’تُم روتے ہی رہنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مریم نواز کی ٹویٹ جس کا مخاطب واضح نہیں ہے

پاکستانی وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی سیاسی بحران کے حوالے سے تقریر اور اس پر تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے ردِ عمل پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل فوری تھا۔

نواز شریف کی تقریر کے دوران ہی مختلف جانب سے یہ باتیں شروع کر دی گئیں کہ اس پر عمران خان کا ردِ عمل ایسا ہونا چاہیے یا ویسا ہونا چاہیے۔

معروف اینکر طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’نواز شریف تحقیقات کا دروازہ کھولتے ہیں، اگر عمران خان اسے رد کرتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیں گے۔ مگر کیا سپریم کورٹ اس معاملے میں شامل ہو گی؟ بکھیڑا ہے۔‘

اینتھونی پرمل نے ٹویٹ کی کہ ’عمران خان کو طاہر القادری کو اکیلے جانے دینا چاہیے۔ اپنے انجام کو اُس کے انجام کے ساتھ مت جوڑیں۔‘

ڈان کے میگزین ایڈیٹر ضرار کھوڑو نے ٹویٹ کی کہ ’یہ بہت عقلمندی کا فیصلہ ہو گا کہ عمران خان کنارے سے پیچھے ہٹ آئیں اور طاہر القادری کو اکیلا جانے دیں اور یقینی بنائیں کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات ہوں اور اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔‘

وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے عمران خان کے بیان کے فوری بعد ٹویٹ کی: ’تُم روتے ہی رہنا۔‘

اس ٹویٹ میں انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کا مخاطب کون ہے مگر اس کے ردِ عمل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔

اُن کی اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر پر ایک طوفان اٹھا جس میں اُن پر تنقید اور اُن کی تعریف کرنے والوں نے اسے خوب شیئر کیا۔

اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا بالعموم اور ٹوئٹر بالخصوص پر آزادی مارچ اور اس کے حامیوں کےد رمیان بحث مباحثہ اور ہیش ٹیگز کی جنگ چل رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے حامیوں کی جانب سے ہیش ٹیگ PakistanNeedsNS چل رہا ہے جو گذشتہ 24 گھنٹوں سے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔

اس ٹرینڈ کا استعمال کر کے پی ٹی آئی کے حامی مسلم لیگ ن پر تنقید بھی کر رہے ہیں مگر اکثریتی ٹویٹس حامیوں کی ہیں جن کا مقصد حکومت کی حمایت اور وزیراعظم سے اظہارِ یکجہتی ہے۔

اس کے بعد اگر دیکھا جائے تو جاوید ہاشمی کا لفظ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کا تعلق ان خبروں سے ہے کہ مبینہ طور مخدوم جاوید ہاشمی آزادی مارچ سے ناراض ہو کر ملتان چلے گئے ہیں۔

اسی طرح آزادی مارچ، پاکستان مسلم لیگ ن، سپریم کورٹ کے الفاظ بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں جن کا محور وزیراعظم پاکستان کی گذشتہ رات تقریر اور اس پر عمران خان کا ردِ عمل ہے۔

اسی بارے میں