پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز

آصف زرداری

پھر کھلا ہے درِعدالتِ ناز

گرم بازارِ فوجداری ہے

یہ تصویر دیکھ کر اگر آپ کو بھی کوئی شعر یا مصرع یاد آیا ہو تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم اسے ان صفحات پر شائع کر دیں گے۔اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو اپنے شعر کے ساتھ اپنا ٹوئٹر ہینڈل ضرور بھیجیے۔

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

عائشہ سلطان، راولپنڈی، محمد سہیل، پاکستان

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

عابد ندیم، برمنگھم

حشر میں اے خدا نہ لے مجھ سے حسابِ خیر و شر

میں نے تو سب بھلا دیا رات کا خواب جان کر

محمد اعجاز، اسلام آباد

ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے

اعجاز نقوی، گجرانوالہ

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

رمضان بٹ، راولپنڈی

دنیا ترے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں

معز خان، اسلام آباد

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

حسن رضوی، دبئی

باطل سے ڈرنے والے، اے آسماں نہیں ہم

سو بار لے چکا ہے تو امتحاں ہمارا

راشد، میلبرن

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

حافظ رحمان، اسلام آباد

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

زوہیب خان، ملتان

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

سید حامد شاہ، جرمنی