کون سی بندی چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’وزیر اعظم صاحب تو قدرے ٹھنڈے مزاج کے بندے ہیں‘

آج مجھے بات کرنی ہے ایک ’بندی‘ کی۔ بات اگر آج کرنی ہے تو دل کھول کر صاف صاف بات ہو جانی چاہیے۔ مجھے اس کی پچھلے بارہ تیرہ برسوں سے اشد ضرورت رہی ہے۔ مجھے اگر چاہیے تو یہی بندی چاہیے اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔ چند دنوں کے لیے تو ہر گز نہیں۔

سچ بتاؤں تو یہ بندی ہے بڑی دلکش، سیکسی اور چنچل۔ لیکن اتنی چالاک اور فنکار ہے یہ کہ کم از کم پاکستان کے اندر کسی کے ہاتھ نہیں آتی۔

اس کا زیادہ تعلق قبائلی علاقوں سے ہے لیکن ضرورت سارے پاکستان بلکہ دنیا کی بھی ہے۔ دس بارہ مرتبہ اسے مقامی سطح پر قبائلی علاقوں کے سنگلاخ پہاڑوں میں بھی دیکھا گیا لیکن یہ مختلف وجوہات کو بہانہ بنا کر بہت جلد راہِ فرار اختیار کر لیتی ہے۔

کسی چالاک دلربا کی طرح زیادہ عرصے تک اس کی قربت ممکن نہیں۔ دو ’چھڑوں‘ میں جھگڑے کی بڑی وجہ یہی ثابت ہوتی ہے۔ روز روز کی لڑائی سے تنگ فریق اسے بظاہر رکھنا چاہتے لیکن ہمارے ہاں یہ ہمیشہ کوئی نخرہ کرکے یا بہانہ بنا کر بھاگ جاتی ہے۔ اور اگر ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو دوبارہ قتل و غارت کا سبب بنتی ہے۔

صحافی ہوں تو اندر کی بات بتانے سے کیسے رہ سکتا ہوں۔ آخر یہ بھی تو بتانا ہے کہ ہماری رسائی کہاں تک ہے۔ انتہائی باوثوق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف جیسی سادہ طبیعت کے مالک انسان بھی اس بندی کے پیچھے گذشتہ نو ماہ سے پاگلوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔

کسی کو بتائیے گا نہیں لیکن اس بابت انہوں نے اپنے انتہائی قریبی ساتھی اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو ذمہ داری دی ہے اُسے ان کے پاس لانے کی۔

چوہدری نثار نے ان کے قریبی ذرائع کے مطابق بتایا ہے کہ اس چیلنج کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیا ہے اور شبانہ روز اسے تلاش کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔

بندیوں کا معاملہ ہے جس میں چوہدری صاحب ہیں ذرا شرمیلے۔ تو انہوں نے اسے باضابطہ طور پر لانے کے لیے بڑے بوڑھوں سے مدد مانگی اور مشورہ کیا۔ یہاں سے قصہ چہار درویش کا آغاز ہوا۔

اس دوران معاملہ سنگین سے سنگین تر صورت اختیار کرتا گیا۔ وزیر اعظم صاحب تو قدرے ’ٹھنڈے‘ مزاج کے بندے ہیں۔ معاملہ چوہدری نثار کے حوالے کرنے کے بعد کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لی لیکن چوہدری صاحب نے اسے کافی سنجیدگی سے لے لیا۔

ان چار درویشوں نے بھی اپنی سی کوشش پوری کی۔ کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن بندی ہاتھ نہ آنے والی تھی اس لیے اُن کے ہاتھ بھی نہ آئی۔ تھک ہار کر انہوں نے چوہدری صاحب کے سامنے ایک دن ہتھیار ڈال دیے۔

جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو نواز شریف نے بالآخر عوامی مطالبے اور دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئی انگلی ٹیڑھی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ماضی کے برعکس انہوں نے ایک دم تمام انگلیاں یکدم ٹیڑھی نہیں کیں بلکہ ایک ایک کر انگلی ٹیڑھی کرنا شروع کی۔ ساتھ میں مُکوں سے بھی ڈراتے رہے۔ پیار کا ’دائمی دشمن‘ امریکہ بھی مکّہ چلانے کی خبریں دینے لگا۔

لیکن چوہدری نثار صاحب دھن کے پکے ہیں، اپنی لگن میں مگن رہے۔ لگتا ہے شاید یہی ترکیب بندی کو رام کرنے میں کام آئی اور طالبان نے پرزور عوامی اصرار پر ’جنگ بندی‘ کا اعلان کر دیا۔ اس طرح یہ بندی عارضی بنیادوں پر ایک ماہ کے لیے سب کو مل گئی ہے۔ ہر کسی نے اس کا خیرمقدم کیا اور ایک ماہ کے لیے سکھ کا سانس بھر لیا ہے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستانی چھڑی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر ضرورت نہ تو عالمی سطح پر کسی ’درجہ بندی‘ کی ہے، نہ لمبی چوڑی ’منصوبہ بندی‘ کی یا دشمنوں سے بچاؤ کے لیے ’نظر بندی‘ یا ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کے لیے ’نس بندی‘ کی۔

اگر کسی بندی کی شدید طلب تھی تو وہ صرف اور ’صرف جنگ بندی‘ تھی۔

یہ بندی پاکستان میں اندرونی جنگ میں مشغول لوگوں کو مستقل نہ سہی لیکن عارضی سکون کا سبب بنے گی۔ اس امن کی توقع 18 کروڑ معصوم عوام حکمرانوں سے کرتی تھی لیکن اسے دینے کا اعلان کیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے۔

اب اس بندی سے بات آگے بڑھانی ہے۔ دیکھیے بات عارضی رہتی ہے یا مستقل نکاح کی بھی کوئی صورت ممکن ہے۔

اسی بارے میں