حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

یہ تصویر دیکھ کر اگر آپ کو بھی کوئی شعر یا مصرع یاد آیا ہو تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم اسے ان صفحات پر شائع کر دیں گے۔ اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو اپنے شعر کے ساتھ اپنا ٹوئٹر ہینڈل ضرور بھیجیے۔

(ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جانب سے موصول ہونے والے اشعار زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع ہو جائیں تاہم بڑی تعداد میں ای میلز موصول ہونے کی وجہ سے شاید ہم تمام اشعار شائع نہ کر سکیں)

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھےکہ ہوگا کوئی زخم

تيرے دل ميں تو بہت کام رفو کا نکلا

مبشر اقبال, سويڈن

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

عروج جعفری، اسلام آباد

جن پہ تکيہ تھا وہی پتے ہوا دينے لگے

يا سر محمود, ہالينڈ

چراغ سب کے جلیں گے ہوا کسی کی نہیں

تسنیم عباس، لاہور

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

رضا بنگش، اردن

مجھے تاکيدِ شکيبائی کا بيھجا ہے پيام

آپ شايد مری شوريدہ سری بھول گئے

شاہد عباس ٹيپو, تونسہ شريف

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

عظمت، لاہور

دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح

میری تشہیر نہ کر بس تو جلا دے مجھکو

رضوان احمد، لاہور

احساس مر نہ جائے تو انسان کے لیے

کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ھوئی

عبدالوحید مغل, دمام

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

صمصام علی، کینیڈا

ﺁﮒ ﺳﮯ سیکھ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﺮﯾﻨﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ

بچ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻠﮕﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ

حامد عثمان، مطفرآباد، کشمیر

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیو ں لٹا

سید فیضان الحق، لکھنؤ، انڈیا

میں صدقے قرباں

میرا سونا پاکستاں

محمد طہیر اظہر جنجوا، سعودی عرب

ہے چمن میں وہی آشیاں آج بھی

لگ رہا ہے مگر اجنبی اجنبی

خالد سیف اللہ، ریاض

دیکھا جوتیرکھا کے کمین گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

فراز احمد بری، بہاولپور

مُشتاق اس ادا کے بہت دردمند تھے

اے داغ تم تو بیٹھ گئے ایک آہ میں

عدنان تابش، ریاض

کوئی سادہ ہی اس کو سادہ کہے

ہميں تو لگے ہے وہ عيار سا

ضیا، لاہور

ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺭﺣﻢ

ﻭہاﮞ ﺗﻠﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﺣﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﻣﺠﮭﮯ

مالک اشتر، دہلی

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسے کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ اک مشت غبار ہوں

قدیر احمد، کراچی

یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے

کہاں لے جاوں بتا اے دلِ تنہا تجھ کو

عابد ندیم، برمنگھم

سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے

کنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

ڈاکٹر علی حسین، سرگودھا

لے گیا چھین کے کون ترا صبر و قرار

بیقراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

عمر خالد خراسانی، مہمند ایجنسی

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا!

مشتاق، اسلام آباد

يہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہيں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا

طاھر علی, ابو ظہبی، متحدہ عرب امارات

تندی باد مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے انچا اڑانے کے لیے

ظہیر عباس , اسلام آباد

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

عدنان, بہاولنگر، پاکستان

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

منصور بگٹی, ڈیرہ بگٹی

اے ’مردِ مجاہد بھاگ ذرا‘، اب وقتِ ’شہادت‘ ہے آیا

فاخر عظمت، اسلام آباد

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

احمد رضوان، ریاض، سعودی عرب

دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے

ذیشان حسین، چکوال

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

زوہیب ممتاز گوندل، منڈی بہاوالدین

تمھاری اک نظر پر فیصلہ ہے زندگانی کا

مسیحا ہو کے بیماروں سے غفلت یوں نہیں کرتے

درد ہو دل میں تو دوا کیجیے

دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجیے

ڈاکٹر سدرہ طارق، سرگودھا

اپنے تیور تو سنبھالو کوئی یہ نہ کہہ دے

دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں

ڈاکٹر سدرہ طارق، سرگودھا

کچھ منافق بھی مرے حلقۂ احباب میں تھے

میں نے بھی ان سے محبت کی اداکاری کی

رحمن، اسلام آباد

ٹک ساتھ ہی حسرت دلِ مرحوم سے نکلے

عاشق کا جنازہ ہے' ذرا دھوم سے نکلے

عبدالقیوم, تونسہ شریف

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمیں بھی مل نہ سکی کوئے یار میں

یحیٰ مختار، اوکاڑہ

یار بھی راہ کی دیوار سمجتے ہیں مجھے

میں سمجتا تھا میرے یار سمجتے ہیں مجھے

محمد ممتاز، کمالیہ

غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا

وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں گے

اسحاق خان، لندن

اب تو جاتے ہیں بتکدے سے میر

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

عبدالقیوم، تونسہ شریف

ھر جابرِ وقت سمجھتا ہے، محکم ہے میری تدبیر بہت

پھر وقت اسے بتلاتا ہے تھی کند تری شمشیر بہت

تقویم الحق, دیر اپر

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی بے رخی مسلسل

مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کے

شاہ حسن خان, سوات پا کستان

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

احمد شاہ، پشاور