’چن کتھاں گزاری ای رات وے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption عمران خان مارچ کے دوران اپنے کنٹینر میں کچھ دیر آرام کرتے ہوئے

پاکستانی سوشل میڈیا پر انقلاب اور آزادی مارچ کے لیے ایک جنگ لڑی جا رہی ہے۔

گذشتہ رات عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد پہنچنے کی گہما گہمی ٹوئٹر پر نظر آئی مگر اسلام آباد پہنچ کر عمران خان کا مبینہ طور پر غائب ہونا اور بنی گالا چلے جانے کا ٹوئٹر نے شدید نوٹس لیا۔

یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب کٹر انصافین بھی اپنے قائد اور ان کے اس اقدام کی حمایت یا دفاع کرنے کے قابل نظر نہیں آرہے تھے۔

اس پر مزید تیل چھڑکنے کے لیے سرکردہ سیاستدان، اینکر، صحافی بھی میدان میں اترے جس کا اندازہ آپ کو اُن کی ٹویٹس سے ہو جائے گا۔

وزیر دفاع اور مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف جو ٹوئٹر پر کبھی کبھی کبھار نظر آتے ہیں نے ٹویٹ کی کہ ’ وہ لوگ کہاں گئے جنہوں نے عوام کے ساتھ سڑک پر سونے کا عہد کیا تھا؟؟؟‘

یہ ابھی کافی نہیں تھا کہ اینکر شاہ ذیب خانزادہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’ایک گھنٹے کے زبردست شو کے بعد خبر ہے کہ عمران خان اپنے بیچارے کارکنوں کو بارش میں چھوڑ کر بنی گالا سونے چلے گئے۔ رہنمائی کے ایک سنہری موقعے کا کس قدر ضیاع ہے یہ۔‘

مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کی کہ ’استعفے منزل ہیں تو اگر وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو عمران خان کو خود مارچ کا ناکامی پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ امپائر انگلی اٹھائیں تاکہ عمران خان بنی گالا جا سکیں۔‘

اور ہمارے ٹوئٹر حضرات کہاں اپنی حسِ مزاح کےاستعمال کا ایسا سنہری موقع ہاتھ سے جانے دیتے انہوں نے ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا جو لمبے عرصے تک شاید انصافینز کا پیچھا نہ چھوڑے۔

جمیل قاضی نے ٹویٹ کی کہ ’اسلام آباد ٹیسٹ میں بارش ،بخار اور لیڈروں کی تهکاوٹ کی وجہ سے کھیل روک دیا گیا ہے۔ امپائروں کا 3 بجے کھیل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ‘

محسن حجازی نے ٹویٹ کی کہ ’جدہ بھاگ گیا، جدہ بھاگ گیا کے بعد اب پیش خدمت ہے نئی مزاحیہ فلم بنی گالا بھاگ گیا۔ رنگین سینما سکوپ ٹیکنی کلر۔

جمیل قاضی کی یہ ٹویٹ تو بہت ہی مقبول رہی ’آج تین بجے کے جلسے کی ابتداء اس گانے سے ہو گی ’چن کتھاں گزاری ائی رات وے‘۔

اسد نے مزاح سے ہٹ کر ٹویٹ کی کہ ’انقلاب آج کے لیے ختم، کارکنوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکومت گرانے کے ہمت کے دعوے مگر اسے چلانے کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں۔ ہمیشہ کے لیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اسی دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ٹویٹ کی کہ ’وزیراعظم نواز شریف بے یارو مددگار چھوڑے جانے والح آزادی مارچ کے پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے پانی اور کھانا بھجوا رہے ہیں۔ ان کے لیے ضروری انتظامات بھی کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب ان مارچ کرنے والوں کے مقاصد کے حوالے سے ٹوئٹر پر صارفین نے میڈیا اور مارچ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ’ایسا ہی ہونا چاہیے اور یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پچیس سیٹوں والا سٹریٹ پاور شو کرسکتا ہے تو ایک سو پچیس والا بھی کرسکتا ہے‘

زالان نے میڈیا کی جانب سے مارچ کرنے والوں کی تعداد کو بے معنی قرار دینے پر ٹویٹ کی کہ ’میڈیا کے جوکر کہہ رہے ہیں کہ تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ، کل میں بھی دس لوگوں کو لے کر دھرنا دونگا تم کوریج کرو گے؟‘

صحافی طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’یہ آدمی سفید جھوٹ بولتا ہے اور میڈیا اسے چلاتا ہے؟ کیوں؟ ایک مداری جو کہ انقلابی کے بہروپ میں ہے اور اسے ہر جگہ دکھایا جا رہا ہے؟ کیوں؟‘

اسی بارے میں