اور کون کام آوے ہے؟)

اسی بارے میں