سوچ کو وسعت دینا ہی ڈاکٹر شکیل کا ’جرم‘ تھا

Image caption ’ڈاکٹر شکیل اوج اپنی رائے کو کبھی حرف آخر کی طرح پیش نہیں کرتے تھے‘

ڈاکٹر محمد شکیل اوج مجھے پہلی بار ایک ٹی وی چینل پر نظر آئے تو ان کی باتیں خوش کن تھیں۔

اس معاشرے میں برداشت اور رواداری کی باتیں ویسے ہی کم ہوئی جاتی ہیں، ایسے میں ان گفتگو بھلی لگی۔

جمعرات کو فائرنگ کے ایک واقعے میں جب جامعہ کراچی کے شعبۂ اسلامی تعلیمات کے اس سربراہ کی ہلاکت کی خبر ملی تو یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ ان کا ’جرم‘ کیا تھا۔

روشن فکری کی سزا، موت

نجی ٹی وی چینل کے میزبان انیق احمد کے مطابق ڈاکٹر اوج ایک سلجھی ہوئی اور شگفتہ مزاج شخصیت کے حامل تھے۔ ان کا حلقۂ اثر، حلقہ احباب بہت بڑا تھا اور تخلیقی سوچ رکھنے والے ڈاکٹر شکیل ہمیشہ ایک کرید، ایک علمی جستجو میں رہتے تھے۔

اسی جستجو کا نتیجہ ان کے لاتعداد مقالے، مضامین اور تحریریں ہیں جو اخبارات و رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔ڈاکٹر اوج لگ بھگ 15 کتابوں کے مصنف بھی تھے۔

وہ علومِ تفسیر قرآن میں تحقیق و تصنیف کے حوالے سے معروف تھے اور قرآن کے آٹھ اردو تراجم کے تقابل پر سنہ 2000 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

کالم نگار خورشید ندیم ڈاکٹر اوج کے دوستوں میں سے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر اوج کی سوچ اور فکر میں ارتقا تھا۔وہ اپنی علمی زندگی میں بڑے تنوع سے گزرے۔ وہ بنیادی طور پر ایک روایتی مذہبی عالم تھے اور انھوں نے قرآن پر براہ راست غور و فکر کرتے ہوئے اپنے کچھ نتائج فکر مرتب کیے تھے۔‘

خورشید ندیم کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر شکیل کے ہاں مکالمے کی بہت اہمیت تھی۔ انھوں نے چند ماہ قبل کراچی میں سیرت کانفرنس بھی منعقد کروائی تھی جس میں ہر مکتبۂ فکر کے لوگ موجود تھے۔‘

’وہ اپنی رائے کو کبھی حرف آخر کی طرح پیش نہیں کرتے تھے بلکہ وہ بحث کو آگے بڑھاتے تھے۔کبھی انہوں نے اس کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔اگر ان کی بات کبھی صحیح نہ بھی ہوتی تو رجوع کرنے پر بھی آمادہ رہتے تھے۔‘

ڈاکٹر شکیل اوج دو طرفہ ابلاغ کے قائل تھے اور یہی ان کی تعلیم کا بھی اسلوب تھا۔

انیق احمد کے مطابق وہ بہت اچھے استاد تھے۔ وہ اپنے طلبا کی صلاحیتوں کو آگے بڑھاتے تھے اور سوچ کو وسعت دیتے تھے اور شاید یہ ہی تو ان کا جرم تھا۔

اسی بارے میں