ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

یہ تصویر دیکھ کر اگر آپ کو بھی کوئی شعر یا مصرع یاد آیا ہو تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم اسے ان صفحات پر شائع کر دیں گے۔ اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو اپنے شعر کے ساتھ اپنا ٹوئٹر ہینڈل ضرور بھیجیے۔

(ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جانب سے موصول ہونے والے اشعار زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع ہو جائیں تاہم بڑی تعداد میں ای میلز موصول ہونے کی وجہ سے شاید ہم تمام اشعار شائع نہ کر سکیں)

تم نے لُوٹا ہے صديوں ہمارا سکوں

اب نہ ہم پہ چلے گا تمھارا فسوں

تم نہيں چارہ گر کوئی مانے مگر

ميں نہيں مانتا ميں نہيں جانتا

شکیل بشیر ایڈوکیٹ، حضرو

شہر میں ہیں اس کے دشمن بہت

لگتا ہے آدمی کوئی اچھا ہے

عمر ہاشمی، اسلام آباد

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گناہ گار ہوں، کافر نہیں ہوں میں

ایم چودہری، واشنگٹن

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی

علی عمار یاسر، ملتان

اے مرغِ دل مت رو یہاں آنسو بہانا ہے منع

اس قفس کے قیدیوں کو آب و دانہ ہے منع

حذیفہ مسعود, لیہ

احتياط اہل محبت کہ اسی شہر ميں لوگ

گل بدست آتے ہيں اور پا بہ رساں جاتے ہيں

مدثر محمود سالار, ميانوالی

ديکھو مجھے جو ديدہ عبرت نگاہ ہو

ميری سنو جو گوش نصيحت نيوش ہو

مقبول بلوچ

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

منصور بگٹی, ڈیرہ بگٹی

وہ تیرگی ہے رہِ بتاں میں چراغِ رخ ہے نہ شمعِ وعدہ

کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ بام و در سب بجھے بجھے ہیں

عثمان حیدر, لیہ

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

سید علاالدین شاہ، چترال

ہاتھ ہی تيغ آزما کا کام سے جاتا رہا

دل پہ اِک لگنے نہ پايا زخمِ کاری ہائے ہائے

علی, کوئٹہ

جب اہل حکم کے سر اوپر

بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے

ساقی حسن, ملتان

عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

محمد شاہ عالم، ضیا الحق، ملیشیا

ہم نہ سمجھے تھے بات اتنی سی

خواب شیشے کے دنیا پتھر کی

نوید، کراچی

ہائے کیا لوگ میرا ساتھ نبھانے نکلے

نصیراللہ، امریکہ

جس طرف بھی جاتا ہوں کہتے ہیں کہ وہ آیا

ہے چار قدم آگے مجھ سے میری رسوائی

عثمان حیدر, لیہ

کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو دیں گے ہم

لہو کا تیل چراغوں میں جلانے کے لیۓ

حسن نقوی, پاکستان

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

جو بولنے لگے تو ہمیں پہ برس پڑے

عابد حسین، میلبرن

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

راشد محمود، ٹوبہ ٹیک سنگھ

اے تیز ھوا کوئی خبر اس کے جنوں کی؟

تنھا سفر شوق پے نکلا تھا جو "اک شخص"

عبدالستار، تھاری

جیسی کرنی، ویسی بھرنی

سہیل زیب، دبئی

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

احمد، اٹلانٹا

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

شہزاد افضل، ابو ظہبی

سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسن

کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے؟

مظفر حسین, کراچی، پاکستان

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

محمد اقبال، چیچہ وطنی

پلٹ کر آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

گئے لمحوں کا غم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

مرید حیسن شاہ، پاکستان

یہ بات ابھی مجھ کو بھی معلوم نہیں ھے

پتھر ادھر آتے ھیں اُدھر کیوں نہیں جاتے

نہیں پتھر نہیں مجھ پر دہکتی آگ برساؤ

میرا یہ جرم ھے میں روشنی کا ساتھ دیتا ھوں

احمد رضوان, ریاض

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

قدیر، حیدر آباد

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

شعیب، برمنگھم

گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہی گردن ھماری کٹی

پھر پھی کہتے ھين مجھ سے يہ اھل چمن يہ چمن ھے ھمارا تمھارا نھيں

ذکااللہ، صوابی

آج پھر پوچھنے نکلا ہوں میں اپنوں کا پتہ

آج کا دن بھی گذر جائے گا روتے روتے

غالب ایاز، دہلی

قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں

شیعب خان، دبئی

گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں

کالیا بھائی، کراچی

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

ڈاکٹر محمد ہمایوں نجم، پشاور

چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

تنظیم عباس، لاہور

ایسے ویسے کیسے کیسے ہوگئے

کیسے کیسے ایسے ویسے ہوگئے

رضوان رضا، بہاولپور

تیرے ہوتے ہوۓ بھی اے خالق

مجھ پے ہر شخص نے خدائی کی

طارق قیصرانی، تونسہ شریف

عزيز تھا میں سبھی کو ضرورتوں کے لیے

فہد مری , ہلسنکی فن لينڈ

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

معین الدین، مری

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

خالد عمران لنگاہ، جرمنی

میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن

آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آ گئے

کاشف، لاہور

ہائے اس زود پشیماں کا پشیمان ہونا

زاہد ندیم فاروقی, لاہور

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ضیا، لاہور

ہارے ہوئے تھے پھر بھی جیے جا رہے تھے ہم

اک جیت کے خمار میں مارے گئے ہیں ہم

اقبال حسين دستی, ڈيرہ غازي خان

خود بخود زنجیرکی جانب کھنچاجاتاہےدل

تھی اسی فولاد سے شاید میری شمشیربھی

اعجاز احمد، فرانس

بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی

سعید ادریس، چین

سوچتاہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا

لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

ایاز خان, کوپن ہیگن

کج شہر دے لوک وی ظالم سن

کج سانوں مرن دا شوق وی سی

فيصل تقی, کراچي