کرکٹ خود بورڈ کے شکنجے میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کو انکوائری پوری سامنے آنے تک ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا

بھارت میں کرکٹ سب سے مقبول کھیل ہے اور یہ وہ واحد کھیل ہے جو امیر وغریب سبھی طبقوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ کرکٹ کے کھیل کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچانے کا سہرا یقینی طور پر بھارت کے کرکٹ بورڈ کو جاتا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ ملک کا واحد ایک ایسا ادارہ بن گیا ہے جس نے انتہائی کامیابی کے ساتھ کرکٹ کے کھیل کو منظم کیا، اسے رفتہ رفتہ پورے ملک میں مقبول بنانے میں مدد کی اور مالی اعتبار سے اس کھیل کو سب سے زیادہ منافع بخش کھیل میں تبدیل کر دیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ بھارتی کرکٹ بورڈ دنیا کا ا میر ترین کرکٹ بورڈ بن گیا اور کروڑوں اربوں روپے داؤ پر لگے ہونے کے سبب کھلاڑی اس کے تابع ہو کر رہ گئے۔ بورڈ کی رکنیت حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ کرکٹ بورڈ میں شامل ہونے کے لیے ملک کے بڑے بڑے صنعت کار اور سیاست دان کوششیں کرنے لگے۔ کرکٹ رفتہ رفتہ کھیل سے زیادہ ایک صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔ اس بہترین کھیل میں دولت کی بے پناہ فراوانی سے بد عنوانی کا آغاز ہوا جو بڑھتی گئی۔

بھارت میں آئی پی ایل یعنی انڈین پریمیئر ليگ کے آغاز کے بعد کرکٹ میں میچ فکسنگ ، جوئے بازی اور سٹے بازی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بھارٹی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی اور درجنوں سٹے باز سٹے بازی کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ کئی دوسرے کھلاڑیوں کے نام آئے لیکن بورڈ نے اس سنگین معاملے کی تہہ میں جانے کے بجائے ایک سطحی انکوائری کر کے اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

سٹے بازی کے الزام میں بورڈ کے صدر کے داماد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ صدر خود آئی پی ایل کی ایک ٹیم کے ما لک ہیں اور ان کے داماد اس ٹیم کے عملی طور پر انچارج تھے۔ ایک اور ٹیم کے مالک کو میچ کے نتائج پر جوئے بازی کرنے کا قصور وار پایا گیا۔ کرکٹ بورڈ اور اس کے صدر کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ ہر طرف سے ان کے استعفے کا مطالبہ ہونے لگا مگر بورڈ کے صدر این سری نواسن نے استعفی نہیں دیا۔

آئی پی ایل کے آئندہ سیزن کا اعلان ہو چکا ہے۔ سارے میچوں کی تاریخیں طے ہو چکی ہیں۔ آئی پی ایل سے متعلق کرکٹ بورڈ میں بد عنوانی کا ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے۔ خطرہ اس بات کا تھا کہ عدالت عظمیٰ کہیں آئی پی ایل کی کئی ٹیموں پر پابندی نہ لگا دے۔ معاملہ کھیل سے کہیں زیادہ دولت کا تھا۔ آئی پی ایل کے ایک سیزن سے تقریباً بیس ہزار کروڑ روپے یعنی ساڑھے تین بلین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے فی الحال بورڈ کے صدر این سری نواسن کو انکوائری پوری ہونے تک ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ اب سنیل گواسکر لائے گئے ہیں جن کے خود کئی براڈ کاسٹنگ کمپنیوں اور دوسرے اداروں سے معاہدے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس قدم سے بورڈ میں کیا شفافیت آئے گي۔

سری نواسن سے پہلے سابق صدر جگموہن ڈالمیا کو بدعنوانی کے الزام میں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ آئی پی ایل کا آغاز کرنے والے عہدیدار لیلت مودی پر بھی غبن اور برعنوانی کے مقدمات ہیں۔ وہ ملک سے فرار ہیں اور اب سری نواسن کی بھی تفتیش ہونے والی ہے۔

بدعنوانی کے اس مایا جال میں کرکٹ کا عظیم کھیل بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے۔ بھارتی کرکٹ کھلاڑی بورڈ کی روزانہ کی چپپقلشوں اور ذلتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

کرکٹ شائقین بھی مایوس ہیں اور ایک عرصے سے یہ جاننا جاہتے ہیں کہ کرکٹ اور اس کے کھلاڑیوں کو سٹے بازوں اور بدعنوان عہدے داروں کے شکنجے سے کب نجات ملے گی؟

اسی بارے میں