مسلکی تصورات دہشت گردی کا سبب کیوں ؟

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے 18 کروڑ مسلمانوں کی آبادی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بھارت کے 18 کروڑ مسلمانوں کی آبادی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے

جمعے کو ایک بار پھر دہشت گردوں نے اپنے مذہبی نظریے کی بنیاد بر پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل عام کیا۔

کئی برس سے پاکستان سے شیعہ مسلک کی مساجد، مزاروں اور محرم کے جلوسوں پر سنی دہشت گردوں کے حملوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔

بھارت کے مسلمان مسلکی اور مذہبی اقلیتوں پر ان دہشت گردی کے حملوں کو بڑے ابہام کے ساتھ دیکھتے رہے ہیں۔

بھارت کے 18 کروڑ مسلمانوں کی آبادی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے اور بیشتر مقامات پر وہ ملی جلی آبادیوں میں رہتے آئے ہیں۔

ملک میں سنّی مسلک کے مسلمانوں کی اکثریت ہے اور پاکستان کی طرح شیعہ یہاں بھی اقلیت میں ہیں۔ ماضی میں یہاں بھی کبھی کبھی محرم کے جلوسوں کے دوران دونوں مسلم فرقوں میں کشیدگی پیدا ہو جاتی اور کبھی کبھی تو فساد بھی پھوٹ پڑتے تھے۔

لکھنؤ میں ممکنہ ٹکراؤ کو روکنے کے لیے کئی برس سے دونوں فرقوں کے جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔ یہ بھی ایک پہلو ہے کہ ‏محرم کے دوران عزا داری میں پورے ملک میں شیعوں سے زیادہ ‏سنّی مسلمانوں کی شرکت ہوتی ہے۔

بھارت میں سّنی مسلمانوں کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی مسلک سے وابستہ ہے اور یہ دونوں مکاتب ایک دوسرے کے اس حد تک خلاف ہیں کہ اکثر ایک دوسرے کو غیر مسلم تک قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی مرگ اور شادی بیاہ میں بھی شریک نہیں ہوتے۔

ان اداروں کے فتووں اور علماء کی تقاریر اور تحریروں سے شعیہ مسلک سے ان کی نفرتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

عام مسلمان ان فتنہ پرور مذہبی اور مسلکی نفرتوں کے چنگل میں ابھی تک نہیں پھنس سکا ہے۔ اس کی توجہ نفرت کی تبلیغ سننے کی بجائے روزی روٹی اور موجودہ دنیا کی حقیقتوں پر مرکوز رہی ہے۔

بھارت دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں شاید سب سے زیادہ مذاہب وجود میں آئے۔ لوگ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ مذہب کی کوئی ایک قطعی تشریح نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے یہاں ہندو مذہب کے کئی روپ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

بھارت دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں شاید سب سے زیادہ مذاہب وجود میں آئے

اس میں مورتی پوجنے والے بھی ہیں اور مورتی کے مخالف بھی اور دہریے بھی۔ جین مذہب میں شویتامبر بھی ہیں اور دیمگامبر بھی۔ گوتم بدھ ایک تھے لیکن ان کے پیروکار مہایان، ہینیان اور وجریان میں منقسم ہیں۔ سکھوں میں اکالی بھی ہیں اور نرنکاری بھی۔ان میں کبھی ٹکرواؤ نہیں ہوتا۔ اسے مذہب کی خوبصورتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہاں ایسے بھی لاکھوں مسلمان ہیں جن کے نام رام اور لکشمن ہیں اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور پوجا بھی کرتے ہیں۔ یہاں احمدی بھی مسلمان ہیں کیونکہ وہ خود کو مسلمان مانتے ہیں اور انھیں اپنے مذہبی تصورات کے لیے ملک کے آئین کا تحفظ حاصل ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے صدر براک اوباما دہلی سے جاتے جاتے یہ یاد دلا گئے کہ جو ریاست اپنے شہریوں میں مذہب کے نام پر تفریق برتتی ہے اور جو قوم مذہبی نفرت کو ہوا دیتی ہے وہ خود بکھر جاتی ہے۔

مذہبی دہشت گردی اور تفریق تب ہی پنپتی ہے جب ریاست کسی مخصوص مذہب یا مسلک کی پشت پناہی کرنے لگتی ہے۔