گر ممکن ہے تو بتایا جاوے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پانچویں صوبے بہاول پور کو پنجاب کی بلی کھا گئی

کیا اچھا زمانہ تھا جب انگریز آرام سے رنجیت سنگھ کے پنجاب کا ایک حصہ الگ کر کے شمال مغربی سرحدی صوبہ بنا لیتا تھا اور پھر اسی پنجاب کے دو مزید بخرے کرکے دو آزاد ملکوں کو دان کر دیتا تھا۔ تالپوروں کے سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی میں غائب کر کے اٹھاسی برس بعد پھر اپنے ہیٹ میں سے کبوتر کی طرح نکال لیتا تھا اور متحدہ بنگال کو کاٹ کر پھر جوڑ کر پھر کاٹ لیتا تھا۔

گورے کی خوبی یہ تھی کہ اس نے ہاتھ کی صفائی کا فن حکیمی نسخے کی طرح اپنے کنے نہیں رکھا بلکہ کالے ورثا کو سکھال کے گیا اور پھر کالے شاگردوں نے اس فن میں وہ وہ ہاتھ دکھائے کہ استاد گورا بھی ششدر رہ گیا۔

مثلاً پاکستان بننے کے بعد کراچی سندھ کے نقشے سے غائب ہو کر کئی سال بعد پھر ابھر آیا۔ پھر انیس سو پچپن کے کسی ایک دن مداریوں کے کنسورشیم نے چار صوبے، وفاق کے زیرِ انتظام علاقے اور کاغذی خودمختار ریاستیں ہیٹ میں ڈال کر اچھے سے ہلایا اور انہیں ایک پھڑ پھڑاتا ون یونٹی مغربی پاکستانی کبوتر بنا کے انگشت بہ دنداں مجمع پے چھوڑ دیا۔ پندرہ برس بعد یہی کبوتر دوبارہ ڈال کر جو نکالا تو ہیٹ میں سے تین پرانوں کے ساتھ ایک نیا صوبہ بلوچستان بھی برآمد ہوگیا۔ پانچویں صوبے بہاول پور کو پنجاب کی بلی کھا گئی۔ یہ تماشا جب چھٹے صوبے مشرقی پاکستان نے دیکھا تو عددی اکثریت کے باوجود گھبرا سا گیا اور سر پر پاؤں رکھ کے دوڑ لگا دی۔

پر اب مداری بوڑھا ہو چکا ہے اور اس میں ویسا دم خم نہیں رہا۔ ہیٹ بھی تو خستہ ہوگیا ہے اور صوبے بھی اس قدر بدتمیز کہ نہ بڑوں کی عزت نہ چھوٹوں کا پاس لحاظ۔ پھر بھی تماشائیوں کے پرزور اصرار پر مداری وفاقی اکھاڑ پچھاڑ کا کرتب دکھانا بھی چاہے تو کیسے دکھائے۔ اس نے تو خود انیس سو تہتر کے آئین کی بھاری زنجیر میں ٹخنے پھنسا رکھے ہیں۔

بھلا کس لقمان نے کہا تھا کہ موجودہ صوبوں کی حدود میں تبدیلی اور نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے آرٹیکل دو سو انتالیس آئین میں ڈال دو۔ جو لوگ نئے صوبوں کا مطالبہ کررہے ہیں اور جو مخالفت کررہے ہیں کیا دونوں نے آرٹیکل دو سو انتالیس بغور پڑھا ہے؟

پاکستان کا آئین اس وقت چار وفاقی یونٹ تسلیم کرتا ہے۔ لہذا نیا صوبہ یا وفاقی یونٹ بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی اور ترمیم کا طریقہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنے الگ الگ اجلاسوں میں دو تہائی اکثریت سے نیا صوبہ بنانے کی قرار داد منظور کریں گے۔ اس کے بعد جس صوبے کی کانٹ چھانٹ مقصود ہے اس کی اسمبلی اپنے علاقے میں نیا صوبہ یا صوبے بنانے کی قرار داد دو تہائی اکثریت سے منظور کرے گی۔ جب تینوں ایوان اس نکتے پر متفق ہوجاویں گے تب یہ قرار داد آئینی ترمیم کے بل کی شکل میں صدرِ مملکت کے پاس دستخط کے لئے بھیجی جاوے گی اور صدارتی دستخط ہونے کے بعد نیا صوبہ یا صوبے وجود میں آ جائیں گے۔ پڑھنے اور سننے میں کیسا سیدھا اور آسان طریقہ ہے!

پر آج کے پاکستان میں نسلی، مذہبی، علاقائی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی وسیع القلبی کی جو شکل ہے، کیا اس کے ہوتے آئین کے آرٹیکل دو سو انتالیس کے تحت کوئی نیا صوبہ یا صوبے ہنسی خوشی وجود میں آ سکیں گے؟

گر ممکن ہے تو بتایا جائے۔ نہیں ہے تو،

پھر یہ سارا کھیل تماشہ کس کے لیے اور کیوں صاحب؟

اسی بارے میں