عمران خان کی ’سیاسی خودکشی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTIOfficial
Image caption عمران خان نے ’اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر‘ میں سول نافرمانی کا اعلان کیا

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کی ’اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر‘ جس میں انھوں نے سول نافرمانی کا اعلان کیا اس پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل شدید تھا اور ان کے خلاف اٹھنے والی آوازیں فوری اور شدید تھیں۔

جب ہم نے بی بی سی اردو کے قارئین سے پوچھا تو ان کا ردِ عمل اکثریتی شدید تھا۔

محمد ظفر حبیب نے جواب دیا: ’عمران خان پاگل ہو گئے ہیں،‘ جبکہ فیض امین سبحانی نے ٹویٹ کی کہ ’پاگل پن‘ ہے اور علی خورشیدی نے ٹویٹ کی کہ ’اللہ پاکستان تحریک انصاف کو غریقِ رحمت کرے،‘ جبکہ عزیزالدین نے ٹویٹ کی کہ ’سیاسی خودکشی۔‘

عینا سیدہ نے ٹویٹ کی کہ رد عمل تو ’عمل‘ کے بعد ہوگا! لطیفوں کا رد عمل تو صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ہا ہا ہا ہا۔‘

سلمان نے ٹویٹ کی کہ ہم پہلے کون سا ٹیکس دیتے تھے جبکہ شاہد رفیق نے ٹویٹ کی کہ ’نہیں ہمیں یقیناً قانون کی پیروی کرنی چاہیے اور قانون پسند شہری ہونا چاہیے۔ محمد علی جناح نے آئین کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کی۔‘

معروف اینکر اور تـجزیہ کا سید طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’ناقابلِ یقین۔ مجھے یقین نہیں آ رہا میں جو سن رہا ہوں عمران سے۔ سول نافرمانی؟ یہ کیا سوچ رہا ہے؟‘

طلعت حسین نے مزید لکھا کہ ’ایک عقیدے کے رہنما کی طرح حرکتیں کرنے والا شخص، جسے اب پاکیزگی، انصاف، مساویانہ حقوق، سچائی کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو ریڈ زون کے ذریعے پارلیمان پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔‘

صلاح الدین نے ٹویٹ کی کہ ’پولیٹکل اکانومی اور سٹیٹ سٹرکچر سے نابلد شخص کی ہوائی باتیں‘ ہیں۔

ضیغم مرزا نے ٹویٹ کی کہ ’سول نافرمانی کی تحریک سے سرکاری خزانہ خالی ہو جائے گا اور حکومت کو پھر سے امریکہ سے بھیک مانگنی پڑے گی۔ قرضے، قرضے، قرضے۔‘

عبیداللہ نے ٹویٹ کی کہ ’عمران خان نے آج اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ بشمول ان کے، ان کی جماعت میں سیاسی بصیرت کا فقدان ہے۔‘

اس کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں نے بھی ردِ عمل دیا۔ مخیر عزیز نے ٹویٹ کی کہ ’وہ بالکل درست ہے‘ جبکہ واجد علی نے ٹویٹ کی کہ ’سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ہم سب نواز شریف کو گھر بھیجنا چاہتے تھے اور کچھ نہیں۔‘

فیاض معظم نے لکھا کہ ’یہ بالکل اچھا خیال نہیں ہے،‘ جبکہ ابصار شیرازی نے ٹویٹ کی کہ ’ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ صوبے کی حکومت سے دستبرداری کے بغیر نظام سے بغاوت کا کیا مطلب؟‘

رضوان سلیم نے ٹویٹ کی کہ ’سول نافرمانی لانگ مارچ سے پہلے ہوتی ہے الٹی گنگا کا بہنا نا ممکن ہے، صرف لانگ مارچ سے با عزت واپسی کا اقدام ہے۔‘

افشاں مصعب نے اپنی ٹویٹ میں بہت سوں کے جذبات کی عکاسی کی: ’اختلافات اپنی جگہ۔ مگر ایک لیڈر کو اس حالت میں دیکھ کر آج دل بوجھل ہے۔ عمران نے لاکھوں لوگوں کے یقین کو دفنا دیا۔‘

اسی بارے میں