نواز چیمبرلین یا چرچل؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم کی تقریر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کئی ہفتوں کی غیر حاضری کے بعد بدھ کو پارلیمان میں ایک بار پھر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے اس کمیٹی میں وزیراعظم کے قومی امور پر معاون خصوصی عرفان صدیقی، انٹیلی جنس بیورو کے سابق افسر میجر محمد عامر، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا جس کی معاونت وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان کریں گے۔

جیسے ہی وزیراعظم پارلیمان میں آئے تو اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر اور سوشل میڈیا بھی جاگ اٹھا جو اس سے قبل ان کی پارلیمان سے غیر حاضری پر تبصروں کا مرکز بنا ہوا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حسبِ معمول اپنا ردِ عمل ٹوئٹر پر دیا اور اپنے انداز میں دیا۔ انھوں نے ٹویٹ کی: ’نواز شریف کی مدد کریں۔ میں چاہتا ہوں وہ ہمارے چرچل بنیں، مگر بدقسمتی سے وہ (طالبان) کو خوش کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہمارے چیمبرلین بن رہے ہیں۔‘

چیمبرلین پر جرمنوں کو خوش کرنے کی پالیسی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ چرچل اور چیمبرلین دو برطانوی وزرائے اعظم ہیں جن میں سے چرچل اپنے جنگِ عظیم دوم میں اپنے مدبرانہ کردار کی وجہ سے اہم برطانوی وزیراعظم مانے جاتے ہیں۔

صحافی اور کالم نگار سید طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’حکمتِ عملی یہ ہے کہ آپریشن خاموشی سے کیا جائے جبکہ نئی کمیٹی کے اردگرد شور شرابہ کیا جائے۔‘

بی بی سی اردو کے فیس بک صفحے پر حلیم احمد نے لکھا کہ ’کنفیوز وزیراعظم سے یہی امید تھی کیونکہ ایک ذمہ دار وزیراعظم ہونے کے ناطے آپ ہزاروں لوگوں کی قاتل تنظیم ٹی ٹی پی پہ اتنا مہربان کیوں ہیں جبکہ قوم یہ نہیں چاہتی؟‘

صحافی مہرین زہرہ ملک نے ٹویٹ کی کہ ’ایک رپورٹر، ایک کالمنسٹ، ایک ریٹائرڈ فوجی میجر اور ایک سابق سفارت کار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے جائیں گے۔‘

مصنف رضا رومی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’واضح ذہن والے تجزیے کے بعد نواز شریف واپس اسی جگہ آ گئے ہیں جہاں سے چلے تھے ایک چار رکنی کمیٹی جو ’ہمارے لوگوں‘ سے ہمدردی رکھتی ہے۔‘

اسی بارے میں